Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / وقف جائیدادوں کی صیانت کی تحریکات میں اخلاص ضروری

وقف جائیدادوں کی صیانت کی تحریکات میں اخلاص ضروری

مخصوص سیاسی جماعت کے اشاروں پر اوقافی جائیدادیں ذاتی ملکیت میں تبدیل، گول میز کانفرنس سے مختلف شخصیتوں کا خطاب

حیدرآباد۔12مارچ(سیاست نیوز) تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ ریاست کے محکمہ اوقاف میں وہی عہدیدار مستقل طور پر کام کرسکتے ہیںجو دیانت داری کے ساتھ صیانت اوقاف کے لئے چلائی جارہی تحریکات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے ایک مخصوص سیاسی جماعت کے اشاروں پر اپنے کام کو ترجیح دیتے ہیں اور اوقافی جائیدادوں کو ذاتی ملکیت میںتبدیل کرنے والے گروہ کی حمایت کرتے ہیں۔ وقف پراپرٹیز پروٹکشن سل اور مسلم اسوسیشن جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام رویندر بھارتی میں منعقدہ ایک گول میز کانفرنس سے خطاب کے دوران کارگذار صدر سنی علماء بورڈ مولانا حامد حسین شطاری نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ جنرل سکریٹری ڈبیلو پی پی سی وصدر مسلم اسوسیشن جے اے سی جناب نعیم اللہ شریف نے نگرانی کی۔ ممتازمورخ صدر وائس آف تلنگانہ کیپٹن پانڈو رنگا ریڈی‘ کوکنونیر 1969تلنگانہ مومنٹ فاونڈرس فورم ڈاکٹر کولیور چرنجیوی کے علاوہ پروفیسر انور خان ‘ جناب خالد رسول خان ‘بھاسکر بینی‘ جناب محمد شمس الدین احمد‘جناب مجاہد ہاشمی کے علاوہ دیگر نے بھی خطاب کیا۔ جناب مرزا یوسف بیگ نے کارروائی چلائی۔مولانا حامد حسین شطاری نے کہاکہ دیانت دار اور اوقافی جائیدادوں کی حفاظت اور بازیابی کے لئے سنجیدگی کے ساتھ کام کرنے والے عہدیداروںکو نہ تو ریاست کے حکمران برداشت کرسکتے ہیںاور نہ ہی اوقافی جائیدادوں کو ذاتی ملکیت میںتبدیل کرنے والوں کی سرپرستی کرنے والے قائدین کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ کوئی بھی اوقافی جائیدادوں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔مولانا حامد حسین شطاری نے وقف جائیدادوں کی صیانت کے تحریکات کی کامیابی کے لئے اخلاص کو ضروری قراردیا ۔ وقف جائیدادوں کے نام پر تحریکات سے حاصل شہرت کا بیجا استعمال کرنا گویا مصائب زدہ مسلمانوں کودھوکہ دینے کے مترادف ہوگا۔ کیپٹن پانڈو رنگاریڈی نے آزاد ہندوستان کی تاریخ سے لیکر اب تک کہ تمام اوقافی جائیدادوں کی تفصیلات پر مشتمل ایک دستاویزات کی تیاری ضروری ہے ۔ مذکورہ دستاویزکو عصری بناتے ہوئے ویب سائیٹ پر اس کی اشاعت عمل میں لائی جانی چاہئے۔ ڈاکٹر کولیور چرنجیوی نے کہاکہ قطب شاہی اور آصف جاہی دور حکومت میں ہندو اور عیسائی قبرستانوں اور انڈومنٹ اراضیات کی صیانت کے لئے ایک علیحدہ قانون تشکیل دیا تھا اور ہندو قبرستانوں کے بشمول عیسائی انڈومنٹ اراضیات پر غیرمجاز قبضہ یا پھر اس میں کسی قسم کی تغلب کی کارروائیوں کا ایک واقعہ بھی پیش نہیںآیا مگر جمہوری دور حکومت میں مسلم قبرستانوں اور اوقافی جائیدادوں پر غیرمجاز قبضوں کے بے شمار واقعات سامنے آرہے ہیں۔ ان واقعات میںجہاں مسلمانوں کی تعلیمی او رمعاشی پسماندگی وجہہ ہے وہیں سیاسی جماعتوں او رمحکمہ اوقاف کے عہدیداروں کی ملی بھگت سے روبعمل لانے والی سازشیں بھی اوقافی جائیدادوں کی تباہی کی اصل وجہہ ہیں۔اپنے صدارتی خطاب میں جناب نعیم اللہ شریف نے اوقافی جائیدادوں کے ساتھ کھلواڑ پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے نئی ریاست تلنگانہ کی تشکیل اور اٹھارہ ماہ کی نئی حکومت کی کارکردگی کو قابلِ تعریف قراردیتے ہوئے تعلیم او رصحت کے میدان میںحکومت تلنگانہ کی جانب سے اٹھائے جارہے اقدامات کی ستائش کی مگر اوقافی جائیدادوں کی صیانت میں لینڈ گرابرس کے تئیں حکومت کے نرم رویہ کو قابلِ افسوس بھی قراردیا۔انہوں نے منشائے وقف کی خلاف ورزی اور وقف جائیدادوں پر دھڑلے کے ساتھ جاری قبضوں کو افسوس ناک قراردیتے ہوئے کہاکہ نئی حکومت سے وقف جائیدادوں کی صیانت کے متعلق کافی امیدیں ریاست تلنگانہ کے مسلمانو ںکو وابستہ تھیں مگر حالیہ عرصے میںپیش آئے واقعات نے مسلمانوں کی امیدوں پر پانی پھیردیا ہے۔ جناب خالد رسول خان نے محکمہ اوقاف میں ایک مخصوص سیاسی جماعت کی بڑھتی اجارہ داری کو ریاست تلنگانہ کی اوقافی جائیدادوں کی تباہی کا اصل ذمہ دار قراردیا۔ریاست تلنگانہ کے مختلف اضلاع کے مندوبین نے اوقافی جائیدادوں کی صیانت میںجاری تحریکوں میں شدت پیدا کرنے پر زوردیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT