Monday , December 18 2017
Home / Top Stories / ٹرمپ وائٹ ہاوز میں محفوظ نہیں ‘ سیکریٹ سرویس بھی بچا نہیں سکتی

ٹرمپ وائٹ ہاوز میں محفوظ نہیں ‘ سیکریٹ سرویس بھی بچا نہیں سکتی

خفیہ سرویس کے سابق ایجنٹ کا ادعا ۔ ایک نوجوان کے وائیٹ ہاوز کے باڑھ پھلانگنے کے واقعہ پر تشویش

واشنگٹن 18 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ وائیٹ ہاوز میں بھی محفوظ نہیں ہیں اور اگر کوئی دہشت گرد حملہ ہوتا ہے تو سیکریٹ سرویس بھی انہیں نہیں بچاسکتی ۔ سیکریٹ سرویس کے ایک سابق ایجنٹ نے یہ بات کہی جو پہلے سابقہ صدور کی حفاظت پر معمور تھے ۔ سابق سیکریٹ سرویس ایجنٹ ڈان بونگینو نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے جبکہ ایک ہفتے قبل ہی ایک شخص کو گرفتار کیا گیا تھا جو وائیٹ ہاوز کی باڑھ پھلانگ گیا تھا اور انتہائی سکیوریٹی والی اس عمارت میں زائد از 15 منٹ تک گھومتا رہا تھا ۔ فاکس نیوز نے بونگینو کا یہ کہتے ہوئے حوالہ دیا کہ اس در انداز نے کئی الارم بجا دئے تھے ۔ یہ ایسے الارم بھی تھے جن سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ کوئی اس عمارت میں گھ آیا ہے ۔ اس شخص کو کئی عہدیداروں نے بھی دیکھا لیکن وہ اس پر کوئی شک نہیں کرسکے ۔ یہ بہت بڑی کہانی ہے ۔ بونگینو ایک وقت میں سابق امریکی صدور بارک اوباما اور جارج ڈبلیو بش کے محافظ رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ صدر وہاں ‘ وائیٹ ہاوز میں بھی ‘ محفوظ نہیں ہیں ۔ سیکریٹ سرویس کے پاس کوئی خاص انتظام نہیں ہے ۔ ان کے پاس عملہ بھی نہیں ہے جو انہیں محفوظ رکھ سکے ۔ انہوں نے ادعا کیا کہ اگر کوئی دہشت گرد حملہ ہوتا ہے تب سیکریٹ سرویس بھی صدر ٹرمپ کوبچانے میں کامیاب نہیں ہوسکتی ۔ بونگینو نے کہا کہ سیکریٹ سرویس ایک شخص پر بھی نظر رکھنے میں کمیاب نہیں ہوئی تھی اور اگر 40 دہشت گرد وائیٹ ہاوز میں گھس آئیں تو کیا ہوگا ۔ اور یقین مانئے کہ دہشت گرد اس تعلق سے سوچنا بھی شروع کرچکے ہیں۔

ایک بیان میں سیکریٹ سرویس نے کہا تھا کہ جوناتھن ٹران نامی کیلیفورنیا کا ایک 26 سالہ شخص وائیٹ ہاوز کی باڑھ پھلانگتا ہوا پایا گیا تھا ۔ یہ شخص 11.21 منٹ پر یہاں آیا تھا اور اس کی موجودگی کا پتہ 11.38 پر چلا تھا ۔ اس وقت ٹرمپ اپنی قیامگاہ میں تھے ۔ اوباما کے دور میں بھی وائیٹ ہاوز میں سکیوریٹی کے کئی نقائص سامنے آئے تھے اور اس وقت بھی کئی لوگ باڑھ کو پھلانگ کر اندر آئے تھے ۔ تاہم یہ پہلا موقع تھا کہ 20 جنوری کو ڈونالڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بن جانے کے بعد کوئی شخص باڑھ کو پھلانگ کر اندر آیا ہو۔ سیکریٹ سرویس کے بموجب ٹران نے مزید دو باڑھیں پھلانگی تھیں ان میں ایک باڑھ آٹھ فیٹ والی گاڑی کی گیٹ تھی ۔ ایک اور متعلقہ واقعہ میں سیکریٹ سرویس نے کل اس بات کا اعتراف کیا کہ حساس اطلاعات رکھنے والا ایک لیپ ٹاپ نیویارک میں اس کے ایجنٹ کے پاس سے سرقہ کرلیا گیا ہے ۔ ریپبلیکن کانگریس رکن جیسن شافیٹز صدر نشین ہاوز اوور سائیٹ کمیٹی نے دونوں ہی واقعات کیلئے سیکریٹ سرویس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اطلاعات کے بموجب ٹران نامی نوجوان باڑھ کو پھلانگ کر اندر آگیا تھا اور اگر یہ اطلاع صحیح ہے تو پھر سیکریٹ سرویس کی کارکردگی پر سوال پیدا ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ مکمل ناکامی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال اس لئے بھی سنگین ہوجاتی ہے کیونکہ ان کے خیال میں وائیٹ ہاوز ایسا مقام ہے جو روئے سرزمین پر سب سے زیادہ نشانہ بنایا جاسکتا ہے ۔ اس عمارت کی حفاظت پر کئی بلین ڈالرس خرچ کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ شخص 17 منٹ تک وہاں موجود رہا ۔ اس کا کسی کو پتہ نہیں چلا ۔ یہ وائیٹ ہاوز کے قریب ایک پلر کے پیچھے چھپ گیا ۔ کھڑکی سے دیکھ رہا تھا ۔ یہ سب کچھ اس لئے بھی اور بھی سنگین معاملہ ہے کیونکہ یہاں ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT