Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / و11,428ودیا والینٹرس کے عنقریب تقررات کا فیصلہ

و11,428ودیا والینٹرس کے عنقریب تقررات کا فیصلہ

تنخواہیں 8 ہزار سے بڑھا کر 12 ہزار کردی گئیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری کا بیان
حیدرآباد 23 مئی ( این ایس ایس ) ریاستی حکومت نے بہت جلد 11,428 ودیا والینٹرس کے تقررات کا فیصلہ کے ہے اور انہیں ماہانہ 12,000 روپئے تنخواہ دی جائیگی ۔ یہ تقررات آئندہ تعلیمی سال کیلئے ہونگے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری نے یہ بات بتائی ۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن کے ذریعہ 8792 باقاعدہ اساتذہ کے تقررات کو بھی منظوری دیدی ہے ۔ انہوں نے سیکریٹریٹ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ودیا والینٹرس کی موجودہ تنخواہوں کو 8 ہزار روپئے سے بڑھا کر 12,000 روپئے کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اسی اضافہ شدہ تنخواہ پر نئے ودیا والینٹرس کا تقرر بھی عمل میں لایا جائیگا ۔ کہا گیا ہے کہ ضلع کلکٹرس کو تقررات کا مجاز قرار دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ باقاعدہ تقررات میں وقت درکار ہوگا ایسے میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ودیا والینٹرس کی خدمات حاصل کرتے ہوئے متبادل انتظام کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے ریاست میں یونیورسٹیز اور کالجس میں انفرا اسٹرکچر اور سہولتوں کو بہتر بنانے کیلئے 420 کروڑ روپئے جاری کرنے سے بھی اتفاق کرلیا ہے ۔ مسٹر کڈیم سری ہری نے بتایا کہ ریاستی حکومت 34 کستوربا گاندھی ودیالیہ بھی قائم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ مرکزی حکومت نے ریاست کیلئے 84 اسکولس کے قیام کو 91.84 کروڑ روپئے کی فراہمی کے ساتھ منظوری دی ہے جبکہ ریاستی حکومت نے 110 اسکولس کے قیام کی اپیل کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی فنڈز کا استعمال کرتے ہوئے ہر ضلع میں رہائشی اسکولس قائم کئے جائیں گے اور وہاں لاوارث اور یتیم بچوں کو تعلیم فراہم کی جائے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد اور کھمم اضلاع میں ایسے اسکولس قائم ہوچکے ہیں اور دوسرے اضلاع میں یہ اسکولس جلد قائم ہونگے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے سابق وائس چانسلرس تروپتی راؤ کی رپورٹ ملنے کے بعد یونیورسٹیز میں فیکلٹی کی 1061 جائیدادوں پر بھی تقررات عمل میں لائے جائیں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ آیا ڈی ایس سی اور ٹی ای ٹ ایک ساتھ منعقد کئے جاسکتے ہیں یا نہیں ۔ کچھ اسکولس کو جونئیر کالجس میں تبدیل کرنے کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خانگی اسکولس میں فیس ڈھانچہ پر قابو اپنے کے تعلق سے بھی اقدامات کئے جائیں گے ۔

TOPPOPULARRECENT