Saturday , June 23 2018
Home / Top Stories / ٹرمپ بالآخر کم جونگ سے ملاقات اور بات چیت پر آمادہ

ٹرمپ بالآخر کم جونگ سے ملاقات اور بات چیت پر آمادہ

ماہ مئی میں ملاقات متوقع، تاریخ کا تعین نہیں ہوا
شمالی کوریا پر تحدیدات بدستور عائد رہیں گی
جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان سب سے زیادہ خوش
واشنگٹن ؍ سیول ۔ 9 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ بالآخر شمالی کوریا کے قائد کم جونگ ان سے ملاقات کرنے پر رضامند ہوگئے ہیں۔ وائیٹ ہاؤس سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہیکہ دونوں قائدین توقع ہیکہ مئی میں ملاقات کریں گے اور اس طرح شمالی کوریا کے میزائل اور نیوکلیئر پروگرام کو لیکر دونوں ممالک کے درمیان کئی ماہ سے جاری کشیدگی ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ دونوں قائدین کی ملاقات کی راہ اب ہموار نظر آرہی ہے کیونکہ ٹرمپ اور کم جونگ کی ملاقات پر کسی بھی ملک نے کوئی اعتراض نہیں کیا ہے بلکہ جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی سنگ میل سے تعبیر کیا اور کہا کہ اس طرح اب کوریائی جزیرہ نما کو نیوکلیئر سے پاک کرنے ہم صحیح سمت پر گامزن ہوئے ہیں۔ مون جے ان کے اس بیان کو ان کے ایک ترجمان نے آج پڑھ کر سنایا جہاں کم جونگ کی جانب سے ٹرمپ کو ملاقات کی پیشکش کرنے اور ٹرمپ کی جانب سے اس پیشکش کو قبول کرنے پر ٹرمپ پر تعریفوں کی بارش کی گئی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہیکہ ٹرمپ نے بات چیت کی دعوت قبول کرتے ہوئے نہ صرف شمالی و جنوبی کوریا بلکہ دنیا کے ہر اس شخص کو خوش کردیا ہے جو امن پسند ہے۔ یاد رہیکہ خود مون جے ان ماہ اپریل میں کم جونگ سے ایک سرحدی موضع میں ملاقات کرنے والے ہیں۔ شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان 70 سالہ طویل ’’دشمنی‘‘ کے بعد ٹرمپ کا ماہ مئی میں جونگ سے ملاقات کیلئے رضامند ہونا یقینا ایک نئی تاریخ رقم کرنے کے مترادف ہے۔ دوسری طرف اگر ہم تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ کس طرح جنوبی کوریا کے بعض سینئر قائدین نے امریکہ کا دورہ کرتے ہوئے ٹرمپ کو کم جونگ کی جانب سے بات چیت کی پیشکش کیلئے مدعو کیا۔ انہوں نے زبانی طور پر اس کا اعلان کیا۔ اگر یہ ملاقات ہوتی ہے تو یہ یقینی طور پر دونوں ممالک کے قائدین کے درمیان ہونے والی اپنی نوعیت کی پہلی ملاقات ہوگی۔ دوسری طرف ٹرمپ نے اپنے ٹوئیٹ میں بھی ملاقات کا تذکرہ کیا۔ تاہم فوری طور پر یہ وضاحت بھی کردی کہ جب تک شمالی کوریا کے نیوکلیئر پروگرام ترک کرنے کو قطعیت نہیں دی جاتی اس وقت تک شمالی کوریا پر عائد تحدیدات بدستور برقرار رہیں گی۔

یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہیکہ کم جونگ ان سے جنوبی کوریا کے نمائندوں کے ساتھ بھی نیوکلیئر پروگرام ترک کرنے کے موضوع پر بات چیت کی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ جب تک بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا شمالی کوریا کوئی نیا میزائل ٹسٹ نہیں کرے گا جو یقینی طور پر ایک اچھی علامت ہے لیکن شمالی کوریا پر عائد تحدیدات کو برخاست نہیں کیا جائے گا۔ ملاقاتوں کے منصوبے بنتے رہتے ہیں، ٹوٹتے رہتے ہیں لیکن نیوکلیئر پروگرام ترک کرنے کو قطعیت دینا بیحد ضروری ہے۔ یاد رہیکہ حالیہ دنوں میں کم جونگ ان اور ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان کافی تلخ کلامیاں بھی ہوئی تھیں جہاں دونوں نے ایک دوسرے کے ممالک کو نیست و نابود کرنے کی دھمکیاں بھی دی تھیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروںنے بھی اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا کا امریکہ سے بات چیت کیلئے راضی ہونا ایک اچھی علامت ضرور ہے لیکن ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی امریکہ کے سابق صدور کی پالیسیوں سے کافی مختلف ہے لہٰذا یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ بات چیت کے باوجود شمالی کوریا پر عائد تحدیدات برقرار رہیں گی۔ دوسری طرف کم جونگ ان نے تحریری طور پر کوئی پیغام نہیں دیا ہے بلکہ محض زبانی پیغام کے ذریعہ بات چیت پر آمادگی کا اظہار کیا گیا ہے اور زبان کا کیا بھروسہ؟ وہ کبھی بھی پلٹ سکتی ہے۔ اسی دوران جنوبی کوریا کے قومی سلامتی مشیر چونگ۔ اوئی ۔ یانگ جنہوں نے اپنے ملک کے ایک وفد کی جاریہ ہفتہ پیانگ یانگ کے دورہ کے وقت قیادت کی تھی، نے بھی ٹرمپ اور ان کی قومی سلامتی کی ٹیم سے ملاقات کی تھی۔ بہرحال اب دیکھنا یہ ہیکہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے کیونکہ شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان جس نوعیت کی ’’سردجنگ‘‘ جاری تھی اس سے تو یہی اندازہ ہورہا تھا کہ دونوں ممالک کہیں آمادۂ جنگ نہ ہوجائیں لیکن عالمی سطح پر جب حالات کو مزید کشیدہ پایا گیا تو شمالی کوریا تحدیدات عائد کرنے کی ضرورت پر زور دیا جانے لگا اور شاید ایسا ہی لگتا ہیکہ شمالی کوریا تحدیدات کی تاب نہ لاسکا جیسا کہ ایران کے ساتھ ہوا تھا۔ اس وقت عالمی سطح پر سب کی نظریں ماہ مئی میں ٹرمپ اور کم جونگ کی ملاقات پر لگی ہوئی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT