Wednesday , June 20 2018
Home / مذہبی صفحہ / ولایت ِمال

ولایت ِمال

سوال : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بکر کا انتقال ہوا اور ورثاء میں دو بیویاں ، تین نابالغ لڑکے اور آٹھ نابالغہ لڑکیوں کے علاوہ مرحوم کے والدین موجود ہیں ۔ ایسی صورت میں ان نابالغ لڑکے اور لڑکیوں کے مال کی ولایت شرعاً کس کو حاصل ہے ؟

سوال : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بکر کا انتقال ہوا اور ورثاء میں دو بیویاں ، تین نابالغ لڑکے اور آٹھ نابالغہ لڑکیوں کے علاوہ مرحوم کے والدین موجود ہیں ۔
ایسی صورت میں ان نابالغ لڑکے اور لڑکیوں کے مال کی ولایت شرعاً کس کو حاصل ہے ؟
جواب : صورت مسئول عنہا میں بکر نے اگر اپنی نابالغ اولاد کے مال کا کسی کو وصی نہیں بنایا تھا تو اِن نابالغ لڑکے اور لڑکیوں کے مال کی ولایت شرعاً دادا ( یعنی بکر کے والد صاحب ) کو حاصل ہے ۔ درالمختار برحاشیہ رد المحتار جلد پنجم ص ۱۱۴ کتاب الماذون میں ہے (و ولیہ أبوہ ثم وصیہ ) بعد موتہ ثم وصی وصیہ کما فی القہستانی من العمادیۃ (ثم) بعدھم (جدہ) الصحیح وان علا۔
طلاق کنائی
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کو انکے شوہر نے ایک خط لکھا جس میں تحریر ہے کہ ’’ اب سے تمہارے اورمیرے درمیان کوئی رشتہ نہیں ہے تم میری بیوی نہیں ہو ، میں تمہارا شوہر نہیں ہوں… تیرے اور میرے درمیان اب کوئی رشتہ ہی نہیں ہے ، بھول جا ۔ جلدی میں طلاق دینے کی کوشش کرتا ہوں ، میری بیوی کیطرح اگر رہنا ہے تو میں جیسا بولتاہوں ویسا کرو ‘‘ آیا ان الفاظ سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟
جواب : صورت مسئول عنہا میں شوہر نے تحریر مذکور الصدر میںجو الفاظ لکھے ہیں وہ کنائی ہیں ۔ اگر ان سے شوہر کی نیت طلاق دینے کی ہو تو طلاق واقع ہوگی ورنہ نہیں عالمگیری جلد اول ص ۳۷۵ میں ہے ولو قال ماأنتِ لی بامرأۃ أو لستُ لکِ بزوج ونوی الطلاق یقع … ولو قال لھا لا نکاح بینی وبینکِ أو قال لم یبق بینی وبینکِ نکاح یقع الطلاق اذا نوی اور ص ۳۷۶ میں ہے ولو قال لم یبق بینی وبینکِ شیٔ ونوی بہ الطلاق لا یقع۔ پس شوہر سے اس کی نیت دریافت کیجاے ، اگر اس کی نیت طلاق کی تھی تو طلاق واقع ہوگی ورنہ تعلقات زوجیت علیٰ حالہ قائم رہیں گے ۔
تجارت میں حصہ
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید یونیٹرسٹ آف انڈیا کے حصص {شیرز} خریدنا چاہتا ہے جنکی قیمت بڑھتی گھٹتی رہتی ہے یعنی تجارتی کاروبار میں نفع نقصان کے سبب کبھی شیرز کی رقم سے بڑھ کر منافعہ ملتا ہے۔ نقصان کی صورت میں اصل رقم بھی گھٹ جاتی ہے اور خریدار حصص کو نقصان برداشت کرنا پڑتاہے۔ ہرسال منافعہ خریدار کو نقد ادا کیا جاتا ہے اور اگر خریدار حصص خواہش کرے تو اس کو حصہ میں شامل کرلیا جاتا ہے۔ یہ سرکاری ادارہ ہے۔
ایسی صورت میں ان شیرز کی خریدی شرعاً جائز ہوگی یا نہیں ؟
جواب : ایک یا کئی افراد کی رقم اور دوسرے شخص کی محنت سے تجارت کیجاتی ہے اورنفع و نقصان میں سب برابر کے شریک رہتے ہیں تو شرعاً اس کو ’’مضاربت‘‘ کہتے ہیں۔ ایسی تجارت کے لئے رقم لگانے میں شرعاً کوئی امر مانع نہیں ہے۔ المضاربۃ فی عقد شرکۃ فی الربح بمال من أحد و عمل من آخر۔ شرح وقایہ جلد ۳ ۔
فقط واﷲ تعالٰی أعلم

TOPPOPULARRECENT