Monday , December 18 2017
Home / دنیا / ’’ویٹو‘‘ کا استعمال نہ کرنا ہندوستان کی مستقل رکنیت کیلئے اہم

’’ویٹو‘‘ کا استعمال نہ کرنا ہندوستان کی مستقل رکنیت کیلئے اہم

یو ایس ۔انڈیا فرینڈشپ کونسل تقریب سے امریکی سفیر نکی ہیلی کا خطاب
واشنگٹن۔ 18 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مسلسل رکنیت ملنے کے بعد اب سب سے اہم بات یہ ہوگی کہ ہندوستان ’’ویٹو‘‘(مسترد) کا استعمال نہ کرے۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر نکی ہیلی نے آج یہ بات کہی اور بتایا کہ اس وقت چین اور امریکہ دنیا کی دو ایسی بڑی طاقتیں ہیں جو سلامتی کونسل کے موجودہ ڈھانچہ میں تبدیلیاں پیدا کرسکتے ہیں۔ سلامتی کونسل کی نام نہاد اصلاحات دراصل ویٹو سے ہی مشروط ہے اور اسی کے چرچے زیادہ ہوتے ہیں۔ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک روس، چین، برطانیہ، امریکہ اور فرانس ویٹو کے حامل ہیں اور کوئی بھی ملک ویٹو کے اس اختیار سے دستبردار ہونا نہیں چاہتا لہذا ہندوستان کو سلامتی کونسل کا مستقل رکن بنانے کی اہمیت اس وقت اجاگر ہوگی جب وہ (ہندوستان) ویٹو کا استعمال نہ کرے۔ یوایس۔ انڈیا فرینڈشپ کونسل کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ یو ایس کانگریس اور سینیٹ ، سلامتی کونسل کی اصلاحات میں کوئی خاص رول ادا نہیں کرسکتی۔

TOPPOPULARRECENT