Thursday , September 20 2018
Home / Top Stories / ٹرمپ ، امریکی کانگریس ارکان کی نظر میںاحمق ، خبطی اور شرابی

ٹرمپ ، امریکی کانگریس ارکان کی نظر میںاحمق ، خبطی اور شرابی

واشنگٹن6 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کے صدر ڈونالڈٹرمپ کے بارے میں ان کے قریبی رفقاء کے بیانات پر مبنی تصنیف ‘فائر اینڈ فیوری : انسائیڈ دی ٹرمپ وائٹ ہاؤس’ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں ان کے دوست ٹرمپ کو‘ایک بچے کی مانند سمجھتے ہیں’۔امریکی سینئر صحافی مائیکل وولف کی تصنیف کی مارکیٹ میں آمد کے ساتھ ہی ‘بیسٹ سیل’ کی فہرست میں شامل ہو گئی ہے۔اے ایف پی کے مطابق ڈونالڈٹرمپ نے کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے ‘فریب اور مکمل جھوٹ’ پر مبنی کتاب قراردیا۔این بی سی کو انٹرویو میں مائیکل وولف نے بتایا کہ ‘وائٹ ہاؤس میں سب کہتے ہیں کہ وہ (ٹرمپ) ایک بچے کی طرح ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے اپنی ہر بات پر فوری تعریف کی ضرورت ہوتی ہے’۔دوسری جانب ٹرمپ نے حسب روایات ٹویٹ کیا کہ ‘میں نے کبھی مائیکل وولف کو وائٹ ہاؤس میں داخلے کی اجازت نہیں دی، یہ کتاب جھوٹ، بددیانتی اور غلط بیانی پر مبنی ہے’۔ٹرمپ کی ٹویٹ پر مائیکل وولف نے جواب دیا کہ ‘میں نے صدر ٹرمپ سے ضرور گفتگو کی لیکن ان کی نظر میں وہ انٹرویو آن ریکارڈ تھا یا نہیں، مجھے نہیں معلوم، لیکن یقیناً وہ آف دی ریکارڈ نہیں تھا’۔کتاب کی مقبولیت میں مرکزی کردار ڈونالڈٹرمپ کے سابق فوجی حکمت عملی کے ماہر اسٹیوبینن کا انٹرویو ہے، جس میں کہا گیا کہ ‘صدر ٹرمپ کے بیٹے کی روسی حکام سے ملاقات ‘غداری’ کے زمرے میں آتی ہے’۔اسٹیوبینن نے وولف کو انٹرویو میں بتایا کہ صدر ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ ‘بالکل عقل سے پیدل ہے’ ، صدارتی امیدوار بننے کے خواب دیکھ رہی ہیں۔کتاب میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی کانگریس کے متعدد اراکین بشمول اسٹیو میونچ اور ریننک پریبس نے ٹرمپ کو ‘احمق’ قرار جبکہ گرے ہون نے ‘خبطی’ اور ایچ آر میک ماسٹر نے ‘شرابی’ قرار دیا۔امریکی ذرائع ابلاغ نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ یونیورسٹی پروفیسر برائے ماہر نفسیات ڈاکٹر بینڈے لی نے ڈونالڈٹرمپ کی ذہنی حالات پر ڈیموکریٹس کو تفصیل سے آگاہ کیا تھا۔ڈاکٹر بینڈے لی نے گزشتہ مہینے کے اوائل میں بعنوان ‘ خطرناک کیس اسٹیڈی آف ڈونالڈٹرمپ: 27 نفسیاتی اور ذہنی ماہرین کا صدر کا تجزیہ’ سے متعلق تحقیقی مقالہ لکھا۔مائیکل وولف نے کہا ہے کہ ایک ایسا شخص میری صداقت پر تنقید کررہا ہے، جس کی اپنی شخصیت کے بارے میں دنیا کے کسی خطے میں کوئی مثبت رائے نہیں رکھتا۔مصنف نے بتایا کہ میں نے صدر ٹرمپ کے ساتھ رہنے والوں سے گفتگو کی، میرے پاس ریکارڈنگ اور نوٹس موجود ہیں، جو کچھ تحریر کیا مجھے اس پر مکمل اطمینان ہے۔

TOPPOPULARRECENT