Saturday , November 17 2018
Home / Top Stories / ووٹوں کے تناسب میں عظیم اتحاد کو ٹی آر ایس پر 6 فیصد سے زیادہ کی سبقت

ووٹوں کے تناسب میں عظیم اتحاد کو ٹی آر ایس پر 6 فیصد سے زیادہ کی سبقت

کودنڈا رام کی شمولیت سے مزید دو فیصد اضافہ بھی ممکن ۔ 2014 میں تلنگانہ لہر کے بعد کے سی آر کو حکومت مخالف لہر کا پہلی بار سامنا

حیدرآباد /9 نومبر ( سیاست نیوز ) ٹی آر ایس میں ناراضگیاں اور اختلافات اچانک منظر عام پر آنے کے بعد دوسری مرتبہ کامیابی حاصل کرنے کیلئے ٹی آر ایس کا جھکاؤ بی جے پی کے 7 فیصد ووٹوں کی طرف ہوگیا ہے تاکہ عظیم اتحاد سے مقابلہ میں آسانی ہوسکے ۔ 2014 کے ووٹوں کا تقابل کیا جائے تو کانگریس تلگودیشم اور سی پی آئی کے عظیم اتحاد کے ووٹوں کا تناسب ‘ ٹی آر ایس کے محصلہ جملہ ووٹوں کے تناسب سے 6.42 فیصد ووٹ اضافی ۔ اپنی ڈوبتی کشتی کو بچانے ٹی آر ایس ، بی جے پی کا سہارا لینے مجبور ہے ۔ 2014 انتخابات میں تلنگانہ لہر کے دوران ٹی آر ایس نے 34.04 فیصد ووٹ حاصل کئے تھے اور اس کے 63 ارکان اسمبلی منتخب ہوئے تھے ۔ جبکہ کانگریس ، تلگودیشم اور سی پی آئی تینوں جماعتوں کو 40.46 فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے ۔ تب تلنگانہ جنا سمیتی نہیں تھی ۔ اب یہ جماعت بھی عظیم اتحاد کا حصہ ہے ۔ تینوں جماعتوں کے اتحاد کو ٹی آر ایس سے 6.42 فیصد زیادہ ووٹ حاصل ہوئے ۔ واضح رہے کہ 2014 انتخابات میں بی جے پی نے 7 فیصد ووٹ حاصل کئے تھے ۔ اگر 2014 انتخابات کا 2018 کے انتخابات سے تقابل کیا جائے تو ووٹوں کے تناسب سے عظیم اتحاد کا پلڑابھاری نظر آرہا ہے ۔ تلنگانہ انتخابات کے نتائج کا تجربہ کیا جائے تو کئی حیرت انگیز انکشافات ہو رہے ہیں ۔ 34 فیصد ووٹ حاصل کرنے والی ٹی آر ایس کو 63 اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی ۔ صرف ایک تہائی ووٹ حاصل کرنے والی ٹی آر ایس نے ریاست کے 53 فیصد اسمبلی حلقوں پر قبضہ کرلیا تھا ۔ 2014 انتخابات میں سہ رخی مقابلہ ہوا تھا ۔ جس کی وجہ سے ووٹوں کا تناسب کم حاصل کرنے کے باوجود ٹی آر ایس نے زیادہ حلقوں پر کامیابی حاصل کی تھی ۔ کئی مقامات پر کانگریس اور تلگودیشم کے درمیان ووٹوں کی تقسیم کا راست فائدہ ٹی آر ایس کو ہوا تھا ۔ تاہم اب تبدیل ہوگئے ہیں ۔ ایک دوسرے کے کٹر حریف کانگریس اور تلگودیشم میں اتحاد ہوگیا ہے ۔ سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد ووٹوں کی شکل میں تبدیل ہونا بھی ممکن نہیں ہے ۔ مگر ماضی میں جھانک کر دیکھنے پر پتہ چلتاہے کہ اتحادی جماعتوں کے حصہ میں زیادہ کامیابیاں آئی ہیں ۔ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ سیاسی جماعتوں میں اتحاد ہوتا ہے تو ٹکٹ سے محروم قائدئین ناراض ہوتے ہیں اور وہ اتحادی جماعتوں کی کامیابی کیلئے وہ دلچسپی نہیں دکھاتے جس کی ضرورت ہوتی ہے ۔

چند قائدین باغی امیدوار کی حیثیت سے میدان میں بھی اُتر سکتے ہیں۔ بعض موقعوں پر چند جماعتوں کے آپسی اتحاد کو عوام بھی پسند نہیں کرتے ۔ ایسے حالت میں اتحادی جماعتوں کے درمیان توقع کے مطابق ووٹ تبدیل ہونا بھی ممکن نہیں ہے ۔ ان حالات میں عظیم اتحاد کیلئے 6 فیصد ووٹوں کا بھی نقصان ہوتا ہے تو عظیم اتحاد اور ٹی آر ایس میں کانٹے کا مقابلہ ہوگا ۔ اگر 6 فیصد سے کم ووٹوں کا نقصاین ہوتا ہے تو ٹی آر ایس کو شکست سے دوچار ہونا پڑسکتا ہے ۔ سربراہ ٹی آر ایس چندر شیکھر راو نے 2014 میں معمولی اکثریت کے بعد حکومت کو مستحکم بنانے اپوزیشن کے 25 ارکان اسمبلی کو ٹی آر ایس میں شامل کرلیا تھا ۔ جنہیں ٹی آر ایس کا مقامی کیڈر آج تک قبول نہیں کیا ہے ۔ ٹی آر ایس نے 2018 انتخابات کیلئے انہیں اپنا امیدوار نامزد کردیا ہے جس کو 2014 میں ٹی آر ایس کے ٹکٹ پر مقابلہ کرنے والے قائدین قبول نہیں کر رہے ہیں ۔ ان کا استدال ہے کہ دوسری جماعتوں سے ٹی آر ایس میں شامل ارکان اسمبلی کو کامیاب بنانا ان کی سیاسی خودکشی کے مترادف ہے ۔ لہذا وہ ان کیلئے مہم چلانے سے گریز کر رہے ہیں ۔ ٹی آر ایس کے 40 امیدواروں کو تبدیل کرنے کا خود ٹی آرا یس قائدین قیادت سے مطالبہ کر رہے ہیں ۔ کئی مقامات پر ٹی آر ایس امیدواروں کا گھیراؤ کیا جارہا ہے ۔ گاؤں میں داخل ہونے سے روکا جارہا ہے ۔ انتخابی وعدوں کو پورا نہ کرنے کا الزام عائد کیا جارہا ہے ۔ ( باقی سلسلہ صفحہ 8 پر )

TOPPOPULARRECENT