Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / ٹرمپ نے ایف بی آئی سربراہ جیمس کومی کو برطرف کردیا

ٹرمپ نے ایف بی آئی سربراہ جیمس کومی کو برطرف کردیا

روسی حکومت کے ساتھ ٹرمپ مہم کی سازباز کی تحقیقات کو دھکہ

واشنگٹن۔ 10 مئی (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ آج ایک چونکا دینے والا اور حیرت انگیز قدم اٹھاتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارہ فیڈرل بیورو آف انوسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے سربراہ جیمس کومی کو برطرف کردیا۔ کومی فی الحال ان فوجداری تحقیقاتی کی قیادت کررہے تھے کہ آیا 2016ء کے صدارتی انتخابات پر اثرانداز ہونے کیلئے ٹرمپ کی مہم نے حکومت روس سے خفیہ سازباز کی تھی۔ ان صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی مقبول امیدوار ہیلاری کلنٹن کے مقابلے سرکردہ رائیل اسٹیٹ تاجر ٹرمپ کو کامیابی ملی تھی جو اپنے مسلم دشمنی اور متنازعہ نظریات کے سبب ریپبلیکن پارٹی کے امیدوار ہونے کے باوجود خود اس پارٹی کے سرکردہ قائدین کی تائید سے محروم تھے۔ کومی کے نام مکتوب میں ٹرمپ نے کہا کہ ’’آپ کو برطرف کیا گیا ہے اور فوری اثر کے ساتھ دفتر سے ہٹایا جارہا ہے‘‘۔ 56 سالہ کومی ایف بی آئی سربراہ کی حیثیت سے 10 سالہ میعاد کے منجملہ تاحال چار سال مکمل کئے تھے۔ ٹرمپ نے کومی سے مزید کہا کہ وہ ایف بی آئی کی موثر قیادت کرنے کے قابل نہیں ہیں اور اس ادارہ پر عوام کا اعتماد و بھروسہ بحال کرنا ضروری ہے۔ کومی کے نائب اینڈریو جی مک کیبی کو کارگذار سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ ان کے اس اقدام سے سیاسی حلقے حیران ہیں اور اس سے ڈیموکریٹک اور دیگر میں یہ شبہات پیدا ہورہے ہیں کہ وائٹ ہاؤس روس کے خلاف ایف بی آئی کی جانچ کو روکنا چاہتا ہے ۔بعض ڈیموکریٹس نے ٹرمپ کے اس اقدام کو 1973کے ستمبر کی شام کے قتل عام کے مماثل بتایا ہے جس میں صدر رچرڈنکسن نے واٹرگیٹ اسکنڈل کی تفتیش کرنے والے آزادخصوصی استغاثہ کو برطرف کردیا تھا۔وائٹ ہاؤس کے افسران نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ 20جنوری کو صدر بننے والے ٹرمپ کے اس فیصلہ کے پیچھے کوئی سیاسی مقصدکارفرما ہے ۔سینٹ کے ڈیموکریٹک لیڈر چک شومر نے کہا کہ انہوں نے ٹرمپ سے کہا ہے کہ کومبے کو ہٹاکر انہوں نے بڑی فاش غلطی کی ہے نیز کہا کہ صدر نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔شومر نے کہا کہ الیکشن میں ماسکو حکومت کا کیا رول تھا، اس کی آزادانہ انکوائری ہی اب واحد راستہ ہے جس سے امریکی عوام کا اعتبار بحال ہوسکتا ہے ۔کئی ڈیموکریٹس نے کلنٹن کے ای میل کی جانچ کے طریقہ پر نکتہ چینی کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کومی کو ہٹایا جانا پریشان کن ہے ۔ یہ بیورو اور ملک کیلئے نقصان ہے ۔

TOPPOPULARRECENT