Monday , September 24 2018
Home / مذہبی صفحہ / وَالْقَدْرِ خَیْرِہٖ وَ شَرِّہٖ مِنَ اللّٰہِ تَعَالیٰ

وَالْقَدْرِ خَیْرِہٖ وَ شَرِّہٖ مِنَ اللّٰہِ تَعَالیٰ

تقدیر پر ایمان لانے کا بیان ٭ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اہلبیت یعنی آپ کی اولاد اور ازواج مطہرات (رضی اللہ تعالیٰ عنہن ) سب کے سب قابل احترام اور لائق تعظیم ہیں ۔ ٭ اولاد میں سب سے بڑا رتبہ حضرت فاطمۃ الزھرا ء (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کا اور بیبیوں میں حضرت خدیجۃ الکبریٰ و حضرت عائشہ صدیقہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) کاہے۔

تقدیر پر ایمان لانے کا بیان
٭ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اہلبیت یعنی آپ کی اولاد اور ازواج مطہرات (رضی اللہ تعالیٰ عنہن ) سب کے سب قابل احترام اور لائق تعظیم ہیں ۔
٭ اولاد میں سب سے بڑا رتبہ حضرت فاطمۃ الزھرا ء (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کا اور بیبیوں میں حضرت خدیجۃ الکبریٰ و حضرت عائشہ صدیقہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) کاہے۔
٭ حضرت امام حسن و حضرت امام حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے مقبول نواسے اور جوانان جنت کے سردار ہیں ۔
٭ ہر مسلمان کو چاہئے کہ تمام صحابہ ؓ اور اہل بیت سے دلی محبت اور نیک گمان رکھے۔ جب ان کا نام لے ’’ رضی اللہ عنہ ‘‘ کہے ۔ غرض دل اور زبان ہر طرح سے ان کی تعظیم بجالائے۔ ان سے بدگمانی رکھنا یاا ن کی شان میں بے ادبی کرنا بہت بڑا گناہ ہے ۔
٭ اللہ و رسول کی پوری اتباع کرنے سے انسان درجہ ولایت کو پہنچتا اور ولی کہلاتا ہے ۔
٭ ولی سے بھی ایسی ایسی خلاف عادت ( عجیب و غریب ) باتیں ظاہر ہوسکتی ہیں جن میں عقل حیران ہو اس کو ’کرامت‘ کہتے ہیں ۔
٭ اگر کوئی ایسی بات کافر یا فاسق سے ظاہر ہو تو وہ کرامت نہیں بلکہ’ استدراج ‘ہے۔ ( اس پر اعتقاد درست نہیں)۔
٭ ولایت کیلئے کرامت کا ظاہر ہونا شرط نہیں البتہ شریعت کی پابندی ضروری ہے ۔
٭ اولیاء اللہ سے محبت رکھنی اور ان کے افعال حسنہ (اچھے کاموں ) کی پیروی کرنی باعث سعادت ہے ۔
٭ اولیاء اللہ کو سوتے یا جاگتے میں بعض راز کی باتیں معلوم ہوجاتی ہیں ان کو کشف و الہام کہتے ہیں۔ اگر وہ بظاہر موافق شرع ہیں تو قابل قبول ہیں ورنہ نہیں ۔
٭ اولیاء اللہ اور انبیاء کو وسیلہ ٹھہرا کر بارگاہ الٰہی میں التجا کرنا اور دعا مانگنا جائز ہے ۔
اخذ: نصاب اہل خدمات شرعیہ حصۂ عقائد
مرسل : ابوزہیر

TOPPOPULARRECENT