Monday , July 16 2018
Home / دنیا / ٹرمپ، سفری امتناع کے قانون پر مکمل عمل آوری کے خواہاں

ٹرمپ، سفری امتناع کے قانون پر مکمل عمل آوری کے خواہاں

ہونولولو ۔ 21 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ٹرمپ انتظامیہ نے امریکہ کی سپریم کورٹ سے اپیل کی ہیکہ بیرونی شہریوں کے سفر امریکہ پر عائد تازہ ترین امتناع کو اس کی مکمل روپ میں اطلاق کی اجازت دی جائے۔ یاد رہیکہ گذشتہ ہفتہ ایک وفاقی پیلس کورٹ نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ان کے تازہ ترین سفری امتناع کے قانون کو جزوی طور پر عمل آوری کی اجازت دی تھی۔ یو ایس کی 9 ویں سرکٹ کورٹ آف اپیلس نے ٹرمپ انتظامیہ کو چھ مسلم ممالک کے شہریوں کی امریکہ آمد پر اس وقت تک امتناع عائد کرنے کی اجازت دی تھی تاوقتیکہ وہ یہ ثابت نہ کردیں کہ ان کا کوئی قریبی رشتہ دار امریکہ میں آباد ہے۔ گذشتہ ماہ ہوائی کے ایک وفاقی جج نے ٹرمپ کے تیسرے سفری امتناع پر عمل آوری کو عین اس وقت روک دیا تھا جب اس کے اطلاق کی پوری تیاریاں ہوچکی تھیں۔ میری لینڈ کے ایک جج نے سفری امتناع کو علحدہ طریقہ سے کچھ کم ’’سختیوں‘‘ کے ساتھ یہ کہہ کر عمل آوری کی اجازت دی تھی کہ ٹرمپ انتظامیہ چاڈ، ایران، لیبیا، صومالیہ، شام اور یمن کے شہریوں پر امتناع عائد کرسکتا ہے لیکن اس کیلئے شرط یہ ہوگی کہ اگر ان کا کوئی حقیقی رشتہ دار امریکہ میں آباد ہو تو پھر ان کے امریکہ کے سفر پر امتناع عائد نہیں کیا جاسکتا۔ یہی نہیں بلکہ شمالی کوریا اور ونیزویلا کے کچھ سرکاری عہدیداروں اور ان کے ارکان خاندان پر بھی امریکہ کا سفر کرنے امتناع عائد کیا گیا ہے تاہم اس امتناع کو چیلنج نہیں کیا گیا۔ دوسری طرف جو عرضداشت پیر کے روز امریکہ کے محکمہ انصاف کی جانب سے داخل کی گئی ہے اس میں سپریم کورٹ سے یہ خواہش کی گئی ہیکہ ہوائی کے جج کے فیصلہ کو زیرالتواء رکھا جائے۔

TOPPOPULARRECENT