Tuesday , August 21 2018
Home / شہر کی خبریں / وقف جائیدادوں کی حفاظت کیلئے کمشنریٹ کا قیام ضروری

وقف جائیدادوں کی حفاظت کیلئے کمشنریٹ کا قیام ضروری

بوڈاپل کی قطب شاہی مسجد کی اراضی پر قبضہ، سابق رکن پارلیمان عزیز پاشاہ کادورہ

حیدرآباد۔13مارچ(سیاست نیوز) شہر کے مضافاتی علاقے بوڈاپل کی مسجد قطب شاہی کی وقف اراضی پر غیرمجاز قبضے کی اطلاع ملتے ہی سابق رکن پارلیمنٹ راجیہ سبھا و قومی صدر انصاف جناب سید عزیز پاشاہ نے مقام واقعہ پہنچ کر مقامی عوام سے ملاقات کی اور وقف جائیداد پر قبضے کے متعلق جانکاری حاصل کی ۔ مقامی لوگوں نے انہیں بتایا کہ مسجد قطب شاہی بوڈاپل کی وقف اراضی جس کا سروے نمبر 150ہے اور اس کے تحت 18.32گنٹہ وقف اراضی ہے مگر لینڈگرابرس مسجد کی وقف قیمتی اراضی پر کئی سالوں سے بری نظر لگائے ہوئے ہیں۔مقامی لوگوں کے بموجب وقف بورڈ او رلینڈگرابرس کے درمیان تین سالوں تک ٹریبونل میںکیس چلا اور فیصلہ وقف بورڈ کے حق میںآیامگر وقف بورڈ کی جانب سے ہائی کورٹ میںکیوٹ دائر نہیں کی گئی جس کی وجہہ سے ہائی کورٹ میں فرضی سروے نمبرات کے ساتھ قبضہ دار رجوع ہوکر ٹریبونل کے فیصلے پرچھ ماہ تک توقف حاصل کرلیا۔ مقامی لوگوں نے مسجد قطب شاہی بوڈاپل کی قیمتی وقف اراضی کی حفاظت میںوقف عملے کو پوری طرح ناکام قراردیتے ہوئے لینڈ گرابرس سے سازباز کا بھی الزام لگایا۔ مسجد قطب شاہی بوڈاپل کی موقوفہ اراضی کے گزٹ نوٹیفکیشن اور محکمہ مال کے ساتھ مشترکہ سروے سے بات صاف ہے کہ مسجد بوڈاپل کے تحت 18.32گنٹہ وقف اراضی ہے جس پر غیرمجاز قبضوں کی مسلسل کوششیں کی جارہی ہیں اور لینڈگرابرس اس میں بڑی حدتک کامیاب بھی ہورہے ہیں۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ پولیس کی نگرانی میںلینڈگرابرس وقف اراضی پر قبضہ کرکے تعمیری سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔ مقامی لوگوں سے جانکاری حاصل کرنے کے بعد جناب سیدعزیز پاشاہ نے سی ای او وقف بورڈ اور متعلقہ عہدیداروں سے ربط قائم کرنے کی کوشش کی اورمتعلقہ اے سی پی سے بھی اس ضمن میںبات کی اور بتایا کہ وقف اراضی پر غیرمجاز قبضوں کی کوشش کو ناکا م کرنے کے بجائے پولیس لینڈگرابرس کی پشت پناہی کررہی ہے ۔ بعدازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے جناب سیدعزیز پاشاہ نے کہاکہ وقف جائیدادوں کی حفاظت کے متعلق حکومت کے قول او رفعل میں بڑا تضاد ہے۔ انہو ںنے کہاکہ چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو نے اقتدار حاصل کرنے سے قبل وقف جائیدادوں کی حفاظت کے بلند بانگ دعوے کئے تھے اور جب اقتدار حاصل ہوگیا اس کے بعد ایسے لوگوں کووقف امور کی ذمہ داری تفویض کی جنھیںوقف جائیدادوں کی حفاظت‘ بازیابی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ بوڈاپل کی مسجد قطب شاہی کا معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ شہر او راس کے مضافات میں وقف اراضیات پر جاری قبضوں کو روکنے حکومت ہے تو پھر اضلاع کی وقف جائیدادوں کا کیاحال ہورہا ہوگا۔جناب سیدعزیز پاشاہ نے چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو سے مطالبہ کیا کہ وہ وقف جائیدادوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے اپنے وعدے کے مطابق وقف کمشنریٹ کا عاجلانہ قیام عمل میںلائے۔انہوں نے مسجد قطب شاہی بوڈاپل کی وقف اراضی کی حفاظت کے لئے وقف بورڈ کے ذمہ داران سے حرکت میںآنے کا بھی مطالبہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT