Friday , September 21 2018
Home / سیاسیات / ٹاملناڈوکے سیاسی خلاء کو بی جے پی ہی پر کرسکتی ہے

ٹاملناڈوکے سیاسی خلاء کو بی جے پی ہی پر کرسکتی ہے

چینائی ۔ 12 ۔ نومبر : ( سیاست ڈاٹ کام) : بی جے پی کی ملک گیر پیمانہ پر یکے بعد دیگرے کامیابی نے جہاں پارٹی کے حوصلے بلند کیے ہیں وہیں پارٹی کو اس بات کا ملال بھی ہے کہ ریاست تملناڈو میں پارٹی اپنے قدم جمانے میں ناکام رہی ہے لیکن اس کے باوجود 2016 میں تملناڈو اسمبلی انتخابات میں پارٹی نے کم و بیش 122 نشستوں پر کامیابی کا نشانہ مقرر کیا ہے کیوں

چینائی ۔ 12 ۔ نومبر : ( سیاست ڈاٹ کام) : بی جے پی کی ملک گیر پیمانہ پر یکے بعد دیگرے کامیابی نے جہاں پارٹی کے حوصلے بلند کیے ہیں وہیں پارٹی کو اس بات کا ملال بھی ہے کہ ریاست تملناڈو میں پارٹی اپنے قدم جمانے میں ناکام رہی ہے لیکن اس کے باوجود 2016 میں تملناڈو اسمبلی انتخابات میں پارٹی نے کم و بیش 122 نشستوں پر کامیابی کا نشانہ مقرر کیا ہے کیوں کہ ریاست تملناڈو میں بی جے پی کی حکومت تشکیل دینے کے لیے اتنی تعداد کافی ہوگی ۔ دریں اثناء پارٹی کے ریاستی صدر تامل سائی سندر راجن نے پارٹی کے جنرل کونسل اجلاس میں ورکرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2016 میں فورٹ سینٹ جارج ( تملناڈو اسمبلی ) کو تسخیر کیا جائے گا بالکل اسی طرح جس طرح ہم نے نئی دہلی کے لال قلعہ کو تسخیر کیا ہے ( مرکز میں بی جے پی حکومت ) ۔ مرکزی وزیر مملکت برائے جہاز رانی پائی رادھا کرشنن نے بھی پارٹی ورکرس سے خواہش کی کہ وہ ریاست تملناڈو میں بی جے پی حکومت کے قیام کے لیے ابھی سے کوششیں شروع کردیں ۔ ہمیں زائد از 122 نشستوں پر قبضہ جمانا ہے جب کہ تملناڈو اسمبلی میں نشستوں کی کل تعداد 234 ہے ۔ دوسری طرف سینئیر قائد پی مرلی دھر راؤ نے بھی کہا کہ تملناڈو میں سیاست اب تبدیلی کی جانب گامزن ہے ۔ اے آئی اے ڈی ایم کے سربراہ جیہ للیتا کو جہاں غیر محسوبہ اثاثہ جات معاملہ میں سزائے قید کا سامنا ہے ،ڈی ایم کے ’’ خاندانی سیاست ‘‘ میں مصروف ہے جس نے خود اس کی بقا پر سوالیہ نشان لگادیا ہے ۔ رہی بات کانگریس کی تو اس کا نام و نشان تملناڈو سے تقریبا مٹ چکا ہے ۔ لہذا دیکھا جائے تو تملناڈو سیاست میں ایک زبردست خلاء پیدا ہوگیا ہے جسے اب بی جے پی ہی پر کرسکتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT