Monday , January 22 2018
Home / سیاسیات / وی کے سنگھ بی جے پی میں شامل

وی کے سنگھ بی جے پی میں شامل

نئی دہلی ، یکم مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سابق فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ نے جو اپنی عمر کے مسئلہ پر حکومت کے ساتھ طویل مدت تک چلی کشمکش میں مشغول رہے تھے، آج بی جے پی میں شامل ہوتے ہوئے کہاکہ یہ واحد ’’قوم پرست‘‘ پارٹی ہے جسے وہ اقتدار میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ جنرل سنگھ نے جو متعدد دیگر سابق فوجیوں کے ساتھ بی جے پی میں صدر پارٹی راجناتھ سنگ

نئی دہلی ، یکم مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سابق فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ نے جو اپنی عمر کے مسئلہ پر حکومت کے ساتھ طویل مدت تک چلی کشمکش میں مشغول رہے تھے، آج بی جے پی میں شامل ہوتے ہوئے کہاکہ یہ واحد ’’قوم پرست‘‘ پارٹی ہے جسے وہ اقتدار میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ جنرل سنگھ نے جو متعدد دیگر سابق فوجیوں کے ساتھ بی جے پی میں صدر پارٹی راجناتھ سنگھ کی موجودگی میں شمولیت اختیار کی، کہا کہ فوجی دستوں کو اس کی تائید کرنا چاہئے تاکہ کوئی ’’مستحکم، طاقتور اور قوم پرست‘‘ حکومت کی تشکیل ہو۔ ’’میں صرف بی جے پی کو نیشنلسٹ پارٹی سمجھتا ہوں،‘‘ انھوں نے اس پارٹی میں شمولیت کی وجہ بیان کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ 63 سالہ جنرل سنگھ نے جو مئی 2012ء میں سبکدوش ہوئے، کہا کہ ہم نے سرحدوں پر خدمات انجام دی ہیں اور ہمیں قوم پرست قوتوں کے ساتھ کام کرنا چاہئے۔

لہذا، ہم نے بی جے پی کے ساتھ آگے بڑھنا کا فیصلہ کیا تاکہ ایسی حکومت لاسکیں جو مستحکم اور طاقتور ہو اور قومی مفاد میں فیصلے کرے۔ بی جے پی میں جنرل سنگھ کا استقبال کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ اگر بی جے پی برسراقتدار آئے تو وہ مسلح افواج پر اچھی توجہ دے گی۔ جنرل (ریٹائرڈ) سنگھ کی بی جے پی میں شمولیت اس کے چند ماہ بعد ہوئی ہے جبکہ انھوں نے پارٹی کے وزارت عظمیٰ امیدوار نریندر مودی کا ہریانہ کے ریواڑی میں سابق فوجیوں کی ریلی میں ڈائس پر ساتھ دیا تھا۔

کلیان سنگھ کی آج بی جے پی میں واپسی
لکھنو ۔ یکم مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) سابق چیف منسٹر اتر پردیش مسٹر کلیان سنگھ کل مودی کی وجئے شنکھناڈ ریلی کے موقع پر باضابطہ طور پر بی جے پی میں دوبارہ شامل ہوجائیں گے ۔ کلیان سنگھ ایٹاہ حلقہ کی لوک سبھا میں نمائندگی کرتے ہیں تاہم وہ اس نشست سے بھی مستعفی ہوچکے ہیں۔ کلیان سنگھ اس سے قبل بھی بی جے پی میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن لوک سبھا کی رکنیت سے نا اہل قرار دئے جانے کے شبہات کے پیش نظر انہوں نے یہ فیصلہ موخر کردیا تھا لیکن وہ کل ریلی کے موقع پر شامل ہوجائیں گے ۔

TOPPOPULARRECENT