Tuesday , December 19 2017
Home / سیاسیات / وی کے سنگھ اور موہن بھاگوت کے بیانات کیخلاف اپوزیشن کا احتجاج

وی کے سنگھ اور موہن بھاگوت کے بیانات کیخلاف اپوزیشن کا احتجاج

راجیہ سبھا میں کارروائی متاثر، اجلاس کا بار بار التوا، لوک سبھا میں کورم نہ ہونے پر اجلاس ایک بار ملتوی

نئی دہلی ۔ 4 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) راجیہ سبھا میں آج ایوان کا اجلاس دوپہر سے پہلے بار بار اور ایک بار دوپہر کے بعد ملتوی کردیا گیا جبکہ بی ایس پی نے پرشور احتجاج کیا۔ مرکزی وزیر وی کے سنگھ نے مبینہ طور پر دلت دشمن تبصرے کئے تھے۔ سماج وادی پارٹی نے آر ایس ایس کے سرسنچالک موہن بھاگوت کے مبینہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے تبصرہ کے خلاف احتجاج کیا۔ ایوان کا اجلاس جیسے ہی شروع ہوا اور سابق رکن ایم اے ایم راما سوامی کے انتقال پر اظہارتعزیت کیا گیا اور جو کارروائی کی جانی تھی،  ان کے کاغذات پیش کئے گئے۔ بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی یہ کہنے کیلئے کھڑی ہوئیں کہ وی کے سنگھ کے تبصرے انتہائی غم انگیز اور بدبختانہ ہیں۔ نائب صدرنشین پی جے کورین نے مایاوتی کو اس کی اجازت نہیں دی اور ان سے کہا کہ وہ پولیس کو بیان دیں۔ ان کے پارٹی ارکان ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے اور حکومت مخالف نعرہ بازی کرنے لگے۔ سماج وادی پارٹی کے نریش اگروال نے موہن بھاگوت کے مندر کی تعمیر کے بارے میں تبصرہ کا مسئلہ اٹھایا۔ کورین نے انہیں بھی اس کی اجازت نہیں دی اور خواہش کی کہ وقفہ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھائیں اور اس کیلئے نوٹس دی جائے۔ کورین نے کہا کہ موجودہ طریقہ کار قواعد کے خلاف ہے۔ بغیر نوٹس کے کوئی بیان نہیں دیا جاسکتا جس کے فوری بعد سماج وادی پارٹی ارکان ایوان کے وسط میں نعرہ بازی کرتے ہوئے جمع ہوگئے۔ دونوں پارٹیوں کی جانب سے نظم و ضبط کی برقراری پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے کورین نے ایوان کا اجلاس 15 منٹ کیلئے ملتوی کردیا۔ اجلاس کا دوبارہ آغاز ہونے کے بعد بی ایس پی ارکان دوبارہ ایوان کے وسط میں جمع ہوکر نعرہ بازی کرنے لگے جس پر وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور مختارعباس نقوی نے کہا کہ حکومت عدالت کے فیصلہ کا ایودھیا مسئلہ پر احترام کرتی ہے لیکن لوگوں کا بنیادی حق ہیکہ وہ مندر کی تعمیر سے وابستگی کا اظہار کریں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مندر کی تعمیر عدالت کے فیصلہ کے مطابق ہوگی۔ وی کے سنگھ کے مبینہ تبصرہ کے بارے میں نقوی نے بھی کہا کہ مذکورہ وزیر بار بار وضاحت کرچکے ہیں کہ انہوں نے دلت دشمن کوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن کانگریس ارکان ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے جس پر مجبور ہوکر کورین نے 12 بجے دن تک اجلاس ملتوی کردیا۔ نائب صدرجمہوریہ حامدانصاری نے اجلاس کے دوبارہ آغاز پر صدارتی نشست سنبھالی اور وقفہ سوالات کا اعلان کیا لیکن بی ایس پی ارکان دوبارہ کھڑے ہوگئے اور وی کے سنگھ کی برطرفی کا مطالبہ کرنے لگے کیونکہ انہوں نے زندہ جلادیئے جانے والے دلت بچوں کو کتے کے پلوں کے مماثل قرار دیا تھا۔ حامد انصاری نے اجلاس دوپہر 2 بجے تک ملتوی کردیا۔ لوک سبھا کا اجلاس بھی درکار ارکان کی تعداد حاضر نہ ہونے کی وجہ سے آغاز کے بعد 30 منٹ کیلئے ملتوی کردیا گیا اور دوپہر کے کھانے کے وقفہ کے بعد ڈھائی بجے دن دوبارہ شروع ہوا۔

TOPPOPULARRECENT