Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / ٹرمپ، ہندوستان کے ساتھ بہترین تعلقات استوار کریں گے

ٹرمپ، ہندوستان کے ساتھ بہترین تعلقات استوار کریں گے

یوایس۔ انڈیا پالیٹیکل کمیٹی کے ارکان کا ٹرمپ سے اظہاریگانگت، دولت اسلامیہ اور ملازمتیں اہم موضوعات
نیویارک ۔ 11 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کی ایک یو ایس ۔ انڈیا پالیٹیکل ایکشن کمیٹی کا کہنا ہیکہ نومنتخبہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو اب ملک کی معیشت میں بہتری، امیگریشن قوانین کے اطلاق اور ایشیاء میں دہشت گردی کے صفائے کیلئے کارروائی کا آغازکردینا چاہئے۔ کمیٹی نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ ٹرمپ کی صدارت میں ہند ۔ امریکہ تعلقات مزید بہتر ہوں گے۔ یو ایس۔ انڈیا پالیٹیکل ایکشن کمیٹی (USINPAC) نے سب سے پہلے ڈونالڈ ٹرمپ کو انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کی اور ان تمام ہندوستانی نژاد امریکی شہریوں کی ستائش کی جنہوں نے ٹرمپ کی انتخابی مہمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور فنڈریزنگ کی۔ اس دوران USINRPAC کے انڈیانا صدرنشین اور ساتھ ہی ساتھ ٹرمپ ۔ پنس کیمپین کیلئے ایشیائی شہریوں کے صدرنشین راجو چنتھالا نے ٹرمپ کی جیت کو تاریخی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی تاریخ میں 2016ء کے صدارتی انتخابات کے نتائج سب سے زیادہ حیرت انگیز رہے جس نے امریکہ میں سیاسی نظام کو ہی تبدیل کرکے رکھ دیا۔ لہٰذا اب اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ڈونالڈ ٹرمپ امریکہ کیلئے بہترین صدر ثابت ہوں گے

اور ہندوستان کے ساتھ ان کے تعلقات بہترین نوعیت کے ہوں گے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کو ہندوستانی نژاد امریکی شہریوں کی بھرپور تائید حاصل رہے گی۔ تاہم انہیں ملک کی معیشت کو دوبارہ پٹریوں پر لانے، دولت اسلامیہ ایشیاء میں دہشت گردی سے نمٹنے فوری اقدامات کرنے چاہئے۔ ہندوستانی۔ نژاد امریکی برادری انہیں تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتی ہے اور ٹرمپ کے شانہ بشانہ کام کرنے کا عزم کرتی ہے۔ دوسری طرف آر این سی کی قومی کمیٹی کی خاتون جہدکار ہرمیت کورڈھلون نے بھی ٹرمپ کی شاندار فتح پر انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں اب ایک نئے دور کا آغازہوگا جہاں تمام امریکی اور ہندوستانی نژاد امریکی شہریوں کو یکساں مواقع میسر ہوں گے۔ اب چونکہ ٹرمپ نے یہ اشارے بھی دیئے ہیں کہ ان کے (ٹرمپ) انتظامیہ میں بہترین صلاحیتوں کے حامل افراد کو خوش آمدید کہا جائے گا لہٰذا اس زاویہ سے بھی دیکھا جائے تو ہندوستانی نژاد امریکی شہریوں کا سنہرا مستقبل اب ان کے سامنے ہے کیونکہ ٹرمپ اپنی زیادہ تر توجہ ٹیکس میں کٹوتی اور ملازمتوں کی جانب مرکوز رکھیں گے۔

انہوں نے عزم کر رکھا ہیکہ وہ امریکی شہریوں کی ملازمتیں امریکہ سے باہر نہیں جانے دیں گے۔ جہاں تک ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا تعلق ہے تو اس میں سرفہرست دولت اسلامیہ کا صفایا ہے۔ بعدازاں ناٹو سے معاہدہ، روس سے بہتر تعلقات، شام میں  جاری جنگ اور غیرقانونی ایمیگریشن انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ دوسری طرف لاس اینجلس سے ملنے والی خبروں کے مطابق ایک امریکی وفاقی جج نے ’’کلاس۔ ایکشن لاء سوٹ‘‘ جو نومنتخبہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی اب غیرکارکرد ہوئی یونیورسٹی معاملہ میں ملوث وکلاء کی یہ کہہ کر حوصلہ افزائی کی ہے اس معاملہ کا ’’عدالت کے باہر سمجھوتہ‘‘ کرلیا جائے۔ ٹرمپ کے اٹارنی ڈینیئل پیٹروسیلی نے جج کو بتایا کہ ٹرمپ جنہیں اس معاملہ میں بطور گواہ طلب کیا گیا ہے، 28 نومبر کو سان ڈیگو مقررہ سماعت میں شاید حاضر نہ ہوسکیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مقدمہ میں اب ایک تحریک التواء پیش کریں گے تاکہ مقدمہ کی سماعت کو کئی ماہ تک ملتوی کردیا جائے تاکہ اس دوران ڈونالڈ ٹرمپ 20 جنوری کو بطور امریکی صدر حلف لینے کی تقریب کیلئے مکمل تیاری کرسکیں۔

TOPPOPULARRECENT