Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / وینکیا نائیڈو کی مسلم تحفظات مخالفت پر شدید تنقید

وینکیا نائیڈو کی مسلم تحفظات مخالفت پر شدید تنقید

مرکزی وزیر کو بیان بازی زیب نہیں دیتی ، محمد علی شبیر کا ردعمل
حیدرآباد۔/4اپریل، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو کی جانب سے مسلم تحفظات کی مخالفت پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وینکیا نائیڈو کو مرکزی وزیر کی حیثیت سے یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ پسماندگی کی بنیاد پر دیئے جانے والے تحفظات کی مخالفت کریں۔ انہوں نے کہا کہ دستور ہند میں اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ پسماندگی کی بنیاد پر پچھڑے طبقات کو اونچا اٹھانے کیلئے تحفظات فراہم کئے جاسکتے ہیں۔ وینکیا نائیڈو جو مرکز میں وزیر ہیں اور طویل عرصہ سے عملی سیاست میں سرگرم رول ادا کررہے ہیں انہیں کم از کم دستور کی مخالفت میں بیان بازی سے گریز کرنا چاہیئے۔ نائیڈو نے جس انداز میں بیان دیا اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بی جے پی نہ صرف مسلمان بلکہ دیگر پسماندہ طبقات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں مسلمانوں کو موجودہ 4 فیصد تحفظات مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ سماجی، معاشی اور تعلیمی پسماندگی کی بنیاد پر ہیں۔ چونکہ تحفظات کے فوائد مسلمانوں کو حاصل ہورہے ہیں۔ لہذا وینکیا نائیڈو اسے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کی فراہمی کے وعدہ کی تکمیل کیلئے بی سی کمیشن سے رپورٹ طلب کی ہے۔ کسی بھی طبقہ کو تحفظات کی فراہمی یا تحفظات کے فیصد میں کمی کی سفارش کا اختیار صرف بی سی کمیشن کو ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانونی اور دستوری طریقہ سے تحفظات کی فراہمی کی صورت میں عدالتوں میں بھی کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی دور حکومت میں انہوں نے مسلم تحفظات کی فراہمی کے سلسلہ میں جو رول ادا کیا اس سے عوام بالخصوص مسلمان بخوبی واقف ہیں۔ ایک سے زائد مرتبہ عدالتی کشاکش کے بعد ماہرین قانون کی رائے حاصل کرتے ہوئے بی سی کمیشن کی سفارش پر مسلمانوں کو تحفظات فراہم کئے گئے جس سے ہر سال ہزاروں طلباء کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے ٹی آر ایس کو مشورہ دیا کہ وہ بی جے پی کی مخالفت کی پرواہ کئے بغیر دستوری اور قانونی طریقہ سے وعدہ کی تکمیل کے اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اتر پردیش کی طرح فرقہ وارانہ سیاست کے ذریعہ تلنگانہ میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کررہی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام بنیادی طور پر سیکولر ہیں اور وہ بی جے پی کی نفرت پر مبنی سیاست کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ تلنگانہ اور جنوبی ہند کے دیگر علاقوں میں اقتدار حاصل کرنے بی جے پی کی کوششیں محض ایک خواب بن کر رہ جائیں گی۔

TOPPOPULARRECENT