Wednesday , December 19 2018

ٹاملناڈو کو 177.25 ٹی ایم سی پانی دینے کرناٹک کو ہدایت

کاویری تنازعہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ، بنگلورو میں خوشی چینائی میں برہمی
نئی دہلی۔16 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے کرناٹک کو اپنے بین ریاستی بیلی گنڈلو ڈیم سے ٹاملناڈو کو دریائے کاویری کا 177.25 ٹی ایم سی پانی جاری کرنے کی ہدایت کی۔ فیصلہ میں وضاحت کی کہ کرناٹک کے لیے اب بالاتر 14.75 ہزار ملین مکعب فٹ پانی کا اضافی حصہ ہوگا جبکہ ٹاملناڈو کو 404.25 ٹی ایم سی پانی حاصل ہوگا۔ جوٹربیونل کی طرف سے 2007 میں مختص کردہ حصہ ہے۔ 14.75 ٹی ایم سی فٹ کم ہے۔ قبل ازیں کاویری آبی تنازعہ سے متعلق ٹربیونل کی طرف سے 2007ء میں دیئے گئے فیصلے کے مطابق کرناٹک کو 270 ٹی ایم سی فٹ کا حصہ دیا گیا تھا۔ جو اب 284.75 ٹی ایم سی ہوگیا ہے۔ چیف جسٹس دیپک مصرا کی زیر قیادت بنچ نے یہ فیصلہ دیا جس کا طویل عرصہ سے انتظار کیا جارہا تھا۔ ٹربیونل کی طرف سے 2007ء میں دیئے گئے فیصلے کے خلاف کرناٹک، ٹاملناڈو اور کیرالا کی دائر کردہ اپیلوں کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے گزشتہ سال 20 ستمبر کو یہ فیصلہ محفوظ کردیا تھا۔ اس بنچ میں جسٹس امیتاور رائے اور جسٹس اے ایم کھانویلکر بھی شامل ہیں۔ چیف جسٹس مصرا نے فیصلہ کا اہم حصہ پڑھتے ہوئے کہا کہ آبی تنازعہ سے متعلق ٹربیونل کے 2007ء میں دیئے گئے فیصلے کے مطابق کیرالا کو 30 ٹی ایم سی اور پڈوچیری کو 7 ٹی ایم سی پانی کی سربراہی کا حکم کسی تبدیلی کے ببغیر بدستور برقرار رہے گا۔ عدالت عظمی نے ٹاملناڈو کو کاویری طاس سے 10 ٹی ایم سی زائد پانی حاصل کرنے کی اجازت دی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کرناٹک کے لیے کاویری کے پانی کے حد میں 14.75 ٹی ایم سی اضافہ اس لیے کیا گی کہ بنگلورو میں رہنے والوں کے لیے 10 ٹی ایم سی زیر زمین پانی اور پینے کے لیے 4.75 ٹی ایم سی پانی کی ضرورت ہے۔ بنچ نے اپنے فیصلہ میں کم پینے کے پانی کو اولیا ترجیح حاصل رہے گی اور کاویری سے پانی کی تخصیص کا حکم آئندہ 150 سال تک باقی و برقرار رہے گا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ پر کرناٹک نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ تاہم ٹاملناڈو نے ذہنی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کیرلا نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ پڈوچیری نے عدالت عظمی کے فیصلہ کو دور رس نتائج کا حاصل قرار دیا اور کہا کہ اس سے کسانوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ ٹاملناڈو میں اپوزیشن جماعتیں بھی اس فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے جبکہ کرناٹک میں بھی اپوزیشن بی جے پی نے الزام عائد کیا کہ اگر موثر پیروی کی جاتی تو کرناٹک کو مزید اضافی پانی بھی دستیاب ہوسکتا تھا۔

TOPPOPULARRECENT