Thursday , December 14 2017
Home / Top Stories / ’’ویزا امتناع کا تعلق مذہب سے نہیں بلکہ قومی سلامتی سے ہے‘‘

’’ویزا امتناع کا تعلق مذہب سے نہیں بلکہ قومی سلامتی سے ہے‘‘

ٹرمپ انتظامیہ کے حکمنامہ کے خلاف عدالت کے فیصلہ پر اٹارنی جنرل جیف سیشنز کا ردعمل
واشنگٹن ۔ 13 جون (سیاست ڈاٹ کام) یو ایس اٹارنی جنرل جیف شینز نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کے اس اقدام کا دفاع کیا جہاں کچھ مخصوص ممالک کیلئے ویزا کی اجرائی پر امتناع عائد کیا گیا ہے۔ یاد رہیکہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے چھ مسلم ممالک کے شہریوں کو امریکی ویزا کی اجرائی پر امتناع کو یو ایس اپیلس کورٹ نے زیرالتواء رکھا تھا جس کے بعد چیف سیشنز کو لب کشائی کرتے ہوئے بالآخر یہ کہنا پڑا کہ ویزوں کی اجرائی کا معاملہ بالکلیہ طور پر ملک کی سلامتی سے وابستہ ہے۔ امریکہ کو کسی بھی ملک یا کسی بھی مذہب سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈونالڈ ٹرمپ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ انہوں نے جن چھ مسلم ممالک کا انتخاب کیا ہے وہاں موجود دہشت گرد صرف انتہاء پسندی کی زبان سمجھتے ہیں اور ان کے نظریات بھی انتہاء پسند ہیں۔ علاوہ ازیں یہ خبریں بھی گشت کررہی ہیں کہ امریکی امیگریشن نظام میں دراندازی کرنے کا منصوبہ بھی بنایا جارہا ہے جیسا کہ 9/11 سے قبل کیا گیا تھا۔ جیف سیشنز دراصل کل صادر کئے گئے تین ججوں کی بنچ کے اس فیصلہ پر اپنے ردعمل کا اظہار کررہے تھے کہ جو نائنتھ سرکٹ کیلئے یو ایس کورٹ آف اپیلس نے ٹرمپ کے نظرثانی شدہ سفری امتناع کے خلاف دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ امریکی صدر کی سب سے بڑی ذمہ داری ہوتی ہیکہ وہ اپنے عوام کو تحفظ فراہم کرے۔ لہٰذا میں ان کے اس جذبہ کی نہ صرف ستائش کرتا ہوں بلکہ تائید بھی کرتا ہوں کہ ٹرمپ سب سے پہلے اپنے ملک یعنی امریکہ کی سلامتی کو ترجیح دی۔ ہمیں ان کے اس مشن کا حصہ بننے پر فخر ہے۔

بنچ نے ٹرمپ کے حکمنامہ کے خلاف اپنا فیصلہ سنایا ہے لیکن ڈپارٹمنٹ آف جسٹس سپریم کورٹ سے فیصلہ پر نظرثانی کرنے کیلئے اپنی مساعی جاری رکھے گا کیونکہ ہم نائنتھ سرکٹ کے فیصلہ کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں لندن میں جو حملے ہوئے ہیں ان سے ہمارے خدشات کو تقویت حاصل ہوئی ہے اور صدر کا یہ حکمنامہ اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ چھ مسلم ممالک کے شہریوں کو امریکی ویزا نہ دیا جائے۔ صدر موصوف کا حکمنامہ بالکل درست اور قانونی دائرہ میں ہے تاکہ ملک کو محفوظ رکھا جاسکے۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یعنی مسلم ممالک دہشت گردوں کی پناہ گاہیں بنی ہوئی ہیں اور وہ ان کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔ القاعدہ اور دولت اسلامیہ نے ایسے ہی مسلم ممالک کو اپنا گڑھ بنا رکھا ہے لہٰذا ان ممالک سے آنے والے شہریوں کے بارے میں جب تک ہم کوئی قابل اعتماد اطلاع یا معلومات حاصل نہیں کرلیتے۔ ہم اپنے ملک کو اس وقت تک محفوظ نہیں سمجھ سکتے جب تک یہاں آنے والے سیاحوں کے بارے میں ہمیں مکمل معلومات حاصل نہ ہو۔ مسٹر سیشنز نے سعودی عرب کے دورہ پر صدر ٹرمپ کی تقریر کا بھی حوالہ دیا جہاں انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ معاملہ مذہب کا نہیں بلکہ قومی سلامتی کا ہے۔ انہوں نے مسلم دنیا سے اپیل کی تھی کہ وہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں امریکہ کے ساتھ شامل ہوجائیں۔ بہرحال سوڈان، شام، لیبیا، ایران، صومالیہ اور یمن کے شہریوں کو امریکہ کے سفر پر 90 دنوں کے امتناع کے خلاف عدالت کا فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کیلئے ایک اور دھکا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے جنگ زدہ ممالک کے پناہ گزینوں کی امریکہ آمد پر بھی 120 دنوں کا ام تناع عائد کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT