Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / ونود ورما کی گرفتاری کیاسنجیدہ صحافت پر کار ضرب کا حصہ تو نہیں ہے؟

ونود ورما کی گرفتاری کیاسنجیدہ صحافت پر کار ضرب کا حصہ تو نہیں ہے؟

نئی دہلی۔ فری لانس صحافی ورماجو امر اجلا اور بی بی سی ہندی کے لئے کام کیاکرتے تھے جو چھتیس گڑ پولیس نے 4بجے دہلی کے قریب میں ان کے گھر سے گرفتار کرلیا جو مبینہ طور سے چھتیس گڑ کے وزیر کو سیکس سی ڈی کے ذریعہ دھمکانے کی کوشش کررہے تھے۔غازی آباد کی ایک عدالت نے چھتیس گڑ پولیس کو ٹرانزٹ ریمانڈ جاری کیا اور سینئر صحافی کو رائے پور لے جاکر وہں کی عدالت میں پیش کیاگیا۔ورما جوکہ ایڈیٹر گلڈ آف انڈیا کے ایک رکن بھی ہیں نے الزام لگایا ہے کہ انہیں اس لئے نشانہ بنایاجارہا ہے کیونکہ ان کے پاس چھتیس گڑ منسٹر کی ایک سیکس سی ڈی ہے جس کا نام رجیش مونات ہے اور اس کے لئے چھتیس گڑ حکومت مجھ سے ناراض ہے‘‘۔

چھتیس گڑ کے رائے پور ضلع کے پولیس اسٹیشن پنڈاری میں بی جے پی کے اسٹیٹ ورکنگ کمیٹی رکن پرکاش بجاج کی شکایت کے بعد اندرون 12گھنٹے ورما کی گرفتار ی عمل میں ائی۔ ورما پر ائی پی سی کی دفعہ 384اور507کے تحت مقدمہ درج کیاگیا ہے۔پولیس کا دعوی ہے کہ اس نے ورما کے گھر سے کئی سو سی ڈیز‘ ایک لیاپ ٹاپ اور ایک پن ڈرائیو ضبط کیا ہے۔ پولیس کے مطابق ورما کا ’’ ارادہ ‘‘ تھاکہ وہ یہ ان قابل اعتراض سی ڈیز کو ولوگوں میں بانٹنا چاہتا تھا ‘ جس کے متعلق پولیس نے میڈیاکو بتانے سے بھی گریز کیا۔رائے پور کے انسپکٹر جنرل آف پولیس پردیب گپتا نے جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران میڈیاسے کہاکہ ’’ ایک روز قبل 2بجے ایف ائی آر در ج کی گئی ۔

ایف ائی آر میں ونود ورما کو ملزم نہیں بنایاگیا ہے۔ مگر ورما کے پاس سے سی ڈیز ضرور برآمد ہوئے‘‘۔ مذکورہ سی ڈیز سے کسی شخص کی شبہہ کو بگاڑ سکتی ہے جس کی وجہہ سے فوری گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔ پرکاش راج نے شکایت کرتے ہوئے دعوی کیاتھا کہ اس شخص نے لینڈلائن فون سے ان کے پاس کو کال کرکے دھمکایاتھا کہ وہ یہ قابل اعتراض سی ڈی جاری کرنے جارہا ہے۔ کال کی جانچ کی گئی تو وہ دہلی کی ایک دوکان کاتھا جہا ں پر دھاوا کیاگیا’ ورما نے دوبارہ سی ڈیز کی پرنٹ کی بات بھی کہی ہے‘‘۔ گپتا نے کہاکہ ہمیں معلوم نہیں ہے وہ فون کال ورما نے کیاتھا یاکسی او رنے مگر تحقیقات جاری ہے‘‘۔

ورماایڈیٹرس گلڈ کی اس ٹیم کی رکن تھے جو پچھلے سال چھتیس گڑ کا دورہ کرتے ہوئے وہاں پر صحافیوں کودھمکائے جانے کے واقعات کی جانچ کررہے تھی۔ حقائق سے آگاہی رپورٹ کے مطابق ورما نے پچھلے سال رپورٹ کو دوبارہ تحریر کرتے ہوئے لکھاتھا کہ ماؤسٹوں سے متاثر بستر میں صحافی کام کرتے ہوئے خود کو غیرمحفوظ سمجھ رہے ہیں اور یہ معاملہ ڈر کاہے۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ ’’ ریاستی حکومت چاہتی ہے کہ میڈیا ماؤسٹوں کے خلاف اس کی لڑکی کو قومی حیثیت سے دیکھے اور میڈیااس معاملے کوقومی سلامتی کے موضوع کے طور پر اس کاجائزہ لے۔

اور اسکے متعلق کوئی سوال نہ اٹھائے‘‘۔ورما کی گرفتاری کے متعلق کئی سوالا ت پیدا ہوتے ہیں جس کا جواب ضروری ہے ۔کے کس طرح پولیس ورماکے خلاف منسٹر کو بلیک میل کرنے کی شکایت کے کچھ گھنٹوں میںیہ جانکاری حاصل کرلی ‘ جبکہ رپورٹ کہتی ہے کہ بجاج نے اپنی شکایت میں ورماکا نام بھی نہیں لیاتھا؟۔ اگر ورما منسٹر کوبلیک ہی کررہے تھے تو انہوں نے سی ڈیز کی پانچ سوکاپیاں کیوں تیار کی جیسا کے پولیس نے الزام لگایاہے؟پولیس کی جانب سے بتائی جارہی کہانی سے تو ایسا لگتا ہے کہ ورما بلیک کرنے کے بجائے مذکورہ سی ڈیز عوام میں تقسیم کرنے کی تیاری کررہے تھے۔ کیایہ اقدام ویڈیو کوعوام تک پہنچنے سے روکنے کے لئے کیاگیاہے؟کیوں پولیس سی ڈی میں موجود مواد کی تحقیقات سے دلچسپی نہیں دیکھا رہی ہے بجائے اسکے وہ ایک معمولی شکایت جس پر کوئی تحقیقات بھی نہیں ہوئے اس کی بنا پر ورما کو گرفتار کیا ہے؟کیایہ اس لئے کیونکہ مبینہ طور پر سی ڈی میں موجود منسٹر چیف منسٹر رمن سنگھ کے قریبی ہیں؟۔

چھتیس گڑ کانگریس کے ریاستی صدر بھوپیش باگھیل نے ورما کی گرفتاری کی سخت لفظوں میں مذمت کی ہے۔انہوں نے کہاکہ ’’ موجودہ منسٹر کا مذکورہ مبینہ سیکس اسکینڈل پچھلے ہفتہ ہی عوام میں گشت کررہاتھا۔ میرے پاس بھی اس کا ایک کاپی ہے مگر میں نے جاری نہیں کیاکیونکہ میں اس کی فارنسک جانچ کرانا چاہتا تھا۔مذکورہ صحافی کو وہی سی ڈی رکھنے کے جرم میں گرفتار کیاگیا ہے۔ سی ڈی رکھنا کوئی جرم نہیں ہے۔ ورمانے کوئی سی ڈی تقسیم نہیں کی ہے۔ ان کی گرفتاری سے معلوم ہوتا ہے کہ بی جے پی مسلئے کو دبانا چاہتی ہے‘‘۔ وہیں پر بی جے پی کا دعوی ہے کہ ورما کانگریس کے قریبی ہیں اور کانگر یس ک لئے کام کرتے ہیں۔

مختلف صحافیوں او رسیاسی قائدین نے ورما کی گرفتاری کو بے باک صحافت پر کا رضرب قراردیتے ہوئے کہاکہ پچھے تین سالوں سے سارے ملک میں اسی طرح کا ماحول پیدا کیاگیا ہے تاکہ بے باکی کے ساتھ صحافت کرنے والوں کو ڈر او رخوف کے ماحول میں رکھا جاسکے۔عام آدمی پارٹی کے لیڈراو رسابق صحافی نے ا س پر ایک ٹوئٹ بھی کیا

TOPPOPULARRECENT