Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / وقف جائیدادوں کے تحفظ پر اسپیشل آفیسر وقف بورڈ کی خصوصی توجہ

وقف جائیدادوں کے تحفظ پر اسپیشل آفیسر وقف بورڈ کی خصوصی توجہ

غیرمجاز قابضین کیخلاف کارروائی کی ہدایت، محمد جلال الدین اکبر کا ڈسٹرکٹ عہدیداروں سے ربط

غیرمجاز قابضین کیخلاف کارروائی کی ہدایت، محمد جلال الدین اکبر کا ڈسٹرکٹ عہدیداروں سے ربط
حیدرآباد۔/18اکٹوبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ، قابضین کے خلاف کارروائی اور وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ سے متعلق اُمور پر خصوصی توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔ اس سلسلہ میں اسپیشل آفیسر وقف بورڈ جناب محمد جلال الدین اکبر نے آج تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس، انسپکٹر، آڈیٹرس اور وقف بورڈ کے عہدیداروں کا مشترکہ اجلاس طلب کیا جس میں وقف ایکٹ کے مطابق غیر مجاز قابضین کے خلاف کارروائی کے طریقہ کار سے واقف کرایا گیا۔ انہوں نے اوقافی جائیدادوں سے متعلق کمپیوٹرائزیشن اور عدالتوں میں زیر دوران مقدمات کی موثر پیروی کے سلسلہ میں بھی عہدیداروں کو ہدایات جاری کیں۔ جناب جلال الدین اکبر نے واضح کردیا کہ اوقافی جائیدادوں کے قابضین سے ملی بھگت یا ان کے ساتھ کسی طرح کی نرمی کی اطلاع پر وقف بورڈ کے ملازمین کے خلاف بھی سخت کارروائی سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے عہدیداروں اور ملازمین سے کہا کہ اوقافی جائیدادوں کا تحفظ اور منشائے وقف کے تحت ان کی آمدنی کا استعمال صرف ان کی ذمہ داری اور ڈیوٹی نہیں بلکہ کار خیر بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوقافی جائیدادیں اللہ کی امانت ہیں لہذا ان کے تحفظ کی مساعی کرنا نیکی سے کم نہیں۔ جناب جلال الدین اکبر نے اجلاس سے قبل عہدیداروں کے ساتھ اقلیتی کمشنریٹ کے تحت موجود اسکیمات اور ان پر عمل آوری کا جائزہ لیا۔ انہوں نے اوقافی جائیدادوں کی تفصیلات کے کمپیوٹرائزیشن سے متعلق ومشی پراجکٹ کی پیشرفت کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے عہدیداروں پر واضح کیا کہ وقف ایکٹ کی دفعہ(A) 52 کے تحت غیر مجاز قابضین کے خلاف فوجداری کارروائی کی جاسکتی ہے۔ اس سلسلہ میں حکام کو دیانتداری کے ساتھ کارروائی کرنی چاہیئے۔ انہوں نے حالیہ عرصہ میں حیدرآباد اور کرنول کے دو اوقافی جائیدادوں کے سلسلہ میں غیر مجاز قابضین کے خلاف کی گئی کارروائی کا حوالہ دیا۔ انہوں نے بورڈ کے لاء آفیسر اور ان کے ماتحت عہدیداروں کے ساتھ عدالتوں میں زیر دوران مقدمات اور ان میں جوابی حلف نامہ کے ادخال کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے کہا کہ بروقت جوابی حلف نامہ داخل نہ کرنے کے سبب اوقافی مقدمات طوالت اختیار کررہے ہیں اور قابضین کو فائدہ ہورہا ہے۔ جناب جلال الدین اکبر نے کہا کہ عہدیدار صرف یہ تصور نہ کریں کہ وہ وقف بورڈ میں ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں بلکہ ان میں یہ جذبہ ہونا چاہیئے کہ وہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے ذریعہ ملت اسلامیہ کی خدمت کررہے ہیں۔ انہوں نے ضلع انسپکٹرس کو اپنے رویہ میں سدھار کا مشورہ دیا اور کہا کہ بہتر کردار اور عوام سے خوش اخلاقی کے ذریعہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں عوامی مدد لی جاسکتی ہے۔ انہوں نے وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ کے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا اور اس سلسلہ میں کریم نگر کے ایک عہدیدار کی مثال دی جنہوں نے تین ماہ کے عرصہ میں 5اہم جائیدادوں کو نہ صرف راست انتظام میں لیا ہے بلکہ کرایہ داروں سے 10لاکھ روپئے وصول کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیگر عہدیداروں کو بھی ان کی تقلید کرتے ہوئے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیئے۔ اسپیشل آفیسر نے کہا کہ وہ وقتاً فوقتاً اس طرح کے اجلاس طلب کرتے ہوئے کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔

TOPPOPULARRECENT