Monday , December 11 2017
Home / ہندوستان / ٹاپرس کی فہرست میں دھاندلیوں کے ملزم کے ساتھ مرکزی وزیر کے تعلقات

ٹاپرس کی فہرست میں دھاندلیوں کے ملزم کے ساتھ مرکزی وزیر کے تعلقات

ٹوئٹر پر تصویری ثبوت پیش ، صدر آر جے ڈی لالو یادو اور ڈپٹی چیف منسٹر بہار تیجسوی یادو کا ادعا
پٹنہ۔13 جون (سیاست ڈا ٹ کام) جیسا کو تیسا جواب دیتے ہوئے راشٹریہ جنتادل کے سربراہ لالو یادو اور ڈپٹی چیف منسٹر تیجسوی یادو نے آج بہار کے انٹرمیڈیٹ امتحانات کے نتائج میں ہیراپھیری کرنے والے اصل سرغنہ بچہ رائے کے ساتھ مرکزی وزیر گری راج سنگھ کی ایک تصویر جاری کی ہے۔ جس سے دونوں میں قربت ظاہر ہوتی ہے۔ ملو پرساد اور تیجسوی یادو نے اپنے ٹوئٹر اکائونٹ پر یہ تصویر جاری کرتے ہوئے بی جے پی سے حقائق دریافت کیئے ہیں۔ آر جے ڈی سربراہ نے سوال کیا کہ اب بی جے پی کیا جواب دیتی ہے۔ یاد کرو اس وزیر کے مکان سے کروڑہا روپئے کیسے برآمد ہوئے ۔ یہ رقم کس کی تھی، ان کے فرزند اور ڈپٹی چیف منسٹر بھی گری راج سنگھ کو تنقید کا نشانہ بنانے میں شامل ہوگئے جو کہ مرکزی مملکتی وزیر ایم ایس ایم ای اور نوئیڈا سے رکن پارلیمنٹ ہیں۔ تیجسوی یادو نے بتایا کہ اصل ملزم (بچہ رائے) کے مرکزی وزیر کے ساتھ خوشگوار تعلقات ہیں جو کہ کالج کی تقاریب میں شرکت کرتے ہوئے ٹاپرس میں انعامات تقسیم کرتا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کالج میں یہ تمام دھاندلیاں ان کی ترغیب سے ہوئی ہیں۔ ممکن ہے کہ مودی جی کے وزیر ملزم کے تعان سے ایک میڈیکل کالج قائم کرنا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ بچہ رائے، ضلع ویشالی میں واقع وشون رائے کالج کا سکریٹری و پرنسپل ہے اور باور کیا جاتا ہے کہ وہ بہار انٹرمیڈیٹ امتحانات میں طلباء کے رینکس کے ردوبدل کا اصل ملزم ہے جس پر ریاست بھر میں زبردست تنازعہ اور تنقیدوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ رائے کو گزشتہ ہفتہ گرفتار کرلیا گیا تھا۔ آرٹس اور سائنس کے مضمون میں سرفہرست طلبہ روبی رائے اور سراب سرشٹا کا تعلق بچہ رائے کالج سے ہے۔ اس پر بی جے پی نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ بچہ رائے اور لالو یادو میں ساز باز سے رینکس میں دھاندلیاں کی گئی ہیں۔ سینئر بی جے پی لیڈر سشیل کمار مودی نے کہا ہے کہ بہار انتخابات میں تیجسوی یادو اور تیج پرتاپ کی کامیابی کے لئے لالو یادو سے زیادہ بچہ رائے نے کام کیا تھا تاہم بی جے پی کے خلاف لالو اور تیجسوی کے تازہ حملے سے بہار کی سیاست میں لفظی جنگ شروع ہوئی ہے۔ دریں اثناء مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے یہ وضاحت کی ہے کہ دیگر سیاستدانوں کی طرح وہ بھی مختلف مقامات پر پروگراموں میں شریک ہوتے ہیں۔ جبکہ انٹرمیڈیٹ امتحانات میں بے قاعدگیوں کی بنیادی وجہ چیف منسٹر نتیش کمار کے ماتحت نظام کی ناکامی ہے۔ نائب صدر بی جے پی بہار یونٹ سنجئے میوخ مرکزی وزیر کی مدافعت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت گری راج سنگھ اور بچہ رائے کی تصویر ظاہر کرتے ہوئے اپنا داغ مٹانا چاہتی ہے جو کہ ایک عوامی تقریب میں لی گئی تھی۔ تاہم جنتادل (متحدہ) کے ترجمان اعلی اور ایم ایل سی سنجے سنگھ نے زععفرانی پارٹی کے استدلال کو مسترد کردیا اور بتایا کہ گری راج سنگھ ایک داغدار سیاستداں ہیں جن کے مکان سے دو کروڑ روپئے برآمد ہوئے تھے اور بچہ رائے نے خود یہ اعلان کیا ہے کہ ایک مرکزی وزیر کے ساتھ میڈیکل کالج کے قیام کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ کیا یہ دونوں میں ساز باز ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں ہے؟ انہوں نے مرکزی وزیر کے خلاف تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT