Monday , December 11 2017
Home / مضامین / ٹرمپ سفید فام نسل پرستی کا آئینہ

ٹرمپ سفید فام نسل پرستی کا آئینہ

ظفر آغا

لیجئے آخر وہی ہوا جس بات سے ہم نے قارئین کو پہلے ہی آگاہ کیا تھا۔ یعنی ڈونالڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر منتخب ہونے کی کگار پر پہنچ گئے۔ یہ تو اب طئیہے کہ وہ امریکہ کی ریپبلکن کنزرویٹو پارٹی کے امریکہ کے اگلے صدارتی امیدوار ہوں گے اور اکثر و بیشتر امریکی سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ امریکہ کے اگلے صدر بھی ہوں گے۔ لیکن موصوف میں ایسے کونسے لعل و گوہر پیوست ہیں کہ امریکی ووٹر ان کے دیوانے بن رہے ہیں۔ کمال تو یہ ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کا اس چناؤ مہم سے قبل امریکی سیاست سے کبھی کوئی لینا دینا ہی نہیں تھا۔ وہ تو انتہائی دولت مند امریکی تاجروں میں تھے۔ پھر وہ ایک ٹی وی شخصیت کے طور پر مشہور ہوئے اور اس بار جب امریکی صدارتی چناؤ مہم کا آغاز ہوا تو انہوں نے ریپبلکن پارٹی کی جانب سے اپنی شمولیت کا اعلان کردیا۔ ریپبلکن پارٹی کی اولین چناؤ مہم میں شروع میں امریکی میڈیا نے ان کا موازنہ ایک جوکر سے کیا کیونکہ وہ اپنی تقاریر میں عموما نہ صرف مضحکہ خیز بلکہ بے ڈھنگی اور بے ہودا باتیں کرتے تھے لیکن ان کی بے ہودا باتیں ریپبلکن پارٹی کے نمائندوں کو اس قدر بھاتی چلی گئیں کہ وہ آخر اپنی پارٹی کی جانب سے 2016 میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخاب کے واحد نمائندہ ہوگئے۔ لیکن اس بے ڈھنگی باتیں کرنے والے ڈونالڈ ٹرمپ آخر اس قدر ہردلعزیز کیوں ہیں کہ وہ میڈیا کی تمام تر مخالفت کے باوجود وہائیٹ ہاؤز پر قابض ہونے کی امید میں ہیں۔ دراصل ڈونالڈ ٹرمپ میں ایسے کوئی لعل و گوہر نہیں کہ وہ دنیا کے سب سے دولتمند اور سب سے طاقتور ملک امریکہ کے صدر بنیں۔ سچ تو یہ ہے کہ دنیا بھر کی تہذیب کا خود ساختہ ٹھیکدار ملک امریکہ کو اس وقت ایک انتہائی بدتہذیب شخص سے سامنا ہے لیکن پھر بھی ڈونالڈ ٹرمپ امریکیوں کے دل و دماغ پر چھائے ہوئے ہیں آخر کیوں؟ ڈونالڈ ٹرمپ میں کوئی ایسی خاص بات نہیں کہ وہ امریکہ جیسے ملک کی صدارت کے ایسے امیدوار ہوں کہ جو وہائیٹ ہاؤز تک پہنچ سکتا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ میں صرف اور صرف ایک خوبی ہے اور وہ خوبی یہ ہے کہ انہوں نے باسی کڑی میں اُبال دے دیا ہے یعنی شکست خوردہ اور زوال پذیر امریکہ کو دنیا کا پھر سے ایک ایسا ملک بنادینے کا خواب امریکیوں کو دکھادیا ہے کہ جو ساری دنیا پر ایک بار پھر سے حاوی ہوگا۔ ساتھ ہی ایک ایسا امریکہ جو سفید نسل پرستی میں ڈوبا ہوا ہوگا، یہاں تک کہ سیاہ فام افریقیوں، مسلمانوں اور لاطینیوں کو دوسرے درجہ کا شہری بننے کی بھی جگہ نہیں ہوگی۔ لیکن بھلا مہذب دنیا کو اس ملک کے امریکیوں کو اس اکیسویں صدی میں اس قدر قدامت پسند اور غیر مہذب قدروں میں یقین رکھنے والا ڈونالڈ ٹرمپ کیوں بھارہا ہے؟۔

انتہائی تلخ لیکن سچ اور حقیقت پر مبنی بات یہی ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ ہی امریکہ کا اصلی چہرہ ہے۔ امریکہ تہذیب کے ملمع کے نیچے ایک انتہائی مکروہ حقیقت ہے جو سفید نسل پرستی اور دنیا کو غلام بنانے کی خواہش میں غلطاں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت ایک سیاہ فام شخص امریکہ کا صدر ہے، لیکن یہ وہ امریکہ ہے جہاں بھی نیگرو یعنی سیاہ فام نسل کے افریقی نژاد لوگ باقاعدہ قانونی طور پر گوروں کے غلام تھے۔ یہ کوئی کافی پرانی بات نہیں بلکہ 1960 کی دہائی تک اس مہذب امریکہ کا یہ حال تھا کہ یہاں کے گورے سڑک کے ایک طرف چلتے تھے اور افریقی نژاد سیاہ فام لوگ سڑک کی دوسری جانب چلتے تھے۔ ابھی کوئی دو ہفتے قبل میرے ایک عزیز امریکہ سے تشریف لائے ۔وہ 1960 کی دہائی میں امریکہ ہجرت کر گئے تھے۔ انہوں نے خود مجھے یہ واقعہ بتایا کہ ان کو بہت اچھی طرح یاد ہے کہ سڑک کے کنارے اگر ایک آئسکریم والا آئسکریم بیچ رہا ہوتا تھا تو آئسکریم خریدنے کیلئے اس کے پاس گوروں اور کالوں کی الگ الگ لائن لگتی تھی۔ صرف اتنا ہی نہیں بسوں میں کالوں کے لئے سیٹیں الگ مخصوص ہوتی تھیں۔ 1960 کی دہائی میں مارٹن لوتھر کنگ نے کسی طرح سیاہ فام افریقیوں کی غلامی قانونی طور پر ختم کروائی لیکن رسی جل جائے تب بھی بل تو نہیں جاتا ہے۔ پرانی سفید نسل پرستی امریکی خون میں ایسی گھل چکی تھی کہ قانون کے آگے وہ مجبور ہوکر خاموش تو ہوگیا، لیکن اندر ہی اندر اس کے دل میں افریقی نژاد امریکیوں کے لئے نفرت کا سمندر ٹھاٹھیں مارتا رہا۔ آخر جب نوبت یاہں تک پہنچی کہ بارک اوباما جیسا ایک افریقی نسل کالا صدر بن گیا تو گورے امریکی کا خون کھول گیا اور بس وہ آپے سے باہر ہوگیا۔ جب ڈونالڈ ٹرمپ نے مہاجروں کے خلاف زہر اُگلا تو امریکہ کو وہی بے ہودا ڈونالڈ بھاگیا جو اس کے دل میں چھائی نسل پرستی کی غمازی کررہا تھا۔ بس اب گورے امریکی کو ہی لگا کہ ٹرمپ ہی وہ واحد شخص ہے جو امریکہ کو واپس 1960 کی دہائی میں لے جائے گا جہاں گورے امریکی کا مالک محض گورا ہوگا اور باقی سب دوسرے درجہ کے شہری ہوں گے۔

یہ تو تھا گورے امریکی چہرے کا ایک رُخ۔ اب ذرا اسی گورے امریکی کا دوسرا رُخ بھی ملاحظہ کیجئے۔ امریکہ دوسری جنگ عظیم سے اب تک خود کو ساری دنیا کا مالک سمجھتا رہا ہے۔ جب سوویٹ یونین کا 1990 کی دہائی میں زوال ہوگیا تو اس کے بعد امریکہ دنیا کا واحد سوپر پاور بن گیا۔ اب امریکہ کا یہ خواب تھا کہ ولایتی انگریز کا سورج دنیا میں کبھی غروب نہیں ہوتا تھا۔ ویسے ہی اب یہ وقت آگیا ہے کہ امریکہ بھی ساری دنیا پر راج کرے گا۔ تب ہی تو جارج بش کی قیادت میں امریکیneo-cons نے اکیسویں صدی کو امریکی صدی کا لقب دے دیا۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اس خواب کو پورا کرنے کے لئے امریکہ نے افغانستان اور عراق پرباقاعدہ فوجی دھاوا بول دیا۔ 1960 اور 1970 کی دہائی میں کاربیٹ بمباری کے ذریعہ امریکی فوج نے ویتنام کو تباہ و برباد کردیا تھا ۔ ویسے ہی 21ویں صدی کے اولین دور میں امریکی فوج نے افغانستان اور عراق کو روند ڈالا۔ اب یہ عالم ہے کہ امریکی فوجی مظالم سے دونوں ملک تباہ و برباد ہوچکے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ جدید امریکی تاریخ بے گناہوں کے خون میں ڈوبی تاریخ ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ دنیا کو غلام بنانے کا جو ولولہ کبھی انگریزوں کے دل میں ٹھاٹھیں مارتا تھا ویسے ہی دور جدید میں امریکہ میں بسے گوروں کے دل میں وہی جذبہ جھلک رہا ہے۔ لیکن تاریخ کے قدم اب آگے بڑھ چکے ہیں۔ بھلے ہی افغانستان اور عراق تباہ ہوگئے ہوں لیکن ان دونوں ممالک میں امریکی فوج کو شکست ہوگئی اور امریکہ کو آخر اپنی فوجیں ہٹانی پڑیں۔
ایک عام گورے امریکی کو یہ شکست برداشت نہیں ہورہی ہے تب ہی تو پھر سے دنیا پر امریکی تسلط کو قائم کرنے کا خواب دکھانے والا ڈونالڈ ٹرمپ گورے امریکیوں کی آنکھوں کا تارا بنا ہوا ہے۔ڈونالڈ ٹرمپ غیر مہذب امریکی تاریخ کا وہ گندہ آئینہ ہے جس میں گورے نسل پرست اور دنیا پر اپنا تسلط قائم کرنے والے امریکہ کی تصویر نظر آرہی ہے۔ خود کو مہذب کہنے والا امریکہ اپنے ملک کی اس کریہہ شکل کو دیکھ کر پریشان تو ہورہا ہے لیکن اب اس کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ اپنے خون میں دوڑتی اس نسل پرستی اور دنیا پرقابو پانے کی ہوس سے کیسے مقابلہ کرے۔ یہ تو اب وقت ہی بتائے گاکہ ڈونالڈ ٹرمپ وہائیٹ ہاؤز پر قابض ہونے میں کامیاب ہوگا یا نہیں۔ لیکن ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ میں موجود نسل پرستی اور دنیا پر راج کرنے کی خواہش جیسے لفظوں کو اُجاگر کررہا ہے۔ دیکھیں اب ڈونالڈ ٹرمپ کی شکل میں ابھری اس لعنت کا مقابلہ امریکہ کیسے کرتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT