Wednesday , December 19 2018

ولیعہد محمد بن سلمان نے خشوگی کے قتل کا حکم دیا تھا : سی آئی اے

سعودی عرب کی تردید ، امریکی جاسوس ادارے کے اندازے غلط ’ بدستور ہم ایسی کہانیاں سنتے رہیں گے ‘ ، واشنگٹن میں سعودی سفارتخانہ کا بیان

واشنگٹن ۔ 17 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکی جاسوس ادارہ سی آئی اے نے بالآخر یہ نتیجہ اخذ کرلیا ہے کہ سعودی عرب کے انتہائی طاقتور ولیعہد محمد بن سلمان نے ہی ناراض جرنلسٹ جمال خشوگی کو استنبول میں قتل کرنے کا حکم دیا تھا ۔ سی آئی اے کا یہ دعویٰ حکومت سعودی عرب کے اس ادعاء سے متضاد ہے کہ وہ اس (خشوگی کے قتل) میں ملوث نہیں ہے ۔ جمال خشوگی جو حال تک سعودی شاہی خاندان کے منظور نظر تھے اور اقتدار کی راہداریوں میں کافی مقبول و بااثر سمجھے جاتے تھے لیکن کچھ عرصہ سے ولیعہد محمد بن سلمان کے ناقد بن گئے تھے ، خود مسلط جلاوطنی اختیار کرتے ہوئے مستقل رہائشی کی حیثیت سے تقریباً ایک سال سے امریکہ میں سکونت پذیر تھے اور پابندی کے ساتھ واشنگٹن پوسٹ میں کالم لکھا کرتے تھے۔ تاہم حکومت سعودی عرب نے ان کی بیوی بچوں کے بیرونِ ملک سفر پر پابندی عائد کرتے ہوئے خشوگی کو وطن واپس آنے مجبور کرنے یا ان کے خاندان کو امریکہ جانے سے روکنے کی کوشش کی تھی ۔ خشوگی اپنی دوسری شادی کے کاغذات کی تیاری کے ضمن میں /2 اکٹوبر کو استنبول میں واقع سعودی عرب کے قونصل خانہ میں داخل ہوتے ہوئے آخری مرتبہ دیکھے گئے تھے ۔ پھر پراسرار حالات میں لاپتہ ہوگئے ۔ ابتداء میں سعودی عرب نے واقعہ کو ٹالنے کی کوشش کے طور پر خشوگی کی گمشدگی اور موت کے بارے میں وقفہ وقفہ سے متضاد اعلانات کئے۔ بارہا تردید کے بعد بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ اور برہمی کے درمیان سعودی عرب نے بالآخر اعتراف کرلیا تھا کہ خشوگی کا استنبول میں واقع سعودی قونصل خانہ میں قتل کردیا گیا ۔ تاہم الزام عائد کیا گیا کہ بعض افراد کی ’’بدمعاش و شرارت انگیز ‘ کارروائی کے دوران یہ قتل کیا گیا۔ امریکی عہدیداروں نے ایجنسی کے اندازوں اور تخمینوں پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے ۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس قتل کا سعودی عرب کے ولیعہد سے ربط و تعلق رہا ہے ۔ سنٹرل انٹلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کو پتہ چلا ہے کہ 15 سعودی ایجنٹس سرکاری طیاروں سے پرواز کرتے ہوئے استنبول پہونچے تھے اور سعودی قونصل خانہ میں قتل کا ارتکاب کیا ۔ اس واقعہ پر سی آئی اے انکشافات سے اب اندیشہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے انتہائی قریبی حلیف ملک (سعودی عرب) کے ساتھ امریکی تعلقات کو محفوظ و برقرار رکھنے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی کوشش پیچیدگیوں سے دوچار ہوجائے گی ۔ امریکی روزنامہ کے مطابق سی آئی اے کے اس نتیجہ سے اتفاق کرنے والے ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے کہا کہ ’’متفقہ موقف یہی ہے کہ کسی بھی صورت میں ان (ولیعہد محمد بن سلمان) کی جانکاری کے بغیر یہ (قتل) نہیں ہوسکتا تھا ‘‘ ۔ سعودی عرب نے اس قسم کے کسی بھی ربط کی تردید کی ہے ۔ واشنگٹن میں سعودی سفارتخانہ کی ترجمان فاطمہ بعیثین نے کہا کہ سی آئی اے کے دعوے اور اندازے غلط ہیں ۔ ہم بدستور مختلف منطقیں اور کہانیاں سنتے رہیں گے جو ٹھوس بنیادوں پر نظر رکھے بغیر کی جانے والی قیاس آرائیوں پر مشتمل ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق سی آئی اے کا اندازہ ہے کہ طاقتور ولیعہد جو ’ حکمرانِ مجازی‘ بھی سمجھے جاتے ہیں اس بحران کن صورتحال سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ ترکی کی طرف سے سی آئی اے کو فراہم کردہ خفیہ معلومات اور ثبوتوں کے مطابق خشوگی کے قتل کے بعد اس کارروائی میں شامل ایک شخص سعود القحطانی نے جو محمد بن سلمان کے سرکردہ معاونین اور بااعتماد افر اد میں شامل ہے، انہیں (ولیعہد کو) مطلع کیا تھا کہ ’کام ہوچکا ہے ‘۔

TOPPOPULARRECENT