Saturday , November 18 2017
Home / ہندوستان / و71ویں یوم آزادی پرمسلمانوں میں جوش وخروش

و71ویں یوم آزادی پرمسلمانوں میں جوش وخروش

ممبئی14اگست(سیاست ڈاٹ کام )ملک کے 70ویں یوم آزادی پر ممبئی سمیت مہاراشٹر میں جشن منانے کی تیاری زوروشور سے جاری ہے اور اس جشن میں اقلیتی فرقہ ،اقلیتی تعلیمی اداروں اور تنظیموں نے ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے ۔اس موقع پر متعددمعززشخصیتوں اور شہریوں نے پیغامات دیئے ہیں تاکہ اقلیتی فرقہ بھی اس جشن میں جوش وخروش سے حصہ لے ۔مشہوروکیل ایڈوکیٹ مجید میمن اور راجیہ سبھا ممبرنے اسے ایک قومی تہوارقراردیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس آزادی کے موقع پر مفلسی ،ناانصافی،امتیازی اور مجبوری کے خلاف جنگ لڑنی ہے کیونکہ ان چیزوں کے ہم غلام بن چکے ہیں اور ضروری ہے کہ ان تمام برائیوں سے آزادی حاصل کریں۔انہوں نے کہا کہ اب وقت ہے کہ یوم آزادی کو ہمیں روایتی جوش وخروش سے منانے کے ساتھ ساتھ ان ہزاروں۔لاکھوں شہیدوں کی یاد کی جانی چاہئے ،جنہوں نے اپنا تن من دھن ملک کی آزادی کے لیے لٹا دیا اور جان کی قربانی تک دے دی۔اس کا سلسلہ ‘بھارت چھوڑدوتحریک ‘سے شروع ہوا ،جوکہ مہاتما گاندھی کی قیادت میں 75سال پہلے لڑئی گئی۔مجید میمن نے کہاکہ ہمیں غریبی ،غربت ،تشدد،امتیازی سلوک اورعدم مساوات کے لیے لڑنا ہے ،ترقی کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم روزگار، ملازمت اور مکان فراہم کرائیں اور اپنا سیاسی الو سیدھا کرنے کے لیے مذہب کے نام پر لڑانے والوں سے بھی سختی سے نمٹنا چاہئے ۔یہ کیسی آزادی ہے مفلسی ،ناانصافی اور مجبوری ہے کہ غلام بن چکے ہیں۔ان تمام برائیوں سے آزادی حاصل کرنے کی کوشش بھی کی جانا چاہئے ۔انجمن اسلام کے صدر ڈاکٹر ظہیر قاضی نے کہا کہ ایک عرصہ سے انجمن اسلام میں بڑے پیمانے پر جشن آزادی کی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں اور تقریباًسواداروں کے اساتذہ ،طلباء اور غیر تدریسی عملہ بھی شریک ہوتا ہے ۔انہوں نے یوم آزادی پر خصوصی پیغام میں کہاکہ ہم ہمیشہ ملک کی آزادی کے جشن میں شریک ہوتے رہے ہیں،کیونکہ اقلیتی فرقے کے رہنماوں نے بھی جنگ آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور پھانسی پر بھی چڑھ گئے ،آج آزادی کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT