Thursday , May 24 2018
Home / اداریہ / ٹاملناڈو کی سیاست

ٹاملناڈو کی سیاست

ٹاملناڈو کی سیاست میں استحکام لانے اور فرقہ پرستوں کے بڑھتے اثر کو روکنے کے لیے جنوبی ہند کے اداکار کمل ہاسن نے اپنی سیاسی پارٹی کے قیام کا اعلان کیا ۔ ایک اور فلم اسٹار رجنی کانت کی جانب سے سرگرم سیاست میں داخل ہونے کی خبروں نے اس ٹامل ریاست میں سیاسی طاقت کا محور تبدیل ہونے کا اشارہ دیدیا ہے ۔ جیہ للیتا کے انتقال کے بعد ٹاملناڈو میں سیاسی استحکام کا مسئلہ پیدا ہوا ہے ۔ اپوزیشن پارٹی ڈی ایم کے نے اپنے رائے دہندوں کو بکھرنے نہیں دیا ہے لیکن اب اگر کمل ہاسن کے سیاسی نظریہ اور ان کی پالیسیاں سیکولرازم کی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں تو ان کی جانب سے قائم کی جارہی پارٹی کے حق میں سیکولر عوام کی تائید حاصل ہوگی ۔ جنوبی ہند کا رائے دہندہ سیکولر مزاج کا ہے ۔ اس لیے یہاں فرقہ پرستوں کی سیاست زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی ۔ کمل ہاسن نے بھی اپنے سیاسی عزائم کو تقویت دینے کے لیے ٹاملناڈو کے شہر مدورائی سے ریاست گیر یاترا نکالنے کا آغاز کیا ۔ یہ شہر ٹاملناڈو کی سیاسی سوچ کا مرکز مانا جاتا ہے ۔ رامیشورم میں سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر عبدالکلام کی رہائش گاہ سے اپنے سیاسی عزائم کا آغاز کرنے کی ایک نیک شگون مانتے ہوئے عوامی حمایت کے بل بوتے پر اگر کمل ہاسن آئندہ انتخابی مہم چلا کر ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو جنوبی ہند میں فلم اسٹارس کے سیاسی دور کا احیاء ہوجائے گا ۔ سابق میں ٹاملناڈو میں ایم جی رامچندرن اپنی سیاسی طاقت کو ناقابل تسخیر بنایا تھا ۔

ایم جی رامچندرن کے خطوط پر این ٹی راما راؤ نے آندھرا پردیش میں تلگو دیشم پارٹی قائم کر کے علاقائی پارٹی کو ایک نئی طاقت و جیت عطا کی تھی ۔ حالیہ برسوں میں ٹاملناڈو میں فلمی دنیا کی شخصیتیں سرگرم سیاست سے غائب تھیں اب کمل ہاسن اور رجنی کانت میدان سیاست میں اپنے قدم جمانے کوشاں ہیں ، مگر ان دونوں کے سیاسی سماجی نظریہ میں فرق پایا جاتا ہے ۔ کمل ہاسن نے اپنے سیکولر موقف کو واضح کیا ہے جب کہ رجنی کانت کا جھکاؤ فرقہ پرست پارٹی کی جانب دکھائی دے رہا ہے ۔ اس خصوص میں کمل ہاسن نے یہ بھی واضح کردیا کہ وہ رجنی کانت کی سیاسی پارٹی سے اتحاد کرنے تیار ہیں ، بشرطیکہ یہ پارٹی ’’زعفرانی ‘‘ نظریہ سے ہم آہنگ نہ ہو ۔ ان کا اشارہ بی جے پی کی طرف ہے ۔ کمل ہاسن کے سیاست میں خاص کر ٹاملناڈو کی سیاست میں پیدا ہونے والے ٹھہراؤ کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ جنوبی ہند کے ان دو سوپر اسٹارس کے نظریات میں بہت بڑا فرق پایا جاتا ہے ۔ رجنی کانت نے اپنے سیاسی عزائم کے اظہار کے ساتھ ہی بی جے پی کی جانب جھکاؤ کا مظاہرہ بھی کیا ہے ۔ لیکن سیاست میں کب کیا ہوتا ہے یہ کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا ۔ اگر رجنی کانت بھی سیکولر مزاج کو ترجیح دے کر اپنے زعفرانی نظریہ کو ترک کرتے ہیں تو جنوبی ہند میں دو سوپر اسٹارس کی ایک مضبوط سیاسی قوت بن سکتی ہے ۔ کمل ہاسن نے اپنی سیاسی پارٹی کے مستقبل کے بارے میں واضح کیا کہ اگر ان کی پارٹی کو عوام کی اکثریتی ووٹ نہیں ملتے ہیں تو وہ عوام کا فیصلہ قبول کریں گے اور آئندہ انتخابات تک اس قوت ارادہ کے ساتھ سرگرم سیاست میں مصروف رہیں گے ۔ کمل ہاسن نے دہلی کی عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال کے سیاسی سفر سے حوصلہ پایا ہے ۔ ملک کے موجودہ فرقہ پرستانہ سیاسی ماحول میں اروند کجریوال نے اپنی منفرد شناخت بنائی ہے تو کمل ہاسن بھی اپنے غیر جانبدارانہ اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے نظریہ کے ساتھ میدان سیاست میں کامیاب ہوسکتے ہیں ۔ مگر کمل ہاسن کے میدان سیاست میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے سے قبل ہی ان کے سیاسی مخالفین نے تنقیدیں بھی شروع کردی اور کمل ہاسن کے سیاسی عزائم کو کاغذ کے پھولوں سے تعبیر کیا جن میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی ۔ کمل ہاسن نے ٹاملناڈو کی قدیم پارٹی ڈی ایم کے کی قیادت کے ان تبصروں کے جواب میں کہا کہ میں کاغذی پھول نہیں بلکہ میں ایک بیج ہوں مجھے ’ بوئے ‘ تو میں پروان چڑھوں گا ۔ اس میں شک نہیں کہ ڈی ایم کے پارٹی ایک قدیم اور عوامی تحریک لانے والی پارٹی ہے ۔ اس پارٹی کے بانیان میں سی این انا دورائی اور ایم کروناندھی ہیں لیکن ٹاملناڈو کے سیاسی حالات میں ڈی ایم کے اور انا ڈی ایم کے پارٹیوں کا سیاسی مستقبل غیر یقینی کیفیت سے دوچار ہے ۔ ایسے میں کمل ہاسن کی نئی پارٹی اپنے سیکولر نظریات سے آگے بڑھتی ہے تو اس پارٹی کو جنوبی ہند کی تمام ریاستوں میں عوام کی تائید ملنا یقینی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT