Saturday , December 15 2018

ونود رائے کو برسرعام انکشاف کرنا چاہئے تھا

نئی دہلی۔ 24 اگست (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے سابق سی اے جی ونود رائے کو شدید تنقیدوں کا نشانہ بنایا جنہوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ یو پی اے دور حکومت میں مختلف اسکامس میں ملوث سیاست دانوں کا نام حذف کرنے کے لئے ان پر دباؤ ڈالا گیا تھا۔ کانگریس نے کہا کہ سنسنی خیز بیانات ان وطیرہ بن چکا ہے۔ پارٹی لیڈر منیش تیواری نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں

نئی دہلی۔ 24 اگست (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے سابق سی اے جی ونود رائے کو شدید تنقیدوں کا نشانہ بنایا جنہوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ یو پی اے دور حکومت میں مختلف اسکامس میں ملوث سیاست دانوں کا نام حذف کرنے کے لئے ان پر دباؤ ڈالا گیا تھا۔ کانگریس نے کہا کہ سنسنی خیز بیانات ان وطیرہ بن چکا ہے۔ پارٹی لیڈر منیش تیواری نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر فی الواقعی وہ دباؤ میں تھے یا اُن پر راست ، بالواسطہ بعض سیاست دانوں کے نام حذف کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جارہا تھا تو اُسی وقت وہ برسرعام انکشاف کرسکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ونود رائے نے درحقیقت درحقیقت سنسنی خیز بیانات جاری کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ سبکدوشی کے بعد یہی ان کا ’’پینشن پلان‘‘ ہے کہ ایسا کچھ لکھا جائے جس سے ہر طرف سنسنی پھیلے۔

منیش تیواری نے کہا کہ ونود رائے نے سی اے جی رپورٹس میں مختلف اسکامس کے بارے میں سنسنی خیز اعداد و شمار کا انکشاف کرتے ہوئے پہلے ہی عوام کو حیران کردیا تھا، انہیں اس سارے معاملے پر ازسرنو غور کرنا چاہئے۔ انہیں سب سے پہلے اُن اعداد و شمار کو درست کرنا چاہئے تاکہ ملک یہ جان سکے کہ حقیقی سچائی کیا ہے۔ سینئر این سی پی لیڈر طارق انور نے بھی ونود رائے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی قسم کا دباؤ تھا تو انہیں اسی وقت عوام کے سامنے اس کا انکشاف کرنا چاہئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ سبکدوشی کے بعد اس طرح کی باتیں ہمارے ملک میں ایک فیشن بن چکی ہیں۔ یہ نیا رجحان ہے کہ سبکدوش ہوتے ہی ایک کتاب لکھی جائے اور اس میں سنسنی خیز موضوعات شامل کردیئے جائیں تاکہ کتاب کی زیادہ سے زیادہ فروخت ہوسکے۔ جنتا دل (یو) نے بھی اس انکشاف کے وقت کے بارے میں سوال اُٹھائے۔ پارٹی قائد علی انور نے کہا کہ انہیں پہلے ہی یہ حقیقت بتادینی چاہئے تھی۔ سماج وادی پارٹی لیڈر نریش اگروال نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ونود رائے بی جے پی میں شامل ہونے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے افراد کیخلاف رہنمایانہ خطوط وضع کئے جانے چاہئیں تاکہ وہ اس طرح کے سنسنی خیز بیانات سے گریز کریں۔

TOPPOPULARRECENT