Thursday , February 22 2018
Home / Top Stories / ٹرمپ کا حالیہ دورۂ ایشیاء آزاد اورکھلے انڈوپیسفیک خطہ کا مستقبل

ٹرمپ کا حالیہ دورۂ ایشیاء آزاد اورکھلے انڈوپیسفیک خطہ کا مستقبل

دوستوں اور خیر خواہوں سے ملاقات، دُشمنوں کو انتباہ
دورہ سے بین الاقوامی برادری کے دہشت گردی
کے خاتمہ کے اعتماد کو تقویت
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی کا بیان
واشنگٹن۔/16نومبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حالیہ دورہ ایشیاء سے یہ بات بالکل واضح ہوگئی کہ امریکہ ایک بار پھر عالمی قیادت کیلئے تیار ہے جبکہ اس دورہ نے شمالی کوریا کی جانب سے سیکورٹی کو لاحق خطرے کے خلاف متحد ہونے کا بھی ایک موقع فراہم کیا ہے اور عالمی برادری نے بھی اس بات کو محسوس کرلیا ہے جبکہ ایک آزاد اور کھلے انڈو پیسفیک خطہ کو فروغ دینا بھی صدر ٹرمپ کے ایجنڈہ میں شامل تھا۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے کہا کہ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایشیاء کا 12 روزہ دورہ مکمل کیا جسے ہم اُن کا کامیاب ترین دورہ کہہ سکتے ہیں۔ صدر موصوف جہاں جہاں گئے اُن کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ انہوں نے دوستوں اور خیر خواہوں سے ملاقات کی، بات چیت کی، ہنسی مذاق کیا۔ دُشمنوں کو انتباہ دیا اور امریکی عوام اور امریکی تجارت کے تئیں بھی انھوں نے غیر معمولی دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ آج بین الاقوامی برادری بھی اس بات کی خواہاں ہے کہ دہشت گردی کا مکمل طور پر صفایا ہوجائے۔ ٹرمپ کے دورہ نے اُن کے اس اعتماد کو بھی تقویت بخشی کہ دہشت گردی سے اگر متحد ہوکر نبرد آزما ہوائے تو وہ دن دور نہیں جب دنیا دہشت گردی سے مکمل طور پر پاک ہوجائے گی۔ نکی ہیلی نے ٹرمپ کے دورہ سے واپسی کے دوسرے روز اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا نے جس انداز سے اپنے نیوکلیئر بالسٹک میزائیلس کے ٹسٹوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے اُس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اُسے انسانیت سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ امریکی انتباہ کے بعد صدر موصوف اور کم جونگ کے درمیان جو لفظی جنگ چھڑ گئی تھی وہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ صدر موصوف کو کم جونگ نے ’’ بوڑھا ‘‘ تک کہہ دیا جبکہ ٹرمپ نے فراخدلانہ انداز میں کوئی خاص نوٹ نہیں لیا جبکہ میڈیا میں یہ خبریں گشت کررہی ہیں کہ ٹرمپ نے کم جونگ کو ’’ چھوٹو اور موٹو ‘‘ کہا تھا ۔ دراصل قصہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے شمالی کوریا پر جو تحدیدات عائد کی گئی ہیں اسکی وجہ سے وہ ( شمالی کوریا ) خود کو یکا و تنہا محسوس کررہا ہے اور جیسا کہ کہاوت ہے ’’ کھسیانی بلی کھمبا نوچے ‘‘ کم جونگ بھی اناپ شناپ بیانات اور کبھی کسی کاسمیٹک کمپنی کا اور کبھی کسی جوتے کی کمپنی کا دورہ کرتے ہوئے عالمی میڈیا کی توجہ اپنی شخصیت کے دوسرے رُخ کی جانب کرنا چاہتے ہیں کہ دیکھو ’’ میں صرف نیو کلیئر میزائیلس میں ہی نہیں بلکہ ملک کی دیگر صنعتوں پر بھی توجہ دیتا ہوں۔‘‘ نکی ہیلی نے کہا کہ ٹرمپ دورہ کے دوران جہاں جہاں بھی گئے انہوں نے آزاد اور کھلے تجارتی خطہ کی ضرورت پر زور دیا کہ معیشت کے استحکام کے علاوہ سیاسی طور پر خطہ کو ( انڈو۔ پیسیفک ) مستحکم کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ بھی محنتی امریکیوں کیلئے زیادہ سے زیادہ ملازمتوں کے خواہاں ہیں کیونکہ امریکہ کو اگر پائیدار خوشحالی چاہیئے تو اس کے لئے ضروری ہوگا کہ ہر امریکی کے پاس مستقل ملازمت ہو۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے نکی ہیلی نے کہا کہ صدر ٹرمپ سے وزیر اعظم آسٹریلیا ٹرنبل، وزیر اعظم چین شینزوابے کے علاوہ وزیر اعظم ہند نریندر مودی سے بھی تفصیلی ملاقات کی۔ یہی نہیں بلکہ ان تمام ممالک کے ورکنگ سطح سے تعلق رکھنے والے نمائندوں سے بھی بات چیت کی گئی۔ اس طرح اب ٹرمپ کے دورہ کے بعد نئے نئے پراجکٹس کے ذریعہ اب سرمایہ کاری ایک بار پھر امریکہ لوٹ آئے گی جہاں امریکی ورکرس کو بھی روزگار کے بھرپور مواقع حاصل ہوں گے۔ ٹرمپ نے امریکہ اور ایشیائی شراکت داری کے درمیان آزاد اور کھلی تجارت کی راہ بھی ہموار کی۔ فلپائن، جاپان، جنوبی کوریا، چین اور ویتنام کے دوروں میں ٹرمپ کا ایجنڈہ صرف ایک ہی تھا اور وہ تھا انڈو پیسیفک خطہ کی خوشحالی۔ نکی ہیلی نے کہا کہ قبل ازیں مشرق وسطیٰ کے دورہ کا بھی ٹرمپ نے سعودی عرب سے آغاز کیا تھا اور وہ دورہ بھی انتہائی کامیاب رتھا اور اب ایشیائی دورہ کو بھی امریکی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ جنوبی کوریا کی شراکت داری سے کئی اہم معاملات کا تبادلہ کیا جاسکتا ہے اور اعتماد سازی میں بھی اضافہ ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT