Wednesday , September 19 2018
Home / Top Stories / وینکیا نائیڈو کے توہین آمیز ریمارکس پر لوک سبھا میں اپوزیشن کا ہنگامہ

وینکیا نائیڈو کے توہین آمیز ریمارکس پر لوک سبھا میں اپوزیشن کا ہنگامہ

نئی دہلی 26 فروری (سیاست ڈاٹ کام) وزیر پارلیمانی اُمور مسٹر وینکیا نائیڈو کے توہین آمیز ریمارکس پر متحدہ اپوزیشن نے آج لوک سبھا کی کارروائی کو درہم برہم کردیا اور ان سے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا۔ اُنھوں نے کل بعض توہین آمیز ریمارکس کئے تھے۔ اپوزیشن کے احتجاج پر انھیں مجبوراً یہ کہنا پڑا کہ ان کے بیانات کا مطلب کسی کی دل آزاری یا

نئی دہلی 26 فروری (سیاست ڈاٹ کام) وزیر پارلیمانی اُمور مسٹر وینکیا نائیڈو کے توہین آمیز ریمارکس پر متحدہ اپوزیشن نے آج لوک سبھا کی کارروائی کو درہم برہم کردیا اور ان سے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا۔ اُنھوں نے کل بعض توہین آمیز ریمارکس کئے تھے۔ اپوزیشن کے احتجاج پر انھیں مجبوراً یہ کہنا پڑا کہ ان کے بیانات کا مطلب کسی کی دل آزاری یا ٹھیس پہنچانا نہیں تھا۔ ان کے اس ردعمل پر عدم مطمئن اپوزیشن ارکان نے ایوان کے وسط میں پہونچ کر احتجاج کیا جس کے نتیجہ میں ایوان کی کارروائی کو مختصر وقفہ کے لئے ملتوی کردیا گیا۔ جب ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی اس طرح کے مناظر دیکھے گئے جس کے بعد کرسیٔ صدارت کو مجبوراً دوسری مرتبہ بھی ایوان کی کارروائی کو ملتوی کرنا پڑا۔ ایوان کی کارروائی کے آغاز کے ایک گھنٹہ کے اندر ہی دو مرتبہ شوروغل کی وجہ سے کارروائی ٹھپ ہوگئی۔ اس معاملہ کو یوں ہی برقرار رکھتے ہوئے تقریباً 10 منٹ تک وقفہ صفر جاری رہا۔ جیسے ہی ایوان کی کارروائی کا آغاز ہوا وینکیا نائیڈو نے اپوزیشن کی برہمی کو محسوس کرتے ہوئے ازخود بیان دینے کے لئے اپنی بنچ سے اُٹھ کھڑے ہوکر کل ان کے ریمارکس پر شدید اعتراضات ہوئے تھے۔

اُنھوں نے کہاکہ وہ تمام پارٹیوں اور لیڈروں کا احترام کرتے ہیں۔ اُنھوں نے کل کوئی بھی غیر پارلیمانی زبان کا استعمال نہیں کیا جبکہ وہ صدرجمہوریہ کے خطبہ کے لئے تحریک تشکر میں مداخلت کررہے تھے۔ کل اپنی مداخلت کے ذریعہ وینکیا نائیڈو نے بظاہر راہول گاندھی کے خود احتسابی رخصت پر جانے کو نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ کانگریس کو بھی خود احتسابی کرنی چاہئے۔ اگر وہ یہاں ایسا نہیں کرسکتی تو اسے یہاں سے دور چلے جانا چاہئے۔ وینکیا نائیڈو نے اس وقت یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ بی جے پی حکومت کوئی آرڈیننس لانا نہیں چاہتی اور کانگریس پر الزام عائد کیاکہ وہ آرڈیننس جاری کرنے کے مسئلہ پر خراب ریکارڈ رکھتی ہے۔ ان ریمارکس پر اپوزیشن پارٹیاں برہم ہوگئیں اور اس کے بعد ایوان سے واک آؤٹ کردیا تھا۔ آج ایوان میں جب وینکیا نائیڈو کو اپوزیشن بنچوں سے احتجاج کا سامنا ہوا تو اُنھوں نے کہاکہ کل میں نے صرف اتنا کہا تھا کہ آپ کے وقت میں کیا ہوا تھا اور اب ہمارے دور حکومت میں کیا ہورہا ہے۔

موجودہ حکومت کی سوچ کے تعلق سے بھی نشاندہی کی تھی۔ بحث و جوابی بحث سیاسی نظام کا ایک حصہ ہے۔ لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ملکارجن کھرگے نے کہاکہ اپوزیشن ایوان کی کارروائی میں خلل پیدا کرنا نہیں چاہتی۔ انھوں نے ہاکہ وینکیا نائیڈو ایک سینئر لیڈر اور پارلیمانی اُمور کے وزیر ہیں، ان کا یہ فرض ہے کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلیں۔ انھیں اس طرح کے الفاظ کے استعمال کا حق نہیں ہے۔ یہ ہماری عزت کا سوال ہے۔ انھیں معذرت خواہی کرنی چاہئے اور اس طرح بیانات کو عادت نہیں بنایا جانا چاہئے۔ ہم ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔ اسپیکر سمترا مہاجن نے کہاکہ وینکیا نائیڈو نے معذرت خواہی کی ہے اور اب یہ معاملہ یہیں ختم کردیا جاتا ہے۔ اس جواب سے غیر متاثر کانگریس ارکان، بائیں بازو، ٹی ایم سی اور ایس پی کے ارکان نے ایوان کے وسط میں پہونچ کر احتجاج کیا اور حکومت کے رویہ کے خلاف نعرے لگائے۔ ایوان میں مسلسل شوروغل کو دیکھتے ہوئے کارروائی کو دو مرتبہ ملتوی کردیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT