ولیمہ میں وزنی پھولوں کے ہار اٹھانے کرینوں کا استعمال

شادیوں میں بیجا اسراف میں ایک اور خطرناک اضافہ غربت کے دلدل میں پھنسنے سے بچنے کے لیے شادیوں میں سادگی ضروری

شادیوں میں بیجا اسراف میں ایک اور خطرناک اضافہ
غربت کے دلدل میں پھنسنے سے بچنے کے لیے شادیوں میں سادگی ضروری
حیدرآباد ۔ 22 ۔ ستمبر : ہندوستان میں مسلمان تعلیمی ، معاشی ، سیاسی غرض زندگی کے ہر شعبہ میں اپنے دیگر ہم وطنوں سے بہت پیچھے ہیں ۔ لیکن شادی بیاہ میں دھوم دھام ، متعدد ڈشس ( پکوانوں ) سے مہمانوں کی تواضع ، باجے گاجے ، آتشبازی اور دیگر بیجا رسومات و اسراف میں ہم سب سے آگے ہیں ۔ حالانکہ یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ خود ہمارے شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد میں ہزاروں لڑکیاں شادی کی انتظار میں بڑھاپے کی طرف آگے بڑھ رہی ہیں ۔ اپنی بیٹیوں کے چہروں پر چھائی اداسی کو دیکھ کر شائد بوڑھے ماں باپ کا کلیجہ ہر روز کٹتا ہوگا ۔ اپنی بچیوں کی شادیوں کے مسئلہ کو لے کر ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوتے ہوں گے ۔ ہمارے ہی شہر میں ایسے ہزاروں ماں باپ بھی ہوں گے جو شائد سوچتے ہوں گے کہ معاشرہ میں جہیز اور جوڑے گھوڑے کی لعنت نے انہیں مجبور و بے بس کردیا ہے ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اس بارے میں واقفیت کے باوجود معاشرہ بے حسی کی ایسی موٹی چادر کی لپیٹ میں آگیا ہے جہاں اسے غریب ماں باپ کی ان غریب لڑکیوں کی آہ و بکا سنائی نہیں دیتی جو اپنے ساتھ سماج کے ظالمانہ سلوک و مذاق پر کراہ اٹھتی ہیں ۔ مسلم معاشرہ میں جہیز کی لعنت اور بیجا اسراف نے کئی ایک سوال کھڑے کردئیے ہیں ۔ قارئین … اگر آپ سے دریافت کیا جائے کہ آخر کرینوں کا استعمال کیوں ہوتا ہے ؟ تو ہمیں یقین ہے کہ آپ یہی کہیں گے کے وزنی مشینوں کو اٹھانے ، کھائی میں گری گاڑیوں بسوں و موٹروں کو نکالنے ، سڑکوں کے وسط میں حادثات کا شکار لاریوں کی منتقلی اور بلند و بالا کھمبوں پر بلبس نصب کرنے کے لیے Cranes کا استعمال ہوتا ہے ۔ کچھ لوگ یہ بھی جواب دیں گے کہ گنیش وسرجن کے موقع پر کئی ٹن وزنی مورتیوں کو حسین ساگر میں ڈھکیلنے کے لیے بھی کرین استعمال کئے جاتے ہیں ۔ آپ سب کے یہ جوابات بالکل ٹھیک ہیں لیکن آج کل ان کرینس کا وزنی پھولوں کے ہار اٹھانے کے لیے بھی استعمال ہورہا ہے ۔ حال ہی میں شہر کے ایک شادی خانہ میں ہم نے دیکھا کہ ولیمہ مسنونہ کی ایک تقریب میں دولہے پر پھول نچھاور کرنے اور اسے وزنی پھولوں کے ہار پہنانے کے لیے کرین کا استعمال کیا گیا ۔ ہم نے اور ہمارے ایک صحافی دوست نے فوری اس منظر کو اپنے ٹیلی فون کے کیمروں میں قید کرلیا وہاں جس انداز میں آتشبازی کی گئی اور اسراف کا ایک نیا طریقہ متعارف کرایا گیا اس پر سوائے افسوس کے کچھ نہیں کیا جاسکتا ۔ شادیوں اور ولیمہ میں فضول خرچی سے منع کیا گیا ہے ۔ ہمارے نبی کریم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے ’نکاح آسان کرو تاکہ زنا مشکل ہوجائے ‘ ۔ اسی طرح آپ ؐنے ولیمہ میں غرباء کو مدعو نہ کرنے والوں کو وعید سناتے ہوئے فرمایا : برا کھانا ولیمے کا وہ کھانا ہے جس میں ( صرف ) دولت مند بلائے جاتے ہیں اور فقراء کو چھوڑ دیا جاتا ہے ‘ ۔ آج کل مسلمانوں کی شادیوں میں جس طرح سے باجے بجائے جارہے ہیں ، آرکسٹرا کا اہتمام کیا جارہا ہے ۔ دلہے کے اسٹیج پر ناچنے والیوں کو نچایا جارہا ہے اور آتشبازی کی شکل میں ہزاروں روپئے جلائے جارہے ہیں وہ معاشرہ کے لیے اچھی علامتیں نہیں ہیں ۔ خاص طور پر رات دیر گئے تک بیانڈ باجے بجاتے ہوئے جو طوفان بدتمیزی برپا کیا جارہا ہے اس سے بچنے کی ضرورت ہے ۔ کچھ عرصہ قبل راقم الحروف نے دیکھا کہ ایک شادی خانہ میں زبردست باجا بجایا جارہا تھا نوشہ کے بھائی ناچنے میں ایسے محو ہیں کہ انہیں اس بات کا پتہ بھی نہیں چل رہا تھا کہ ان کا اپنا تایا قلب پر حملہ کے باعث تڑپ رہا ہے اور آہستہ آہستہ موت کی جانب بڑھ رہا ہے ۔ باجہ کے باعث کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی کچھ لوگ شادی خانہ کی گیٹ کے باہر موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا نوشہ کے تایا کی حالت کے بارے میں رقص میں محو نوجوانوں کو بتانے کی کوشش کررہے تھے لیکن باجے کی آواز میں ان کی آوازیں دب کر رہ گئی تھیں حد تو یہ ہے کہ رقص کرنے والے نوجوان باجے کی تھاپ کم کرنے پر غیر مہذبانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے باجہ بجانے والے لڑکوں کو تھپڑیں تک رسید کررہے تھے ۔ بہر حال بعد میں معلوم ہوا کہ باجوں کے شور شرابے نے نوشہ کے تایا کی زندگی کے چراغ کو ہی خاموش کردیا ۔ بہر حال مسلم معاشرہ کو جھوٹی شیخی بناوٹ اور حماقت سے گریز کرتے ہوئے اپنی شادیاں سادگی سے انجام دینی چاہئے ۔ دوبدو پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے بہت ہی خوب کہا ہے کہ شادی بیاہ میں بے جا اسراف کو روکنے کی ضرورت ہے اور اس سنگین مسئلہ پر قابو پانے میں علماء اہم رول ادا کرسکتے ہیں ورنہ دولت مندوں کی دیکھا دیکھی متوسط اور غریب طبقہ بھی اس راہ پر چلتے رہنے کا سلسلہ جاری رکھے گا اور ایسے میں وہ سودی قرض کے چنگل میں پھنستا جائے گا ۔۔ [email protected]

TOPPOPULARRECENT