Wednesday , August 15 2018
Home / شہر کی خبریں / وقف ملگیات کے قابض’ سیٹھ ‘ کی آؤ بھگت

وقف ملگیات کے قابض’ سیٹھ ‘ کی آؤ بھگت

صدر نشین محمد سلیم حیرت زدہ،عہدیداروں کوسیٹھ کے مفادات کی فکر
حیدرآباد۔/6 مارچ، ( سیاست نیوز) وقف بورڈ کے عہدیداروں کی ذمہ داری اور ان کی ترجیح اوقافی جائیدادوں کا تحفظ ہونا چاہیئے برخلاف اس کے اگر بورڈ کے عہدیدار قابضین کی آؤ بھگت اور ان کے مفادات کی تکمیل کی کوشش کریں تو یقیناً اسے بورڈ کی ابتر کارکردگی کہا جائیگا۔ وقف بورڈ کے عہدیداروں اور ناجائز قابضین اور وقف مافیا کی ملی بھگت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، اس کا مظاہرہ ایک سے زائد مرتبہ ہوچکا ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم جو اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور آمدنی میں اضافہ کیلئے سنجیدہ ہیں وہ آج اس وقت حیرت میں پڑ گئے جب ان کی موجودگی میں بورڈ کے عہدیدار وقف ملگیات کے قابض شخص کو بار بار ’ سیٹھ ‘ کہہ کر نہ صرف مخاطب کررہے تھے بلکہ ان کی خاطر مدارت کی جارہی تھی۔ صدرنشین وقف بورڈ نے نبی خانہ مولوی اکبر میں 30 ملگیات اپنے قبضہ میں رکھنے والے گلاب اگروال کو وقف بورڈ طلب کیا تھا۔ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ جیسے ہی صدرنشین کے پاس پہنچے متعلقہ علاقہ کے وقف انسپکٹر آڈیٹر، رینٹ انسپکٹر اور دیگر عہدیدار انہیں ’ سیٹھ ‘ کہہ کر مخاطب کررہے تھے۔ ایک مرحلہ پر اگروال نے کہا کہ وقف بورڈ کو تخلیہ کا اختیار نہیں ہے جس پر ’ سیٹھ ‘ کہنے والے عہدیداروں نے ان کی حامی بھری اور کہا کہ تخلیہ کی کارروائی سے قبل نوٹس دینی پڑیگی۔ جتنی دیر بھی اگروال وقف بورڈ کے دفتر میں موجود رہے یہ عہدیدار سیٹھ کہہ کر مخاطب کرتے رہے اور روانگی کے وقت بھی بصد احترام وداع کیا۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ وقف بورڈ کے عہدیداروں کے پاس صدرنشین سے زیادہ اس قابض کی اہمیت ہے جو کہ پٹیل مارکٹ کا تاجر ہے۔ عہدیداروں کے رویہ سے ناراض صدرنشین محمد سلیم نے آخر کار سوال کرلیا کہ اگروال سے تم لوگوں کو کیا ملتا ہے جو اسے سیٹھ کہہ کر مخاطب کررہے تھے۔ اگروال سے زیادہ تو صدرنشین وقف بورڈ سیٹھ کہے جانے کے مستحق ہیں کیونکہ ان کے کاروبار مذکورہ شخص سے زیادہ بھی ہیں لیکن چونکہ اگروال عہدیداروں کے مفادات کی تکمیل کرتے ہوئے 20 سال سے زائد عرصہ سے وقف ملگیات پر قابض ہے لہذا عہدیدار بھی اسی کی ہاں میں ہاں ملارہے ہیں۔ بورڈ میں جب اس طرح کے عہدیدار ہوں تو پھر جائیدادوں کا اللہ ہی حافظ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدرنشین وقف بورڈ انسپکٹر آڈیٹرس اور عہدیداروں کے وقفہ وقفہ سے تبادلے کے حق میں ہیں۔ لیکن سیاسی دباؤ کے ذریعہ طویل عرصہ سے ایک ہی مقام پر برقرار ہیں۔ اس واقعہ کے بعد شہر کے انسپکٹر آڈیٹرس اور رینٹ انسپکٹرس کے تبادلے ناگزیر سمجھے جارہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT