Sunday , July 22 2018
Home / دنیا / ٹرمپ کا اسرائیل کو پہلی بار آباد کاری معاملہ میں تحمل برتنے کا انتباہ

ٹرمپ کا اسرائیل کو پہلی بار آباد کاری معاملہ میں تحمل برتنے کا انتباہ

واشنگٹن،12فروری (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پہلی بار اسرائیل کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں کو آباد کرنے میں تحمل سے کام لے ،اگر ایسا نہیں ہوا تو عمل کا معاملہ کھٹائی میں پڑسکتا ہے ۔انہوں نے اسرائیل کو متنبہ کیا ہے کہ یہودی آبادکاری کے معاملہ میں احتیاط سے کام لے کیونکہ اس سے امن عمل پیچیدگی کا شکار ہو سکتا ہے ۔انھوں نے ایک اسرائیلی اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ فلسطین اور اسرائیل امن مذاکرات کے لیے فی الحال راضی ہیں۔ انہوں نے گذشتہ برس دسمبر میں امریکی سفارتخانہ یروشلم منتقل کر نے کا فیصلہ کرکے فلسطینیوں کو ناراض کر دیا تھا۔اس کے علاوہ انھوں نے فلسطین کی امداد روکنے کی نہ صرف دھمکی دی بلکہ اسے روک بھی دیا۔ اسرائیلی اخبار’ یسرائیل ہیوم ‘کے ایڈیٹر کی جانب سے ممکنہ امریکی امن منصوبے کے بارے میں ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا تھا ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوگا۔ اس وقت فلسطین امن عمل شروع نہیں کرنا چاہتے ۔ اسرائیل کے حوالہ سے بھی میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ انہیں بھی اس میں کوئی دلچسپی ہے اس لیے ہمیں انتظار کرنا ہوگا۔یہودی بستیوں کے امن منصوبے کا حصہ ہونے سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہم ان بستیوں سے متعلق بات کریں گے ۔ ان بستیوں نے صورتحال کو ہمیشہ پیچدہ بنایا اور میرا خیال ہے کہ اسرائیل کو ان بستیوں کی تعمیر کے حوالے سے محتاط ہونا چاہیے ۔مشرقی یروشلم اور مغربی کنارہ میں 1967کے بعد سے تعمیر کی جانے والے یہودی بستیوں میں چھ لاکھ سے زائد یہودی آباد ہیں۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت یہ آبادکاری غیر قانونی ہے تاہم اسرائیل اس بات کی مخالفت کرتا ہے ۔یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے پر امریکی صدر کا کہنا تھا یروشلم کا دارالحکومت ہونا بہت سے لوگوں کے لیے ایک اہم بات تھی۔ میں نے ایک اہم وعدہ کیا تھا جو میں نے پورا کیا۔اسرائیل کا دعوی ہے کہ یہ پورا شہر اس کا دارالحکومت ہے جبکہ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ مشرقی یروشلم ان کا علاقہ ہے جس پر اسرائیل نے 1967 کی جنگ کے بعد قبضہ کر لیا۔فلسطینی رہنما محمود عباس نے کہا تھا کہ وہ اس فیصلے کے بعد امریکہ کو ثالث کی حیثیت سے مزید قبول نہیں کریں گے ۔

TOPPOPULARRECENT