Monday , May 21 2018
Home / Top Stories / ونڈسرکیسل میں دولت مشترکہ قائدین کی تفریحی ملاقات

ونڈسرکیسل میں دولت مشترکہ قائدین کی تفریحی ملاقات

اہم مسائل پر وزیراعظم مودی کی دیگر عالمی قائدین سے غیر رسمی بات چیت
لندن 20 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) برطانیہ میں جاری دولت مشترکہ کے رکن ممالک کے سربراہان حکومت کی چوٹی کانفرنس کے اختتام سے قبل ونڈسرکیسل کی تفریح گاہ میں وزیراعظم نریندر مودی اور دیگر قائدین جمع ہوگئے۔ اس چوٹی کانفرنس کے غیر رسمی مرحلے میں پہلے سے طے شدہ ایجنڈہ کے بعد دولت مشترکہ کے رکن ممالک کے سربراہان کے بند کمرہ اجلاس منعقد ہوتے ہیں جس میں سربراہان حکومت کے قریبی مددگار و معاونین موجود نہیں رہتے ہیں۔ دولت مشترکہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’دولت مشترکہ ممالک کے سربراہان حکومت کے لئے یہ ایک منفرد تفریحی مصروفیات ہوگی جہاں اُنھیں دولت مشترکہ اور عالمی ترجیحات پر تعاون کے لئے نجی بات چیت کا موقع فراہم ہوگا۔ اس موقع پر وہ دولت مشترکہ میں تجدید و اصلاح پر بھی غور و خوض کریں گے۔ جنوبی افریقہ کے صدر سائیرل رامفوسا 53 سربراہان حکومت کے اس گروپ سے غیر حاضر رہیں گے جو اپنے ملک میں پرتشدد جھڑپیں پھوٹ پڑنے کے بعد دورہ مختصر کرتے ہوئے کیپ ٹاؤن واپس ہوگئے ہیں۔ ونڈسرکیسل کے عظیم واٹر لو چیمبر میں جو ملکہ ایلزیبتھ کے شاہی محلوں میں شامل ایک اہم محل بھی ہے، جانشینی کے مسئلہ پر سرگرم تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ملکہ ایلزیبتھ اپنی ’مخلصانہ خواہش‘ ظاہر کرچکی ہیں کہ ان کے جانشین شہزادہ چارلس کو اس عہدہ پر فائز کیا جائے۔ چنانچہ 69 سالہ چارلس کو دولت مشترکہ کے سربراہان حکومت کے گروپ کا سربراہ بنائے جانے پر اتفاق رائے پیدا ہورہا ہے۔ ایک سینئر ہندوستانی عہدیدار نے کہاکہ ’’پرنس چارلس کی تنظیم کا آئندہ سربراہ بنائے جانے پر ہندوستان کو کوئی اعتراض نہیں ہے کیوں کہ وہ اس ادارہ کے لئے پہلے بھی کافی محنت کے ساتھ کام کرچکے ہیں۔ تاہم ہمارا یہ موقف بھی واضح ہے کہ اس عہدہ کو ادارہ جاتی نہ بنایا جائے‘‘۔ 91 سالہ ملکہ ایلزیبتھ اب طویل فاصلہ تک سفر سے گریز کررہی ہیں۔ مستقبل میں دور دراز واقع ممالک میں دولت مشترکہ کی کسی بھی کانفرنس میں اپنی شرکت کو خارج از بحث قرار دے چکی ہیں اور شہزادہ چارلس کو قیادت تفویض کرنا چاہتی ہیں۔ شمالی لندن میں امبیڈکر ہاؤس پر وزیراعظم نریندر مودی کے توقف سے گریز پر برطانیہ کے ذات پات مخالف گروپس نے اظہارمایوسی کیا جبکہ وزیراعظم کے دورہ برطانیہ کا منصوبہ بنانے والے ہندوستانی عہدیداروں نے کہا کہ ان کیلئے ممکن نہیں تھا کہ مودی کے مصروف پروگرام میں امبیڈکر ہاؤس پر ان کے توقف کو شامل کرسکتے۔ دریں اثناء وزیراعظم نریندر مودی اپنے دور برطانیہ کے اختتام پر جس میں انہوں نے دولت مشترکہ سربراہان حکومت کی چوٹی کانفرنس میں بحیثیت وزیراعظم ہندوستان شرکت کی اور بعدازاں عالمی قائدین سے علحدہ طور پر ملاقاتیں کیں، برطانیہ سے جرمنی کیلئے روانہ ہوگئے جہاں ان کے مختصر دورہ برلن کے موقع پر چانسلر جرمنی انجیلا مرکل سے ملاقات مقرر ہے۔

TOPPOPULARRECENT