Wednesday , December 19 2018

ویزا قوانین میں سختی سے ہندوستانیوں کے مشکلات میں اضافہ

امریکہ کی نئی پالیسی سے

H1-B

ویزا کا حصول مزید سخت، آئی ٹی پیشہ وروں پر براہ راست اثر

واشنگٹن ۔ 23 فروری (سیاست ڈاٹ کام) ٹرمپ انتظامیہ نے

H1-B

ویزا کے سلسلے میں نئی پالیسی وضع کرتے ہوئے ایسے ویزا کے حصول کو مزید سخت بنادیا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے نافذ کردہ اس پالیسی کا براہ راست اثر ان عہدیداروں پر پڑے گا جو ایک یا ایک سے تیسرے فریق کے کام کے مقامات پر خدمت انجام دے رہے ہیں۔ واضح رہیکہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اٹھائے گئے اس قدم کا اثر ہندوستانی آئی ٹی کمپنیاں اور ان میں کام کرنے والے افراد پر پڑنا اک دم طئے مانا جارہا ہے۔ اس نئی پالیسی کے بعد کمپنیوں کو اس بات کی یقین دہانی کرائی ہوگی کہ

H1-B

نوکر تیسرے فریق کے پاس خدمت انجام دے رہا ہے جس کا کام خاص پیشہ کے تحت کوالیفائنگ کی غیرقیام ذمہ داریوں کے زمرے میں آتا ہے۔ واضح رہیکہ H1-B ویزا پروگرام کمپنیوں کو جزوقتی ویزا حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے جس کے تحت ان شعبوں میں یہ کمپنیاں اعلیٰ غیرملکی تربیت یافتہ پروفیشنلس کو کام کرنے کیلئے تعین کرسکتی ہیں جہاں پر امریکی کارگذاروں کی کمی ہے۔ ہندوستان آئی ٹی کمپنیاں جو H1-B ویزا سے استفادہ کرتی ہیں ان کے پیشہ وروں کی ایک بڑی تعداد تیسرے فریق کے کام کے مقامات پر خدمات انجام دیتے ہیں۔

نیز امریکہ کے بینکنگ ٹراویل اور کمرشیل شعبے کام کی انجام دہی کیلئے ہندوستانی آئی ٹی کمپنیوں کے ذریعہ فراہم کردہ پیشہ وروں پر منحصر ہیں اور اب گذشتہ روز ٹرمپ انتظامیہ کے ذریعہ سات صفحات پر مشتمل نئی پالیسی کے اعلان سے یہ بات بالکل واضح ہوگئی ہیکہ اس نئی پالیسی کے تحت یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سرویسز اب پیشہ ور افراد کو اس متعینہ مدت کے لئے H1-B ویزا جاری کرے گا جس درمیان اس شخص نے تیسرے فریق کے کام کے مقام پر خدمات انجام دی ہیں، ساتھ ہی اب یہ تین سال سے کم مدت کیلئے بھی ہوسکتا ہے اور یہ قدم ایک وقت میں H1-B ویزا کے جاری کرنے کیلئے تین سال کی مدت کا تعین کردے گا۔ واضح رہیکہ اس نئی پالیسی کے نفاذ کا اعلان ٹھیک ایسے وقت پر کیا گیا ہے جبکہ کچھ دن بعد ہی H1-B ویزا کے لئے درخواست قبول کی جانے لگیں گی جس کی 2 اپریل سے توقع ہے۔ نئے ضوابط کے مطابق ایسے پیشہ ور جو تیسرے فریق کے کام کے مقامات پر کام کررہے ہیں، ان کو H1-B ویزا کی عرضی اس وقت قبول کی جائے گی جب وہ اس بات کا صداقت نامہ پیش کرے گا کہ وہ ایک خاص پیشے میںخدمات انجام دے گا اور اس کو کام دینے والا شخص تذکرہ کردہ وقت مقررہ تک اس کام کو کردے گا اور مالک اس درمیان مالک، نوکر تعلقات کو استوار رکھے گا۔ ساتھ ہی جب H1-B ویزا حاصل کردہ شخص تیسرے فریق کے یہاں کام کرے گا تو کمپنیوں کو اس بات کی لازمی طور پر وضاحت کرنی ہوگی کہ وہ شخص مہارت والے کاموں میں مخصوص اور کوالیفائنگ کو غیرقیام ذمہ داریاں عرضی میں تذکرہ کردہ وقت مقررہ تک انجام دے گا۔ کل ملا کر ایک بات واضح ہیکہ اس نئی پالیسی کے نفاذ کے بعد H1-B ویزا حصول کا عمل مشکل ترین ہوجائے گا اور خاص کر ایسے پیشہ ور کے لئے جو اس سے پہلے کسی بھی بنچ کا حصہ رہا ہو۔ دلچسپ بات یہ ہیکہ کئی بار امریکی آئی ٹی کمپنیاں اچانک ان کام کرنے والے شخص کے کنٹرکٹ کو ختم کردیتی ہیں جس کی وجہ سے وہ شخص عارضی طور پر کسی دوسری جگہ پر کام نہیںکرپاتا جیسے آئی ٹی کمپنیوں کے زبان میں ’’بنچ‘‘ کہتے ہیں۔ اب اس نئی پالیسی کے نفاذ کے بعد H1-B ویزا کے حصول کا عمل مزید مشکل ہوجائے گا اور خاص کر ایسے پیشہ ور افراد کے لئے جو اس سے پہلے کسی بھی بنچ کا حصہ رہے ہوں۔

TOPPOPULARRECENT