Thursday , December 13 2018

ویاٹ ادا کنندہ تاجرین کو بقایا جات ادا کرنے کی نوٹس

عنقریب تاجرین کے خلاف کارروائی ، پرنسپل سکریٹری محکمہ کمرشیل ٹیکس سومیش مشرا
حیدرآباد۔12جنوری(سیاست نیوز) محکمہ کمرشیل ٹیکس کی جانب سے ویاٹ کے بقایاجات ادا نہ کرنے والے 7000 تاجرین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے 708کروڑ روپئے کے وصول طلب بقایاجات ادا کرنے کی مانگ کی ہے۔ بتایاجاتاہے کہ جن تاجرین نے اپنے انکم ٹیکس ریٹرنس میں ان بقایاجات کا تذکرہ کیا ہے ان کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں نوٹسیں جاری کی گئی ہیں۔ محکمہ کمرشیل ٹیکس کی جانب سے فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق جی ایس ٹی کے نفاذ سے قبل کے ان بقایاجات کی وصولی کے لئے ریاست میں 7ہزار تاجرین کو نوٹس جاری کی گئی ہے اور اس نوٹس کی اجرائی عمل میں لائی گئی ہے۔ بتایاجاتاہے کہ ریاستی حکومت کے محکمہ کمرشیل ٹیکس کی جانب سے ریاستی حکومت کی آمدنی کو ہونے والے نقصان کی پابجائی اور وصول طلب بقایاجات کا جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریاست میں ایسے کئی تاجرین ہیں جنہوں نے اپنے انکم ٹیکس میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ محکمہ کمرشیل ٹیکس کو ویاٹ باقی ہیںاور ویاٹ کی ادائیگی جتنے بقایاجات کی رقومات کو آمدنی میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ اس ریکارڈ کی بنیاد پر ہی حکومت نے بقایا جات کی وصولی کا فیصلہ کیا ہے۔محکمہ کمرشیل ٹیکس کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ ریاست میں آئی آئی ٹی حیدرآباد کی مدد سے کئے گئے اس اقدام کے ذریعہ ایک دن میں 7000 ویاٹ نادہندگان کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں نوٹس کی اجرائی عمل میں لائی گئی ہے۔پرنسپل سیکریٹری محکمہ کمرشیل ٹیکس مسٹر سومیش کمار نے بتایا کہ محکمہ کی جانب سے 708 کروڑ کے وصول طلب بقایاجات کے سلسلہ میں کی جانے والی یہ کاروائی ابتدائی کاروائی ہے اور بہت جلد ان تاجرین کے خلاف قانونی کاروائی شروع کی جائے گی جو ویاٹ کے بقایاجات کی عدم ادائیگی کے باوجود کاروبار کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور جی ایس ٹی پر کام کر رہے ہیں۔ مسٹر سومیش کمار نے بتایا کہ حکومت کو وصول طلب بقایاجات کے سلسلہ میں کوئی پس و پیش کی محکمہ کو ضرورت نہیں ہے کیونکہ ان بقایاجات کی وصولی محکمہ کمرشیل ٹیکس کی ذمہ داری ہے۔

TOPPOPULARRECENT