Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / و58 ا نجینئرنگ کالجس اور طلبہ کا مستقبل غیر یقینی

و58 ا نجینئرنگ کالجس اور طلبہ کا مستقبل غیر یقینی

بعض کالجس کو قفل لگ گئے ، چند کالج عمارتیں کرایہ پر دے دی گئیں
حیدرآباد ۔ 25 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : جواہر لال نہرو ٹکنالوجیکل یونیوسٹی حیدرآباد کی حقائق معلوم کرنے والی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بعض انجینئرنگ کالجوں نے کالج بند کرنے کی درخواست پیش کیے بغیر کالجس مقفل کردئیے ہیں اور بعض کالج عمارتوں کو تو کرایہ پر دے دیا گیا ہے ۔ ایک انجینئرنگ کالج تو اسکول میں تبدیل ہوگیا ہے ۔ 58 پرائیوٹ انجینئرنگ کالجس نے سال 2016-17 کے لیے یونیورسٹی سے الحاق کی تجدید کے لیے کوئی درخواست نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جے این ٹی یو نے طلبہ کا مستقبل پیش نظر رکھتے ہوئے ان کالجس کا معائنہ کیا اور بعض بے قاعدگیوں کا پتہ چلایا ہے ۔ بعض کالجس میں کوئی مناسب اسٹاف نہیں ہے ۔ چند کالجس کو قفل لگے ہیں ۔ بعض کالجس کی عمارتیں خانگی انسٹی ٹیوٹس یا اسکولس کو کرایہ پر دی گئی ہیں ایک دو روز میں انسپکشن کا کام مکمل ہوجائے گا اور تفصیلی رپورٹ تیار کی جائے گی ۔ رجسٹرار جے این ٹی یو این یادیا نے کہا کہ ایک کمیٹی قائم کی جائے گی اور کالجس کے انتظامیہ کو موقع دیا جائے گا کہ وہ وضاحت کریں کہ الحاق یا کالج بند کرنے سے متعلق کوئی درخواست کیوں نہیں دی گئی ۔ ان کالجس کے بند ہونے سے نہ صرف ریاست میں انجینئرنگ کی نشستیں کم ہوجائیں گی بلکہ ان کالجس میں زیر تعلیم طلبہ کا کیرئیر متاثر ہوگا اور یہ طلبہ امتحانات میں حصہ نہیں لے سکیں گے ۔ طلبہ کے امتحانات میں حصہ لینے کے لیے متعلقہ کالجس کا یونیورسٹی سے الحاق ضروری ہے ۔ کمیٹی کی رپورٹ پیش ہونے کے بعد آل انڈیا کونسل فائر ٹیکنیکل ایجوکیشن اور تلنگانہ حکومت طلبہ کو دوسرے کالجس منتقل کرنے یا اس کالج میں تعلیم جاری رکھنے سے متعلق فیصلہ کریں گے ۔ رجسٹرار جے این ٹی یو نے کہا کہ اس تعلق سے جلد فیصلہ ہوگا ۔۔

TOPPOPULARRECENT