Wednesday , November 22 2017
Home / Top Stories / ووٹنگ مشینوں کا مسئلہ اٹھانے پر بی جے پی مجھے نشانہ بنا رہی ہے

ووٹنگ مشینوں کا مسئلہ اٹھانے پر بی جے پی مجھے نشانہ بنا رہی ہے

جمہوریت کو بچانے لڑائی میں تمام غیر بی جے پی جماعتوں کی تائید قبول ۔ بی ایس پی سربراہ مایاوتی کا پارٹی ورکرس سے خطاب

لکھنو 14 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) بی ایس پی کی ربراہ مایاوتی نے آج بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ انہیں ( مایاوتی کو ) اس لئے نشانہ بنا رہی ہے کیونکہ انہوں نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں چھیڑ چھاڑ کا مسئلہ اٹھایا ہے ۔ مایاوتی نے کہا کہ وہ ان جماعتوں سے ہاتھ ملانے کی مخالف نہیں ہیں جو اس مسئلہ پر بی جے پی کے خلاف جدوجہد کا حصہ بننا چاہتی ہیں۔ مایاوتی نے یاہں امبیڈکر جینتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک سازش کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ وہ بی جے پی کی جانب سے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں چھیڑ چھاڑ پر خاموشی اختیار کرلیں۔ لیکن وہ جمہوریت کو بچانے کیلئے اپنی اس جدوجہد کو ترک کرنے تیار نہیں ہیں۔ ان کی پارٹی بی جے پی کی جانب سے مشینوں میں چھیڑ چھاڑ کے خلاف جدوجہد کو جاری رکھے گی ۔  ایس پی کو دوسری غیر بی جے پی جماعتوں سے ہاتھ ملانے میں کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ یہ مسئلہ جمہوریت کا ہے جو سب کیلئے مقدم ہونا چاہئے ۔ ہمیں جمہوریت کو زندہ رکھنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ پارٹی کے مفاد میں ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں چھیڑ چھاڑ کو جلد از جلد روکا جائے ۔ ایسا کرنے کیلئے ہم زہر کے خلاف زہر استعمال کرنے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں بھی مشینوں میں چھیڑ چھاڑ کے ذریعہ کامیابی حاصل کی ہے لیکن اس کا ہمیں حال ہی میں اندازہ ہوا ہے ۔ انہوں نے ادعا کیا کہ ریاست میں 403 کے منجملہ 250 اسمبلی حلقوں میں ووٹنگ مشینوں میں چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی ۔ دوسری نشستوں کے تعلق سے انہیں معلوم تھا کہ وہ یہاں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ بی ایس پی نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس مسئلہ پر ہر ماہ کی 11 تاریخ کو مظاہرے کریگی تاہم اسے موخر کردیا گیا ہے کیونکہ یہ مسئلہ اب عدالت میں زیر تصفیہ ہے ۔ مایاوتی اسمبلی انتخابات میں اپنی پارٹی کی بدترین ناکامی کے بعد پارٹی کے کسی پروگرام سے پہلی مرتبہ خطاب کر رہی تھیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی آنند کمار کو پارٹی کا نائب صدر بنایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ انہوں نے کیا ہے اور اپنے بھائی کو اہم ذمہ داری دی ہے ۔ انہیں یہ ذمہ داری اس شرط پر دی گئی ہے کہ وہ بے لوث کام کرینگے اور وہ کبھی بھی رکن پارلیمنٹ ‘ رکن اسمبلی ‘ وزیر یا چیف منسٹر نہیں بنیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنا زیادہ تر وقت لکھنو میں گذارتی ہیں اور ان کا بوجھ کم کرنے کیلئے کسی کو دہلی میں یہ ذمہ داری سنبھالنے کی ضرورت ہے ۔ مایاوتی نے اپنی طبی صحت کے بارے میں بھی پارٹی ورکرس کو اطلاع دی اور کہا کہ انہیں بلند آواز میں تقاریر کرنے سے بھی ڈاکٹرس نے منع کیا ہے ۔ ان کے گلے کے غدود میں سے ایک نکال دیا گیا ہے اور اب وہ صحتیاب ہو رہی ہیں ۔ یو پی میں آدتیہ ناتھ حکومت کی جانب سے مایاوتی دور حکومت میں شکر کی ملوں کی فروخت اور یادگاری پارکس کی تعمیر کی تحقیقات کے اعلان پر تنقیدوں کا شکار مایاوتی نے کہا کہ انہیں ایک سازش کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ظاہر کرنے کی کوش کی جا رہی ہے کہ انہوں نے یہ ملیں فروخت کی ہیں جبکہ یہ محکمہ ان کے پاس نہیں تھا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ محکمہ نسیم الدین کے پاس تھا لیکن انہوں نے بھی یہ فیصلہ نہیں کیا ۔ ساری ریاستی کابینہ نے ملوں کی فروخت کا فیصلہ کیا تھا ۔ مایاوتی دور حکومت میں 21 شوگر ملز فروخت کی گئی تھیں اور آدتیہ ناتھ حکومت ان کی تحقیقات کروا رہی ہے ۔

 

طلاق ثلاثہ کا مسئلہ سپریم کورٹ کو حل کرنا چاہئے : مایاوتی

لکھنؤ 14 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے آج کہاکہ سپریم کورٹ کو طلاق ثلاثہ کا مسئلہ دستور کے مطابق حل کرتے ہوئے مسلم خواتین کے لئے انصاف کو یقینی بنانا چاہئے۔ اُنھوں نے یہاں پارٹی کی امبیڈکر جینتی تقریب سے خطاب میں کہاکہ ہماری پارٹی چاہتی ہے کہ سپریم کورٹ اِس مسئلہ کا فیصلہ ہندوستانی دستور کے مطابق کرے اور ریاستی و مرکزی حکومتوں کو اِس سے دور رکھے۔ میڈیا رپورٹس سے ایسا ظاہر نہیں ہوتا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ سے وابستہ سینئر اشخاص طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر مسلم خواتین کو انصاف حاصل ہونے کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔ ہمارا یہ تاثر نہیں ہے کہ بورڈ مسلم خواتین کے لئے جلد ہی انصاف کو یقینی بنا پائے گا۔ اِس لئے فاضل عدالت کو اُن کے لئے انصاف یقینی بنانا چاہئے۔ گزشتہ سال اکٹوبر میں مایاوتی نے اِس مسئلہ پر  وزیراعظم نریندر مودی کے موقف کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے معاملوں کو مسلم برادری پر چھوڑ دینا چاہئے اور بالخصوص الیکشن کے موقع پر سیاسی فوائد کے لئے اُنھیں اُچھالا نہ جائے۔ مایاوتی نے کہا تھا کہ وزیراعظم اور مرکزی حکومت کو مسئلہ تین طلاق میں مداخلت کرنے کے بجائے اِسے مسلم برادری پر چھوڑ دینا بہتر ہے کہ وہ اجتماعی رائے ظاہر کریں۔ مایاوتی نے یوگی ادتیہ ناتھ حکومت کے کام کاج پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہاکہ اس کی پالیسیاں کھوکھلی ہیں۔ مسالخ کو بند کرنے سے اس تجارت سے وابستہ لوگوں کو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

TOPPOPULARRECENT