ولادیمیر پوٹن کو یوکرین میں مستقل جنگ بندی کی اُمید

ماسکو۔ 7؍دسمبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ روس کے صدر ولادی میر پوتن نے ماسکو میں اپنے فرانسسی ہم منصب سے بات چیت کے بعد امید ظاہر کی ہے کہ یوکرین میں مستقل جنگ بندی پر جلد اتفاق ہو جائے گا۔ فرانس کے صدر فرنسوا اولاند پہلے مغربی رہنما ہیں جنھوں نے یوکرین میں اس سال کے اوائل میں کشیدگی شروع نے کے بعد روس کا دورہ کیا۔ یوکرین میں کشیدگی میں شامل طرف

ماسکو۔ 7؍دسمبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ روس کے صدر ولادی میر پوتن نے ماسکو میں اپنے فرانسسی ہم منصب سے بات چیت کے بعد امید ظاہر کی ہے کہ یوکرین میں مستقل جنگ بندی پر جلد اتفاق ہو جائے گا۔ فرانس کے صدر فرنسوا اولاند پہلے مغربی رہنما ہیں جنھوں نے یوکرین میں اس سال کے اوائل میں کشیدگی شروع نے کے بعد روس کا دورہ کیا۔ یوکرین میں کشیدگی میں شامل طرفین کے درمیان ستمبر میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا لیکن اس کی مسلسل خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ روس مغربی ممالک کی جانب سے ان پر لگائی گئی پابندیاں کی وجہ سے اشتعال میں ہے۔ روس پر یہ پابندیاں مشرقی یوکرین میں روس نواز باغیوں کی حمایت کرنے پر لگائی گئی تھیں۔فرنسواں اولاند نے قازقستان کے دورے سے واپس آتے ہوئے ماسکو کے ونیوکوف ایئرپورٹ کے سفارتی ٹرمینل میں صدر ولادی میر پوتن سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات صدر فرانس کے پروگرام میں شامل نہیں تھی۔ ولادی میر پوتن نے کہا کہ ان کے درمیان یوکرین میں تشدد ختم کرنے کے لیے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ’ یہ ایک المناک صورتِ حال ہے۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اب بھی لوگوں کو ہلاک کیا جا رہا ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’لیکن مجھے امید ہے کہ حتمی جنگ بندی کے لیے جلد ہی کوئی فیصلہ کر لیا جائے گا۔ ہم نے اس پر صدر فرانس کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی ہے۔‘

صدر فرانس فرنسوا اولاند نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ پانچ ستمبر کو بلاروس کے شہر منسک میں ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری کریں۔ انھوں نے کہا کہ ’فرانس کا کردار یہ کہ مسائل کا حل تلاش کرے اور اسے بڑھنے سے روکے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں آج صدر پوتن کے ساتھ مل کر حالات کو معمول پر لانے کے لیے پیغام دینا چاہتا تھا اور آج یہ پیغام دینا ممکن ہے۔‘ ولادمیر پوتن نے بعد میں صحافیوں کو بتایا کہ انھوں نے صدر اولاند کے ساتھ فرانس کی جانب سے روس کو فروخت ہونے والی دو جنگی بحری بیڑوں کی فراہمی میں تاخیر پر بات نہیں کی۔ لیکن صدر پوتن نے کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ فرانس وہ رقم واپس کر دے گا جو روس نے اسے بحری بیڑے خریدنے کے لیے دیے دی تھی۔ دریں اثنا یوکرین کے دارالحکومت کیئف میں صدر پیٹرو پوروشینکو نے کہا کہ جنگ پر عمل درآمد کرنے کے لیے منگل کو تازہ بات چیت کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کے کہا کہ طرفین کے درمیان بلاروس میں ہونے والے اس ملاقات کیدوران جنگ بندی کے معاہدے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے نظام الاوقات ترتیب دیا جائے گا۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق یوکرین میں اپریل میں شروع ہونے والی کشیدگی کے دوران اب تک 4300 افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو گئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT