Wednesday , September 26 2018
Home / کھیل کی خبریں / ٹاپ آرڈر بیٹسمین کی ناکامی شکست کی اہم وجہ

ٹاپ آرڈر بیٹسمین کی ناکامی شکست کی اہم وجہ

مانچسٹر ۔ 10 اگست (سیاست ڈاٹ کام)کپتان مہیندر سنگھ دھونی نے ٹاپ آرڈر بیٹسمین کی مایوس کن کارکردگی پر شدید افسوس کا اظہار کیا جس کی وجہ سے ہندوستان کو انگلینڈ کے خلاف چوتھے ٹسٹ میں ایک اننگز اور 54 رنز سے شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اس شکست کا فیصلہ پہلے دن ہی ہوچکا تھا جب ہندوستان نے ناموافق موسمی حالات میں بیٹنگ کا ف

مانچسٹر ۔ 10 اگست (سیاست ڈاٹ کام)کپتان مہیندر سنگھ دھونی نے ٹاپ آرڈر بیٹسمین کی مایوس کن کارکردگی پر شدید افسوس کا اظہار کیا جس کی وجہ سے ہندوستان کو انگلینڈ کے خلاف چوتھے ٹسٹ میں ایک اننگز اور 54 رنز سے شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اس شکست کا فیصلہ پہلے دن ہی ہوچکا تھا جب ہندوستان نے ناموافق موسمی حالات میں بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ ہندوستان اس وقت 8 رنز پر 4 وکٹس کھو چکا تھا اور آخرکار 152 رنز کے معمولی اسکور پر ساری ٹیم آؤٹ ہوگئی تھی۔ کپتان دھونی نے ٹسٹ میچ کا فیصلہ صرف تین دن میں ہوجانے کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسکور کو آگے بڑھاتے رہنا کافی اہمیت کا حامل ہے۔ نمبر 7، 8، 9، 10 اور 11 بیٹسمین کو اب تک سیریز میں ٹاپ آرڈر کی ناکامی کا بوجھ سنبھالا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ لارڈس میں بھی ٹاپ آرڈر کے ناقص مظاہرہ کے باوجود ہم میچ جیتے تھے لیکن ہم نے اس اہم پہلو کو نظرانداز کردیا کہ ٹاپ آرڈر بیٹسمین خاطر خواہ رنز اسکور نہیں کررہے ہیں۔

دھونی نے برہمی کے انداز میں یہاں تک کہہ دیا کہ ’’ہمارے پانچویں نمبر کے بولر ٹاپ آرڈر بیٹسمین سے زیادہ رنز بنارہے ہیں‘‘۔ مین آف دی میچ اِسٹارٹ براڈ (6/25) نے پہلی اننگز میں غیرمعمولی مظاہرہ کیا تھا لیکن دوسری اننگز انگلینڈ کے آف اسپنر معین علی (4/39) کی رہی جنہوں نے حریف ٹیم کو سنبھلنے کا کوئی موقع نہیں دیا تھا۔ دھونی نے انگلینڈ کی بولنگ کی کافی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ اس وکٹ پر انگلینڈ نے اچھی بولنگ کی۔ میچ کا پہلا گھنٹہ کافی اہمیت کا حامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ بیٹنگ کے شعبہ میں بہتری ضروری ہے اور ٹاپ پانچ تا چھ بیٹسمین کو زیادہ رنز اسکور کرنا ہوگا۔

اس شکست سے ہمیں کافی مایوسی ہوئی۔ ہندوستانی بیٹسمنوں نے دوسری اننگز میں کوئی خاص مظاہرہ نہیں کیا اور وہ 161 رنز پر آل آؤٹ ہوگئے۔ 215 رنز کی سبقت سے پیچھے رہ جانے والی ہندوستانی ٹیم کیلئے دو دن کا وقت تھا لیکن اس کے بیٹسمین دوسری اننگز کے تیسرے دن تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئے۔ دھونی نے موسمی پیش قیاسی کے بارے میں بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہ پتہ نہیں کہ کل کا موسم کیسا ہوگا، لیکن ہمارے لئے اہمیت اس بات کی تھی کہ آج ہم اچھا مظاہرہ کرتے۔ ہندوستانی کپتان نے کہا کہ اب وقت آچکا ہے کہ ہندوستانی بیٹسمین ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور اچھی شروعات کو ایک بڑے اسکور میں تبدیل کریں۔ انہوں نے کہا کہ کئی بیٹسمین طویل عرصہ سے کرکٹ کھیل رہے ہیں اور انہیں میچ کی صورتِ حال کا اندازہ لگانے کا کافی تجربہ ہے چنانچہ وہ خود سمجھ سکتے ہیں کہ انہیں کس طرح کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ 60 اوورس ایک بڑا نشانہ ہے اور آپ زیادہ سے زیادہ 3 تا 4 اوورس تک کیلئے منصوبہ بندی کرسکتے ہیں۔ اسی نشانہ کے مطابق بیٹسمین کو اپنا مظاہرہ کرنا چاہئے۔

اکثر بیٹسمین شروعات تو اچھی کررہے ہیں لیکن وہ ایک بڑا اسکور کھڑا کرنے میں معاون ثابت نہیں ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو اچھی شروعات ہے، اسے بڑے اسکور میں بدلا جانا ضروری ہے۔ معین علی پھر ایک بار ہندوستان کے لئے خطرہ ثابت ہوئے اور انہوں نے چار میچس میں اب تک 19 وکٹس حاصل کئے ہیں۔ وہ جاریہ سیریز میں سب سے زیادہ کامیاب اسپنر کے طور پر ابھرے ہیں اور جیمس اینڈرسن 21) وکٹس) سے پیچھے ہیں۔ دھونی نے کہا کہ معین علی نے مستقل مزاجی کی کیفیت پائی جاتی ہے اور وہ اچھی بولنگ کررہے ہیں۔ ہمیں اُن پر دباؤ بنانا ہوگا اور اگر ہم ایسا کریں گے تب فاسٹ بولرس کو زیادہ بولنگ کرنی ہوگی۔ معین علی کے خلاف ہمارا لائحہ عمل یہی ہے۔ پجارا کے بارے میں ایک مشکل فیصلہ کیا گیا لیکن دوسروں کیلئے انہوں نے اچھی بولنگ کی تھی، تاہم دھونی نے بولنگ اَٹیک کی ستائش کی، بالخصوص روی چندرن اَشون کی انہوں نے تعریف کی جنہوں نے نہ صرف اچھی بولنگ کی بلکہ بیٹنگ میں بھی ان کا مظاہرہ اچھا رہا۔ ایسے وقت جبکہ ہندوستانی وکٹس مسلسل گر رہے تھے، اس وقت اشون نے 46 کی صورت میں سب سے زیادہ رنز بنائے۔ انہوں نے کہا کہ اشون نے پھر ایک بار ثابت کردیا کہ وہ اچھی بیٹنگ کرسکتے ہیں اور کسی بھی پوزیشن پر رنز بنا سکتے ہیں۔ اگر ہم دو اسپنرس کو رکھیں تو 4 یا 5 دن تک میچ کو برقرار رکھا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT