Monday , June 18 2018
Home / مذہبی صفحہ / وَالْیَوْْمِ الْاٰخِرِ وَ الْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ قیامت پر ایمان لانے کا بیان

وَالْیَوْْمِ الْاٰخِرِ وَ الْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ قیامت پر ایمان لانے کا بیان

مرسل : ابوزہیر ۲۔قیامت۔ (۱) جس دن اللہ تعالیٰ اس عالم کو فنا کر کے پھر تمام مردوں کو زندہ کرے گا اور ان سے ان کی نیکی بدی کا حساب لے گا اس کا نام قیامت ہے ۔ (۲) قیامت کا آنا برحق ہے ۔

مرسل : ابوزہیر
۲۔قیامت۔ (۱) جس دن اللہ تعالیٰ اس عالم کو فنا کر کے پھر تمام مردوں کو زندہ کرے گا اور ان سے ان کی نیکی بدی کا حساب لے گا اس کا نام قیامت ہے ۔
(۲) قیامت کا آنا برحق ہے ۔
(۳) قیامت کی جتنی علامتیں اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے بتلائی ہیں وہ سب پوری ہوںگی مثلاً امام مہدی ؑکا ظاہر ہونا، کانے دجال کا نکلنا، حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے اترنا اور دجال کو مار ڈالنا ‘ یاجوج ماجوج ( جو بڑی زبردست قوم ہے ) کا نکلنا اور قہر الٰہی سے ہلاک ہوجانا، دابّۃ الارض ( ایک عجیب جانور) کا نکلنا اور آدمیوں سے باتیں کرنا ‘ آفتاب کا مغرب سے نکلنا ‘دنیا کاکافروں سے بھرجانا ‘ آسمان سے ایک دھواں ظاہر ہونا اور سب کو گھیر لینا ‘ آگ کا ظاہر ہونا وغیرہ ۔
(۴) تمام علامتوں کے بعد حکمِ الٰہی سے حضرت اسرافیل علیہ السلام صور پھونکیں گے جس سے موجودہ عالم سب فنا ہوجائے گا ۔
(۵) پھر جب اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا دوبارہ صور پھونکا جائے گا اس سے تمام مردے زندہ ہوجائیں گے ۔
۳۔ میزان ۔ قیامت کے دن میزان یعنی ترازو قائم کی جائے گی اور اس میں بندوں کے نیک و بداعمال تولے جائیں گے ۔
۴۔ کتاب ۔ کتاب یعنی نامۂ اعمال (جس میں بندوں کے نیک و بد عمل لکھے ہوں گے)قیامت کے روزایمان داروں کو دائیں ہاتھ میں سامنے سے دیا جائے گا اور کافروں کو بائیں ہاتھ میں پیچھے سے دیا جائیگا ۔
۵۔ حساب ۔ قیامت کے دن تمام بندوں کے بھلے بُرے اعمال سے ذرہ ذرہ اور رتی رتی کا حساب ہوگا ۔
۶۔ سوال ۔ قیامت کے روز ہر ایک بندے سے پوچھا جائے گا کہ دنیا میں تو نے کیا کیا (اطاعت و فرماںبرداری میں رہا یا گناہ و نافرمانی میں) جس کا جواب صحیح نہ دینے یا اپنی نافرمانیوں کا انکار کرنے پر حکمِ الٰہی سے خود اس کے اعضاء (ہاتھ ‘ پاؤں ‘ آنکھ ‘ کان وغیرہ) اس کے خلاف گواہی دیں گے ۔
۷۔ پُل (صراط) دوزخ کی پشت پر قیامت کے دن ایک پل ہوگا ‘بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز‘ جس کو صراط کہتے ہیں ۔سب کو اس پرچلنے کا حکم ہوگا ۔ جو لوگ نیک ہیں وہ تو اپنی اپنی نیکیوں کے اعتبار سے جلد یا آہستہ پار اتر کر جنت میں پہنچ جائیں گے۔لیکن بدکاراپنی بدکاریوں کے موافق لغزشیں کھا کھا کے یا کٹ کٹ کر دوزخ میں گر پڑیں گے ۔
اخذ: نصاب اہل خدمات شرعیہ، حصۂ عقائد

TOPPOPULARRECENT