ومبلڈن خطاب زیادہ اہم : پیٹرا کیویتوا

لندن۔ 6 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) چیک جمہوریہ کی ٹینس اسٹار پیٹرا کیویتوا نے کہا کہ دوسری مرتبہ ومبلڈن خطاب جیتنا ایک ایسا احساس ہے اور اس میں جو لطف آرہا ہے وہ عالمی نمبر ایک بننے پر محسوس نہیں کیا جاسکتا ہے۔ کیویتوا نے تین سال تک کوئی اہم خطاب نہ جیتنے کے باوجود شاندار واپسی کرتے ہوئے سیکنڈ گرانڈ سلام ٹائٹل میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے کینیڈا کی ابھرتی اجین بوچارڈ کو کل فائنل میں 6-3 ، 6-0 سے ہرادیا تھا۔ 24 سالہ کیویتوا نے 2011ء میں پہلا ومبلڈن خطاب جیتا تھا اور اس کے بعد سے انہیں کافی مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے اس عرصہ کے دوران کوئی اہم مقابلہ بھی نہیں جیتا تھا، تاہم گرانڈ سلام خطاب دوسری مرتبہ جیت کر پیٹرا کیویتوا نے نہ صرف شاندار واپسی کی بلکہ آئندہ ہفتہ عالمی درجہ بندی میں وہ چوتھے مقام پر پہنچ جائیں گے، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سرینا ولیمس کی جگہ نمبر ایک پوزیشن پر نظر رکھے ہوئے ہیں تو انہوں نے کہا کہ دوسری گرانڈ سلام جیتنے کا ان کا طویل انتظار اب ختم ہوا ہے اور یہی ان کیلئے کافی ہے۔ یقیناً نمبر ایک مقام سب کی خواہش ہوتی ہے لیکن مستقبل میں جو کچھ ہوگا، دیکھا جائے گا۔ فی الحال وہ گرانڈ سلام جیت کر بے حد خوش ہیں۔

TOPPOPULARRECENT