وکاس اور وشال سزائے موت سے بچ گئے

نئی دہلی 6 فروری (سیاست ڈاٹ کام) دہلی ہائیکورٹ نے سزائے موت کیلئے استدعا کو مسترد کرتے ہوئے آج وکاس یادو اور اُس کے کزن وشال کو 2002 ء کے نتیش کٹارا کی عزت و ناموس کے لئے ہلاکت میں 25 سال کی سزائے قید اور ثبوت مٹانے کی پاداش میں اضافی 5 سال کی سزا سنائی۔ عدالت نے کہاکہ کٹارا جو وکاس کی بہن کے عشق میں گرفتار تھا، اُس کا قتل عزت و ناموس کے لئ

نئی دہلی 6 فروری (سیاست ڈاٹ کام) دہلی ہائیکورٹ نے سزائے موت کیلئے استدعا کو مسترد کرتے ہوئے آج وکاس یادو اور اُس کے کزن وشال کو 2002 ء کے نتیش کٹارا کی عزت و ناموس کے لئے ہلاکت میں 25 سال کی سزائے قید اور ثبوت مٹانے کی پاداش میں اضافی 5 سال کی سزا سنائی۔ عدالت نے کہاکہ کٹارا جو وکاس کی بہن کے عشق میں گرفتار تھا، اُس کا قتل عزت و ناموس کے لئے کیا گیا اور یہ اقدام نہایت منصوبہ بند اور پہلے سے رچی گئی سازش کے ساتھ انتہائی انتقامانہ جذبہ کے تحت کیا گیا۔ دونوں ملزمین کے واقف کار سکھدیو یادو عرف پہلوان کو بھی 20 سال کی توسیعی عمر قید کی سزا دی گئی اور عدالت نے کہاکہ یہ جرم انوکھے جرائم کے زمرہ میں ضرور آتا ہے لیکن ملزمین کو تختہ دار سے یہ کہتے ہوئے بچادیا کہ اُن کی اصلاح اور بازآبادکاری کے امکان کو غیرمتوقع یا ناممکن نہیں سمجھا جاسکتا ہے۔ استغاثہ، کٹارا کی والدہ اور مجرمین کی اپیلوں کی یکسوئی کرتے ہوئے جسٹس گیتا متل اور جسٹس جے آر میدھا کی خصوصی بنچ نے تاہم اِن تینوں کو سماعتی عدالت کی دی گئی سزا کو بڑھاتے ہوئے کہاکہ جرم کی شدت کو دیکھتے ہوئے اُنھیں معقول سزا کی ضرورت ہے۔ عدالت نے وکاس اور وشال پر عائد جرمانوں کو بھی بڑھادیا اور دونوں پر فی کس 54 لاکھ روپئے کا جرمانہ عائد کیا جو سماعتی عدالت میں اندرون 6 ہفتے جمع کیا جانا ہوگا۔ اِس رقم میں سے 50 لاکھ روپئے اور 10 لاکھ روپئے ترتیب وار دہلی اور یوپی کی حکومتوں میں تقسیم کئے جائیں گے جبکہ 40 لاکھ روپئے مقتول نتیش کی والدہ نیلم کٹارا کو دیئے جائیںگے، جنھوں نے کہاکہ اُنھیں بیٹے کی جان کے بدلے یہ رقم قبول نہیں۔

TOPPOPULARRECENT