Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / ٹرمپ ملک کی سلامتی اور جمہوریت سے کھلواڑ کے مرتکب

ٹرمپ ملک کی سلامتی اور جمہوریت سے کھلواڑ کے مرتکب

نیویارک ٹائمز میں شائع شدہ کومی اور فلائن سے متعلق بات چیت کی رپورٹ کا ردعمل
واشنگٹن۔ 17 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ڈونالڈ ٹرمپ جب سے امریکہ کے صدر بنے ہیں، کسی نہ کسی تنازعہ میں گھرے ہوئے ہیں۔ پہلے وہ اپنی ٹیم تشکیل دینے میں مصروف رہے اور اب یکے بعد دیگرے اعلیٰ سطحی عہدیداروں کو برطرف کرنے میں مصروف ہوگئے ہیں، جہاں اب ایک اوسط امریکی شہری کو بھی ان کی حکومت چلانے کی صلاحیتوں پر شبہ ہونے لگا ہے۔ حالیہ دنوں میں میڈیا میں جو رپورٹس شائع ہورہی ہیں، اس کے مطابق ٹرمپ اپنے سابق قومی سلامتی مشیر جیمس فلائن کے خلاف تحقیقات کو ختم کروانا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ انہیں (ٹرمپ) انتہائی خفیہ معلومات کو روس کے حوالے کرنے کے الزام کا بھی سامنا ہے۔ نیویارک ٹائمز میں شائع ہوئی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے برطرف شدہ ایف بی آئی ڈائریکٹر جیمس کومی سے کہا تھا کہ وہ جیمس فلائن کے خلاف کی جانے والی تحقیقات سے دستبردار ہوجائیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ایک بار پھر ضروری ہے کہ ٹرمپ نے ایک ایسے وقت جیمس کومی کو اچانک برطرف کردیا تھا جب وہ اس بات کی تحقیقات کررہے تھے کہ آیا ٹرمپ کے روس سے روابط ہیں یا نہیں؟ روس نے ٹرمپ کی انتخابی مہمات میں بھی دخل اندازی کی تھی یا نہیں؟ فلائن کے قومی سلامتی مشیر کی حیثیت سے استعفیٰ دینے کے بعد ٹرمپ نے کومی سے یہ درخواست کی تھی۔ فلائن پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ روس کے ساتھ ہنوز روابط میں ہیں۔ اخبار نے ایک میمو کا تذکرہ بھی کیا ہے جسے کومی نے تحریر کیا ہے اور اس میں فلائن کے استعفی کے بعد ٹرمپ سے ہوئی ملاقات کے دوران پوری بات چیت کی تفصیل پیش کی تھی جس کے مطابق ٹرمپ نے کومی سے خواہش کی تھی کہ وہ فلائن کے خلاف کوئی تحقیقات نہ کریں۔ ٹرمپ نے فلائن کو ایک اچھا شخص قرار دیا تھا اور کومی سے کہا تھا کہ انہوںنے (فلائن) کوئی غلط کام نہیں کیا ہے جس کا جواب دیتے ہوئے کومی نے بھی ٹرمپ کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے فلائن کو اچھا شخص کہا تھا۔

واشنگٹن پوسٹ نے اپنی شائع شدہ رپورٹ میں بھی لکھا ہے کہ ٹرمپ نے مبینہ طور پر انتہائی حساس اور خفیہ معلومات روسی وزیر خارجہ سرگی لاروف اور روسی سفیر سرگی کسلیاک کے ساتھ گزشتہ خفیہ وائیٹ ہاؤز میں ہوئی ملاقات کے دوران شیئر کی تھی۔ دوسری طرف وائیٹ ہاؤز نے بھی اس اچانک ہونے والے انکشافات پر فوری حرکت میں آتے ہوئے اس کی تردید کرنے میں کوئی تاخیر نہیں کی۔ ایک طرف جہاں صدر ٹرمپ جنرل فلائن کو ایک اچھا شخص قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف یہ کہہ کر کررہے تھے کہ فلائن نے ملک کی سلامتی کیلئے اہم رول ادا کیا، وہیں صدر نے کومی سے یہ کبھی نہیں کہا کہ وہ فلائن سے متعلق ہونے والی تحقیقات کو مسدود کردیں۔ صدر موصوف ملک کی لا انفورسمنٹ ایجنسیوں کا بے حد احترام کرتے ہیں اور مسٹر کوفی اور صدر کے درمیان بات چیت کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے، وہ درست نہیں ہے۔ وائیٹ ہاؤز کے عہدیدار نے شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر یہ بات بتائی۔ دریں اثناء اپوزیشن ڈیموکریٹس نے صدر ٹرمپ پر عائد کئے گئے الزامات کی تحقیقات کروانے اور ٹرمپ کے روس کے ساتھ کیا تعلقات ہیں، ان کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا۔ سینیٹ مائناریٹی قائد چارلس شومر نے کہا کہ نیویارک ٹائمز میں شائع ہوئی رپورٹ کو پڑھ کر وہ حیران رہ گئے۔ صدر موصوف اگر اس نوعیت کے تنازعات میں گھرے ہوئے رہیں گے تو ملک کی سلامتی کا کیا ہوگا۔ قانون اور ہمارے ملک کی اعظم ترین لا انفورسمنٹ ایجنسیز مذاق بن کر رہ گئی ہیں۔ دوسری طرف ایوان کی مائناریٹی لیڈر نینسی پیلوسی نے کہا کہ اگر یہ رپورٹس صحیح ہیں تو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ٹرمپ نے ملک کے قوانین سے کھلواڑ کرنے کی کوشش کی ہے جو امریکی جمہوریت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنے اختیارات عاملہ کا ناجائز استعمال کیا ہے بلکہ انصاف کے راستے میں بھی رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT