Sunday , February 18 2018
Home / شہر کی خبریں / وکٹوریہ ٹرسٹ کی اراضی کو حکومت لیز پر کیسے دے سکتی ہے ؟

وکٹوریہ ٹرسٹ کی اراضی کو حکومت لیز پر کیسے دے سکتی ہے ؟

حیدرآباد ۔ 22 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : حیدرآباد ہائی کورٹ کی ایک ڈیویژن بنچ نے منگل کے روز تلنگانہ حکومت سے یہ سوال پوچھا کہ وہ کس طرح ٹرسٹ اراضی جو وکٹوریہ میموریل ہوم موقوعہ سرور نگر کی ملکیت ہے ۔ لیز پر دے سکتی ہے ۔ مذکورہ اراضی رچہ کنڈہ پولیس کمشنریٹ کو اس کے ہیڈکوارٹرس کی تعمیر کے لیے لیز پر دی جانے والی ہے ۔ ہائی کورٹ کی بنچ نے اس سلسلہ میں حکومت کو 28 دسمبر تک مہلت دی ہے تاکہ مذکورہ اراضی سے متعلق تمام ریکارڈس پیش کیے جاسکیں ۔ عبوری چیف جسٹس رمیش رنگناتھن اور جسٹس جی شیام پرساد پر مشتمل بنچ ایل روچی ریڈی کی جانب سے داخل کردہ مفاد عامہ کی ایک درخواست کی سماعت کررہی ہے ۔ روچی ریڈی وی ایم ہوم آرفن اولڈ اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن کے صدر ہیں اور انہوں نے تلنگانہ حکومت کے اس فیصلہ کو چیلنج کیا ہے جس کے تحت 10 ایکڑ اراضی کو رچہ کنڈہ پولیس کمشنریٹ کی تعمیر کے لیے لیز پر دیا جانے والا ہے ۔ اس دوران درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ وی ایم ہوم کا قیام 73 ایکڑ اراضی پر مرحوم نظام ششم میر محبوب علی خاں بہادر کے زمانہ میں عمل میں آیا تھا ۔ یہ 1903 کی بات ہے جس کا مقصد یتیم لڑکوں اور لڑکیوں جن کا تعلق سابقہ ریاست حیدرآباد سے تھا ، کو تعلیم فراہم کرنا تھا ۔ انہوں نے استدلال پیش کیا کہ یہ اراضی ٹرسٹ کی ملکیت ہے اور حکومت کو اسے لیز پر دینے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ اس موقع پر بنچ نے سرکاری وکیل کے استدلال کو ماننے سے انکار کردیا جہاں سرکاری وکیل نے کہا تھا کہ انڈومنٹس ڈپارٹمنٹ کے پاس یہ اختیارات ہیں کہ وہ اسے لیز پر دے سکے اور اسی مقصد کے لیے حالیہ دنوں میں قانون میں ترمیم بھی کی گئی تھی ۔ بنچ نے استدلال تسلیم نہ کرتے ہوئے وکیل کو 28 دسمبر تک تمام ریکارڈس پیش کرنے کی ہدایت کی اور عدالتی کارروائی ملتوی کردی ۔۔

TOPPOPULARRECENT