Sunday , October 21 2018
Home / ہندوستان / ٹاملناڈو ’’انتہاپسندوں کی تربیت گاہ‘‘ بن رہا ہے: مرکز

ٹاملناڈو ’’انتہاپسندوں کی تربیت گاہ‘‘ بن رہا ہے: مرکز

’’نکسلائیٹس و دیگر انتہاء پسندوں نے انتظامیہ کیساتھ ہاتھ ملالیا ‘‘
کوئمبتور ۔15 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر اور سینئر بی جے پی قائد رادھا کرشنن نے دعوی کیا کہ تاملناڈو ایک پرامن ریاست باقی نہیں رہی بلکہ یہ انتہاپسندوں کی تربیت گاہ بن رہی ہے۔ وہ مختلف ہندو تنظیموں اور بی جے پی کے زیر اہتمام ایک جلسہ سے خطاب کررہے تھے جو 14 فبروری 1998ء کو یہاں پر سلسلہ وار بم دھماکوں کے مہلوکین کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹاملناڈو میں نکسلائٹس، مائوسٹ ، ٹامل انتہاپسندوں اور اسلامی دہشت گردوں نے انتظامیہ کے ساتھ ہاتھ ملالیا ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ گزشتہ سال گلی کٹو کے لیے احتجاج ہوا تھا۔ مرکزی وزیر مملکتی برائے فینانس و بحری جہاز رانی نے کہا کہ یہ طاقتیں طویل مدتی تقریباً 10 تا 20 سال کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ کوئی بھی یہ جانتا کہ کیا اس کی اطلاع حکومت اور محکمہ پولیس کو ہے یا نہیں۔ گلی کٹو کی تائید میں ایک زبردست احتجاج مرینا بیچ چینائی پر اور دیگر علاقوں میں گزشتہ سال 23 جنوری کو پرتشدد ہوگیا تھا۔ آرڈیننس جاری کرنے کے باوجود احتجاج جاری رہا تھا۔

TOPPOPULARRECENT