Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / ٹاملناڈو میں کانگریس ۔ ڈی ایم کے انتخابی مفاہمت

ٹاملناڈو میں کانگریس ۔ ڈی ایم کے انتخابی مفاہمت

غلام نبی آزاد کی کامیاب مساعی اور کروناندھی کی ستائش، جیہ للیتا اقتدار کی بیدخلی کا عزم
چینائی، 13 فروری (سیاست ڈاٹ کام) سری لنکا میں ٹامل باشندوں کے مسئلہ کو فراموش کرتے ہوئے کانگریس اور ڈی ایم کے آج مجوزہ اسمبلی انتخابات میں مقابلے کیلئے متحد ہوگئے ہیں جبکہ اس مسئلہ پر سال 2013 ء میں دونوں جماعتوں میں انتخابی مفاہمت میں دراڑ پیدا ہوگئی تھی۔ قومی جماعت (کانگریس) نے علاقائی پارٹی (ڈی ایم کے) کو قابل بھروسہ حلیف قرار دیا ہے جبکہ سینئر کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد نے آج صدر ڈی ایم کے پارٹی ایم کروناندھی سے ملاقات کرکے انتخابی اتحاد کو تشکیل دیا۔ ڈی ایم کے نے 3 سال قبل کانگریس پر یہ الزام عائد کرتے ہوئے تعلقات منقطع کرلئے تھے کہ اس نے سری لنکا میں ٹامل باشندوں کے ساتھ دغابازی کی ہے۔ سابق چیف منسٹر سے ان کی قیامگاہ گوپالا پورم میں ملاقات کے بعد غلام نبی آزاد نے میڈیا کو بتایا کہ مجوزہ اسمبلی انتخابات میں مقابلہ کے لئے ڈی ایم کے کیساتھ اتحاد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کروناندھی اور ڈی ایم کے کی ستائش کرتے ہوئے انھیں ایک عظیم قائد اور ایک قابل اعتماد پارٹی سے تعبیر کیا۔ انھوں نے کہاکہ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے دور سے ہی کروناندھی ہمارے ہم خیال لیڈر رہے ہیں۔ یہ دریافت کئے جانے پر 2013 ء سے 2016 ء کے درمیان کیا تبدیلی واقع ہوئی ہے کہ دونوں جماعتوں نے ہاتھ ملا لیا ہے، آزاد نے کہاکہ سیاسی مجبوریاں اور دباؤ کارفرما ہے اور یہ اُمید ظاہر کی کہ اسمبلی انتخابات میں ڈی ایم کے کی زیرقیادت اتحاد شاندار کامیابی حاصل کرے گا اور جیہ للیتا کی زیرقیادت انا ڈی ایم کے اقتدار سے بیدخل ہوجائے گی۔ واضح رہے کہ سال 2013 ء میں ڈی ایم کے نے اپنا یہ مطالبہ قبول نہ کئے جانے پر یو پی اے سے علیحدگی اختیار کرلی تھی کہ سری لنکا میں ٹامل باشندوں پر سرکاری مظالم کے خلاف اقوام متحدہ میں سخت الفاظ میں مذمت کروانے کیلئے ہندوستانی پارلیمنٹ میں ایک قرارداد منظور کی جائے۔ اس وقت کی کانگریس حکومت نے اس مطالبہ کو مسترد کردیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT