ٹاملناڈو سیاسی صورتحال کے پیچھے بی جے پی کا کوئی رول نہیں

ریاستی اسمبلی میں پارٹی کا ایک بھی رکن نہیں ہے ۔ مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو کا بیان
حیدرآباد ۔ 11 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو نے آج کہا کہ ٹاملناڈو کی جاریہ سیاسی صورتحال میں بی جے پی کا کوئی رول نہیں ہے ۔ ٹاملناڈو کی اسمبلی میں جب پارٹی کا ایک بھی رکن نہیں ہے تو بی جے پی کو اس ریاست میں سیاسی مداخلت کرنے کی کیا ضرورت ہوگی ۔ جب پارٹی کا کوئی رکن ہی نہیں ہے تو وہاں سیاسی صورتحال کو مشتعل کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔ بی جے پی کا اس مسئلہ سے کچھ لینا دینا نہیں ہے ۔ ایم وینکیا نائیڈو نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ٹاملناڈو کی موجودہ کیفیت حکمران انا ڈی ایم کے کا داخلی معاملہ ہے ۔ ٹاملناڈو کے عوام ایک ایسے لیڈر کو منتخب کرنا چاہتے ہیں جو سابق چیف منسٹر جیہ للیتا کے نظریات کو آگے لے جاسکے ۔ فی الحال یہ معاملہ انا ڈی ایم کے کا داخلی مسئلہ ہے ۔ ہم کو بھی وہاں جو کچھ ہورہا ہے اس پر افسوس ہے ۔ آخر اس پارٹی کی داخلی کیفیت میں ہم کس طرح مداخلت کرسکتے ہیں ۔ چیف منسٹر کے لیے فیصلہ کرنا ان کا کام ہے ۔ جہاں تک گورنر کا تعلق ہے گورنر بھی دستوری فرائض کو انجام دینے کے پابند ہیں ۔ اور وہ یہی کریں گے وہ ٹاملناڈو کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے دستور کو بھی ملحوظ رکھیں گے ۔ وہ اصولوں اور رہنمایانہ خطوط پر عمل کریں گے ۔ وہ قانونی رائے بھی حاصل کریں گے۔ انا ڈی ایم کے پارٹی کے داخلی امور میں بی جے پی کی مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی نے ہمیشہ انا ڈی ایم کے کے ساتھ خوشگوار تعلقات برقرار رکھے جب سابق چیف منسٹر جیہ للیتا زندہ تھیں ۔ بی جے پی نے ان کی پارٹی سے اچھے روابط رکھے تھے اور اب بھی یہ تعلقات پارٹی کے ساتھ برقرار ہیں ۔ انا ڈی ایم میں داخلی طور پر کرسی کے حصول کے لیے رسہ کشی چل رہی ہے ۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پارٹی کے لیڈر اوپنیر سیلوم نے ششی کلا کے خلاف کھلے طور پر بغاوت کی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT