Saturday , December 16 2017
Home / دنیا / ونیزوئلا میں جمہوریت حامی لاکھوں عوام کی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا

ونیزوئلا میں جمہوریت حامی لاکھوں عوام کی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا

ملک کے نئے دستور کو عوام پر مسلط کرنے پر امریکہ ونیزویلا پر معاشی تحدیدات عائد کرے گا
واشنگٹن ۔ 18 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جنوری سے اقتدار سنبھالا ہے اور جب سے وہ صدر کے جلیل القدر عہدہ پر فائز ہوئے ہیں انہیں کسی نہ کسی مسئلہ کا سامنا ہے اور صدر موصوف بھی اپنی فطرت کے مطابق ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کبھی اس ملک کو دھمکا رہے ہیں کبھی اس ملک کو۔ اب باری آئی ہے ونیزوئلا کی جسے ٹرمپ نے دھمکاتے ہوئے کہا ہیکہ اگر وہاں کی حکمراں جماعت ملک کے دستور میںترمیم کرنے کی کوشش کرے گی تو اس پر سخت معاشی تحدیدات عائد کئے جائیںگے۔ ٹرمپ نے کل اپنے بیان میں سخت الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اگر ونیزوئلا زوال کی جانب گامزن ہوگا تو امریکہ خاموش تماشائی نہیں رہے گا۔ 30 جولائی کو اگر صدر مڈورو کی حکومت نے اپنے آئین نافذ کرنے کی کوشش کی تو امریکہ ونیزوئلا پر معاشی تحدیدات عائد کرنے میں ذرہ برابر بھی تاخیر نہیں کرے گا۔ امریکہ اس بات کا خواہاں ہیکہ ونیزوئلا میں شفاف اور غیرجانبدارانہ انتخابات منعقد کئے جائیں اور عوام کی اس خواہش کا احترام اور تائید کرتا ہے کہ ونیزوئلا میں ایک بار پھر خوشحالی اور جمہوریت کا بول بالا ہوجائے۔ ٹرمپ نے مزید کہاکہ ونیزوئلا کے عوم کو تن آسانی سے نہیں لیا جاسکتا کیونکہ انہوں نے (عوام) یہ واضح کردیا ہیکہ وہ ملک میں جمہوریت، آزادی اور قانونی حکمرانی کے خواہاں ہیں لیکن ایک ایسا قائد جو شاید ڈکٹیٹر بننا چاہتا ہے، وہ عوام کی ان خواہشات کو کچلنا چاہتا ہے اور ان کے مطالبات کو مسلسل نظرانداز کررہا ہے۔ قبل ازیں ٹرمپ کے ترجمان نے بھی ونیزوئلا کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ ونیزوئلا میں جو کچھ ہورہا ہے اس پر ہم نے کڑی نظر رکھی ہے۔ کل ریفرنڈم کیلئے عوام کی کثیر تعداد موجود تھی جس کیلئے عوام یقینا مبارکباد کے مستحق ہیں کیونکہ عوام نے حکومت سے جو توقعات وابستہ کی ہے وہ چاہتے ہیں کہ حکومت ان توقعات پر پورا اترے۔ وائیٹ ہاؤس پریس سکریٹری شین اسپائسر نے اخباری نمائندوں سے اپنی روزمرہ کی کانفرنس کے دوران یہ بات کہی۔

جس طرح معصوم اور بے قصور ووٹرس کا استحصال کیا جارہا ہے اور حکومت کی جانب سے جمہوریت کے قیام کو نظرانداز کیا جارہا ہے وہ قابل مذمت ہے۔ 30 جولائی کو جس دستوری اسمبلی کو متعارف کیا جانے والا ہے، اسے فوری طور پر منسوخ کرنے اور شفاف و غیرجانبدارانہ انتخابات منعقد کروانے ہمارا مطالبہ بالکل جائز ہے۔ دوسری طرف ایک علحدہ بیان دیتے ہوئے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان ہیتھر ٹیورٹ نے ونیزوئلا کی عوام کے تدبر اور جرأتمندی کی ستائش کی اور کہا کہ جس طرح عوام نے آزادیٔ اظہارخیال اور اپنے ملک کی جمہوریت کی دفاع کیلئے 16 جولائی کو جو پُرامن مظاہرہ کیا تھا اس کی بھی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ کل جو ووٹنگ ہوئی ہے وہ ملک کی مجوزہ آئینی اسمبلی کے اصولوں کے مغائر ہے جس سے ونیزوئلا کی جمہوری اقدار پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ریفرنڈم کے ذریعہ جن لاکھوں لوگوں نے اپنی ر ائے کا اظہار کیا ہے وہ اسی جانب اشارہ کرتا ہے کہ عوام ملک میں شفاف، غیرجانبدارانہ اور دیانتدارانہ انتخابات کے انعقاد کے خواہاں ہیں جہاں وہ بلاخوف و خطر اور بغیر کسی سیاسی دباؤ کے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرسکیں۔ اس طرح موجودہ دستور کا احترام بھی ہوگا اور عوام کی رائے کا لحاظ کرتے ہوئے جو حکومت قائم ہوگی اسے دنیا بھر میں سراہا جائے گا کیونکہ جمہوریت کی بنیاد ہی عوام آراء پر ٹکی ہوئی ہے جہاں عوام ہی سب کچھ ہیں۔ وہ جس کو چاہیں اقتدار سونپ دیں اور جس کو چاہیں اقتدار سے محروم کردیں۔ ہیتھرنوریٹ نے کاتیا، کراکاس میں انسانی جانوں کے اتلاف اور تشدد کے واقعات کی مذمت کی۔ انہوں نے ونیزوئلا حکومت سے خواہش کی کہ وہ حملہ آوروں کو کیفرکردار تک پہنچائے تاکہ دیگر لوگوں کو عبرت ہو اور تشدد کے واقعات رونما نہ ہوں۔ آج لاکھوں عوام کی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا اور امریکہ ونیزوئلا کے تمام پڑوسی ممالک سے بھی اپیل کرتا ہیکہ وہ مڈورو حکومت کو اس کوشش کے خلاف آواز اٹھائیں جو وہ جمہوریت کا نام و نشان مٹانے کیلئے کرنا چاہتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT