Wednesday , August 15 2018
Home / Top Stories / ٹرمپ اور کم جونگ ان کی تاریخی ملاقات ‘ قیام امن کی سمت پیشرفت

ٹرمپ اور کم جونگ ان کی تاریخی ملاقات ‘ قیام امن کی سمت پیشرفت

SINGAPORE, JUNE 12:- U.S. President Donald Trump shakes hands with North Korea's leader Kim Jong Un after they signed documents that acknowledged the progress of the talks and pledge to keep momentum going, after their summit at the Capella Hotel on Sentosa island in Singapore June 12, 2018. REUTERS-13R

ہم شمالی کوریا کے تحفظ کی ضمانت دینے تیار ۔ صدر امریکہ ۔ شمالی کوریائی لیڈر کا علاقہ کو نیوکلئیر ہتھیاروں سے مکمل پاک بنانے کے عہد کا اعادہ

سنگاپور 12 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) شمالی کوریائی لیڈر کم جونگ ان نے آج عہد کیا کہ وہ امریکہ سے سکیوریٹی ضمانت کے عوض مکمل نیوکلئیر ترک اسلحہ کیلئے کام کرینگے جبکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آج کم جونگ ان سے تاریخی ملاقات کے بعد اپنے دورہ سنگاپور کا اختتام کیا ۔ اس چوٹی ملاقات کے نتیجہ میں نہ صرف علاقہ میں کشیدگی کم ہوسکتی ہے بلکہ اس کے جغرافیائی و سیاسی حالات میں بھی تبدیلی آسکتی ہے ۔ ٹرمپ نے اس ملاقات کے موقع پر کہا کہ گذرے ہوئے کل کے تنازعات کو آئندہ کل کی جنگ میں نہیں بدلنا چاہئے ۔ دونوں قائدین کی چار گھنٹوں تک تفصیلی بات چیت ہوئی ہے ۔ ٹرمپ نے اس بات چیت کو دیانتدارانہ ‘ راست اور تعمیری قرار دیا ہے ۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ کم جونگ ان نے جزیرہ نما کوریا کو نیوکلئیر اسلحہ سے مکمل پاک بنانے کے عہد کا اعادہ کیا ہے اور انہوں نے اس بات سے بھی اتفاق کیا ہے کہ وہ اپنے ملک میں میزائیل انجن کی ایک تجربہ گاہ کو بھی تلف کردینگے ۔ ٹرمپ نے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم دونوں ملکوں کے مابین ایک نئے باب کو رقم کرنے تیار ہیں۔ یہ ملاقات کسی امریکی صدر اور شمالی کوریائی لیڈر کے مابین اولین ملاقات رہی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ جنوبی کوریا کے ساتھ امریکی فوجی مشقوں کو بھی روک دینگے ۔ یہ اقدام شمالی کوریا کیلئے راحت کا باعث ہوسکتا ہے کیونکہ اس نے ہمیشہ ان مشقوں کی مخالفت کی ہے ۔

صدر امریکہ نے تاہم اعلان کیا کہ نیوکلئیر تجربات کیلئے شمالی کوریا پر جو تحدیدات عائد ہیں وہ فی الحال برقرار رہیں گی ۔ اس ملاقات کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ٹرمپ اور کم جونگ ان نے جامع ‘ گہرائی کے ساتھ اور سنجیدگی کے ساتھ تبادلہ خیال کیا ہے اور اس میں جن مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے ان میں دونوں ملکوں کے مابین نئے تعلقات کا قیام اور دیرپا قیام امن بھی شامل ہے ۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ شمالی کوریا کیلئے تحفظ و سلامتی کی ضمانت فراہم کرنے تیار ہیں اور شمالی کوریائی لیڈر کم جونگ ان نے جزیرہ نما کوریا کو نیوکلئیر ہتھیاروں سے مکمل پاک کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے جنگی قیدیوں کے تبادلہ کے تعلق سے بھی اتفاق کیا ہے ۔ اس دستاویز پر دونوں قائدین کی دو بدو ملاقات کے بعد دستخط کئے گئے اور اس موقع پر صرف مترجمین ہی موجود تھے ۔ اس کے بعد توسیعی ملاقات ہوئی جس میں دونوں ملکوں کے اعلی مصالحت کار اور مشیران بھی موجود تھے ۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے ایک دستاویز پر دستخط کئے ہیں جو شمالی کوریا کو نیوکلئیر ہتھیاروں سے پاک کرنے کے عزم پر مشتمل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ‘ شمالی کوریا کے ساتھ ایک نئی تاریخ رقم کرنے تیار ہے ۔

انہوں نے کہا کہ کم جونگ ان نے ان سے کہا ہے کہ شمالی کوریا نے پہلے ہی ایک میزائیل انجن تجربہ کو تلف کردیا ہے ۔ انہوں نے اس کی مزید کوئی وضاحت نہیں کی ۔ نیوکلئیر ترک اسلحہ کے تعلق سے سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ہم یہ عمل بہت جلد شروع کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ آئندہ ہفتے بھی ایک اجلاس منعقد ہوگا جس میں مکمل نیوکلئیر ترک اسلحہ کے عمل پر تفصیلی جائزہ لیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس معاہدہ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کے ساتھ آئندہ ہفتے ایک اجلاس ہوگا جس میں تفصیلات کو قطعیت دی جائیگی ۔ اس سلسلہ میں جنوبی کوریا ‘ جاپان اور چین کے ساتھ بھی مشاورت ہو رہی ہے ۔ ٹرمپ کی پریس کانفرنس ایک گھنٹہ طویل رہی ۔ شمالی کوریا کے مستقبل کے معاشی ماڈل کے تعلق سے سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ اس تعلق سے فیصلہ کرنا خود شمالی کوریا کا کام ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کے بہترین سمندر ہیں اور وہاں رئیل اسٹیٹ کو ترقی دی جاسکتی ہے ۔ قبل ازیں ٹرمپ نے کہا کہ یہ چوٹی ملاقات کسی کی بھی توقع سے زیادہ بہتر رہی ہے ۔ ٹرمپ نے کہا کہ آج جو ملاقات ہوئی ہے اس پر انہیں فخر ہے ۔

ٹرمپ ۔ کم جونگ بات چیت ’’صدی کی اہم ترین بات چیت‘‘
سیول ۔ 12 جون (سیاست ڈاٹ کام) جنوبی کوریا نے کم جونگ ان اور امرکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان ہوئی ملاقات اور بات چیت کو ’’صدی کی اہم ترین بات چیت‘‘ سے تعبیر کیا ہے حالانکہ دونوں قائدین کے درمیان صرف ایک ہی موضوع زیربحث آیا جو پہلے سے ہی ایجنڈہ پر موجود تھا اور وہ تھا کوریائی جزیرہ نما کو نیوکلیئر توانائی سے پاک کرنا۔ دونوں قائدین حالانکہ دیگر موضوعات پر بھی بات کرسکتے تھے لیکن فی الحال انہوں نے یہ معاملہ مستقبل کی ملاقاتوں کیلئے چھوڑ دیا ہے۔ سیول میں ہر طرف دونوں قائدین کے کٹ آؤٹس آویزاں کئے گئے ہیں۔ ہر سڑک اور اہم شاہراہ پر دونوں قائدین کی تصاویر نظر آرہی ہیں۔ سب سے زیادہ خوش ہیں صدر مون جے ان جو خود بھی کوریائی جزیرہ نما کو نیوکلیئر لعنت سے پاک کرنا چاہتے ہیں۔

ٹرمپ نے اپنی خصوصی کار ’’ دی بیسٹ‘‘ کم جونگ کو دکھائی
سنگاپور۔ 12 جون (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آج اپنی صدارتی لیموزین کار کو جسے ’دی بیسٹ‘ کہا جاتا ہے، مکمل طور پر یعنی اس کے اندرونی حصے شمالی کوریا قائد کم جونگ ان کو بتائے۔ کپیلا ہوٹل میں دونوں قائدین نے ملاقات کے بعد کچھ دیر چہل قدمی کی اور وہاں سے سیدھے ٹرمپ کی کار کی جانب چلے گئے جو آٹھ ٹن وزنی اور مکمل طور پر بلیٹ پروف ہے۔ وہاں موجود ایک سیکریٹ ایجنٹ نے کار کا دروازہ کھولا اور کم جونگ نے مسکراتے ہوئے کار کے اندر جھانکا۔ کہا جاتا ہیکہ لیموزین ’’دی بیسٹ‘‘ کے دروازے اتنے ہی وزن دار ہیں جتنے بوئنگ ۔ 757 طیارے کے ہوتے ہیں۔ ٹرمپ جتنی دیر اپنی خصوصی کار کی خوبیاں بتاتے رہے اتنی دیر تک کم جونگ صرف مسکراتے رہے۔ ان کے چہرے کے تاثرات سے ایسا نہیں لگ رہا تھا کہ وہ ٹرمپ کی کار سے مرعوب ہیں۔

چوٹی ملاقات سے قبل نیند نہیں آئی : مون جے ان
سنگاپور ۔ 12 جون (سیاست ڈاٹ کام) جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان نے آج ایک ایسا بیان دیا جو کسی ملک کے قائد کے اس احساس کو اجاگر کرتا ہے جو ایک عام آدمی کا بھی تاثر ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ اور شمالی کوریائی قائد کم جونگ ان کی ملاقات نے دل و دماغ کو اتنا ماؤف کردیا کہ وہ رات بھر سو نہیں سکے۔ یاد رہیکہ جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر میں آج مون اور دیگر عہدیداروں نے جنوبی کوریا کے کابینی اجلاس سے قبل چوٹی ملاقات کا راست ٹیلی کاسٹ دیکھا۔ جس وقت ٹرمپ اور کم جونگ کی ملاقات ہوئی اس وقت مون جے ان مسکرانے لگے۔ یاد رہیکہ مون جے ان نے بھی حالیہ دنوں میں کم جونگ ان سے دو بار ملاقات کی تھی اور ٹرمپ کے ساتھ چوٹی کانفرنس کیلئے مون کے رول کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

TOPPOPULARRECENT