Saturday , December 16 2017
Home / Top Stories / ٹرمپ کابینہ کا جاریہ ہفتہ اعلان، اہم قلمدانوں کیلئے کئی ناموں پر غور

ٹرمپ کابینہ کا جاریہ ہفتہ اعلان، اہم قلمدانوں کیلئے کئی ناموں پر غور

ٹرمپ محسوس کریں گے کہ مہمات چلانے اور حکومت چلانے میں بہت فرق ہے : اوباما
واشنگٹن ۔ 15 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) سبکدوش ہونے والے امریکی صدر بارک اوباما نے آج یہ امید ظاہر کی کہ اب تمام تر ذمہ داریاں نومنتخبہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو منتقل ہونے والی ہیں اور وہ کس طرح اپنی ٹیم کا انتخاب کرتے ہیں اور ٹرمپ جو بھی کریں گے اس سے ان کی (ٹرمپ) پالیسیوں کی عکاسی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اب ٹرمپ کو احساس ہوجانا چاہئے کہ انتخابات کے چلائی جانے والی مہمات اور حکومت کرنے میں بہت زیادہ فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈونالڈ ٹرمپ اب امریکہ کے 45 ویں صدر بننے جارہے ہیں۔ عوام نے اپنا فیصلہ سنادیا ہے تاہم اب یہ ڈونالڈ ٹرمپ پر منحصر ہے کہ وہ اپنے ساتھ کام کرنے والی کیسی ٹیم کا انتخاب کرتے ہیں۔ اوباما نے کہا کہ امریکی شہریوں کی کثیر تعداد ایسی ہوگی جنہوں نے ٹرمپ کو ووٹ نہیں دیا۔ تاہم انہیں بھی اب سمجھ لینا چاہئے کہ جمہوریت اسی طرح کام کرتی ہے۔ یہ نظام اس طرح کارکرد رہتا ہے۔ اوباما نے خود اپنا زمانہ یادکرتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی تو ان لوگوں کو بہت صدمہ ہوا تھا جو مجھے اور میری پالیسیوں کو پسند نہیں کرتے تھے۔

انہوں نے وائیٹ ہاؤس میں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے یہ ریمارک اس وقت کیا جب ان سے ٹرمپ کے ذریعہ بعض متنازعہ تقررات کئے جانے کے بارے میں سوال پوچھا گیا تھا۔ اوباما نے کہاکہ خاص طور پر جب عوام کو اپنا متوقع صدر نہیں مل پاتا تو آنے والے نئے صدر کو مسلمہ قرار دینے میں عوام کو وقت درکار ہوتا ہے۔ ہلاری اور ٹرمپ کے درمیان انتخابات کا جو تلخ تجربہ ہوا ہے اس کے بعد امریکی شہریوں کو ٹرمپ کو بطور صدر قبول کرنے میں تھوڑا وقت لگے گا۔ اوباما نے کہاکہ ٹرمپ کے انتخابی مہمات کے دوران انہوں نے جو بیانات دیئے تھے اور اپنے حامیوں سے جو وعدے کئے تھے، وہ ان کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کررہے ہیں کیونکہ وہ ان کانگریسیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی بات بھی کہہ رہے ہیں جو ان سے (ٹرمپ) متفق نہیں تھے اور ان حلقہ رائے دہی کا دورہ کرنے کی بات بھی کہہ رہے ہیں جہاں کے رائے دہندوں نے انہیں ووٹ نہیں دیا۔ دوسری طرف ٹرمپ اور صدر روس ولادیمیر پوٹن کے درمیان ٹیلیفون پر بات چیت بھی ہوئی جہاں دونوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول کے مطابق بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

سب سے پہلے پیوٹن نے ٹرمپ کو انتخابات میں تاریخی فتح حاصل کرنے پر مبارکباد دی اور بعدازاں اہم موضوعات جیسے مشترکہ خطرات، اسٹریٹیجک معاشی معاملات اور امریکہ ۔ روس تاریخی تعلقات پر بات چیت کی گئی۔ یہ سمجھا جارہا ہیکہ ٹرمپ اپنی کابینہ کی تشکیل کیلئے بیحد مصروف ہیں۔ ان کے قریبی رفقاء کا کہنا ہیکہ اس تعلق سے جاریہ ہفتہ کسی بھی وقت اعلانات کئے جاسکتے ہیں۔ نومنتخبہ نائب صدر مائیک پنس جو صدر کی ٹرانزیشن ٹیم کے سربراہ بھی ہیں، آج ٹرمپ سے ملاقات کیلئے نیویارک پہنچ رہے ہیں۔ ٹرانزیشن کمیونکیشن ایڈوائزر جیسن ملر نے بتایا کہ نومنتخبہ صدر اور نائب صدرکئی ناموں پر غوروخوض کریں گے۔ دوسری طرف امریکی میڈیا میں بھی ٹرمپ کابینہ سے متعلق تشویش پائی جاتی ہے جس کیلئے مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ یہ سمجھا جارہا ہیکہ وزیرخارجہ کے عہدہ کیلئے نیویارک کے سابق میئر روڈی گیولیانی اور اقوام متحدہ کے سابق سفیر جان بولٹن کے درمیان زبردست مسابقت ہے جبکہ کابینہ کیلئے جن دیگر اہم ناموں پر غوروخوض کیا جارہا ہے ان میں سینیٹر جیف سیشنس، سینیٹر باب کارکر اور امریکی ایوان نمائندگان کے سابق اسپیکر نیوٹ گنگریچ کے نام شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT